اُردو پوائنٹ پاکستان اسلام آباداسلام آباد کی خبریںایون فیلڈ ریفرنس: مریم نواز نے اپنے وکلاء کی موجودگی میں احتساب عدالت ..

ایون فیلڈ ریفرنس: مریم نواز نے اپنے وکلاء کی موجودگی میں احتساب عدالت جج محمد بشیر کے روبرو اپنا بیان قلمبند کروادیا

عدالت کی طرف سے دیئے گئے 127سوالات میں سی46سوالات کے جوابات دیئے, میری عمر44سال ہے۔ یہ بات درست ہے کہ میرے والد تین بار وزیراعظم اور وزیراعلیٰ بھی رہے۔ جے آئی ٹی ارکان پر تحفظات سے متعلق میرا بھی وہی موقف ہے جو نواز شریف کا تھا۔ جے آئی ٹی کا اخذ کردہ نتیجہ اور رائے غیر مناسب اور غیر متعلقہ ہے، مریم نواز

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 مئی2018ء)ایون فیلڈ ریفرنس میں مریم نواز نے احتساب عدالت اسلام آباد میں اپنا بیان اپنے وکلاء کی موجودگی میں احتساب جج محمد بشیر کے روبرو قلمبند کروایا۔ عدالت کی طرف سے دیئے گئے 127سوالات میں سی46سوالات کے جوابات دیئے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ میری عمر44سال ہے۔ یہ بات درست ہے کہ میرے والد تین بار وزیراعظم اور وزیراعلیٰ بھی رہے۔

جے آئی ٹی ارکان پر تحفظات سے متعلق میرا بھی وہی موقف ہے جو نواز شریف کا تھا۔ جے آئی ٹی کا اخذ کردہ نتیجہ اور رائے غیر مناسب اور غیر متعلقہ ہے۔ اس رائے کو ان حالات میں اس کیس میں میرے خلاف پیش نہیں کیا جا سکتا۔ 20اپریل 2017ء کے سپریم کورٹ کے فیصلے میں میرا اور میرے خاوند کا ذکر کیا تھا۔ 5مئی 2017کو سپریم کورٹ کے حکم پر جے آئی ٹی تشکیل دی گئی۔

(خبر جاری ہے)

جے آئی ٹی کے ممبر بلال رسول کی اہلیہ پی ٹی آئی کی سرگرم کارکن ہیں۔ بلال رسول کھلے عام ن لیگ کے مخالف ہیں۔ آئین کے آرٹیکل10Aفیئر ٹرائل کا حق دیتا ہے۔ جے آئی ٹی ارکان کو سپریم کورٹ نے تعینات کیا۔ جے آئی ٹی کے ارکان پر تحفظات تھے۔ جے آئی ٹی ارکان جانبدار تھے۔ بلال رسول کا تعلق ایس ای سی پی سے تھا۔ بلال رسول سابق گورنر پنجاب میاں اظہر کے حقیقی بھانجے ہیں۔

اس بات کا ثبوت میاں اظہر کے بیٹے حماد اظہر کی عمران خان سے ملاقات ہے۔ جے آئی ٹی کی خود ساختہ حتمی رپورٹ سپریم کورٹ میں دائر درخواست نمٹانے کے لئے تھی۔ ان درخواستوں کو شواہد پیش نہیں کیا جا سکتا۔ سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی کی طرف سے اکٹھے کئے گئے شواہد کی روشنی میں ریفرنس دائر کرنے کا کہا۔ عدالت نے یہ نہیں کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ کو بطور شواہد ریفرنس کا حصہ بنایا جائے۔

جے آئی ٹی نے مختلف محکموں سے خصوصی دستاویزات اکٹھی کی۔ جے آئی ٹی میں بریگیڈیئر نعمان کا تعلق آئی ایس آئی اور کامران کا تعلق ایم آئی سے تھا ان دونوں افراد کی جے آئی ٹی میں تعیناتی مناسب نہیں تھی۔ انہوں نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ ستر سال سول ملٹری جھگڑے کا بھی جے ائی ٹی پر اثر پڑا ۔ جے آئی ٹی ممبر عرفان منگی کی تعیناتی کا معاملہ ابھی تک سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے۔

میری اطلاعات کے مطابق بریگیڈیئر نعمان سعید ڈان لیکس کی انکوائری کمیٹی کا حصہ تھے۔ ڈان لیکس کی وجہ سے سول ملٹری تناؤ میں اضافہ ہوا ۔ جے آئی ٹی میں تعیناتی کے وقت نعمان سعید آئی ایس آئی میں نہیں تھے۔ نعمان بھلا کو آؤٹ سورس کیا گیا کیونکہ ان کی تنخواہ بھی سرکاری ریکارڈ سے ظاہر نہیں ہوتی۔ سماعت بروز جمعہ صبح نو بجے تک ملتوی کر دی گئی۔۔

اپنی رائے کا اظہار کریں -

اسلام آباد شہر کی مزید خبریں