صوبے کی تجوری پر وائٹ کالر ڈاکو مسلط ہیں ،سندھ کا منشی قابل اعتبار نہیں،خرم شیر زمان

وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا پیش کردہ بجٹ جھوٹ کا پلندہ ہے، بجٹ مسترد کرتے ہیں،رہنما پاکستان تحریک انصاف

بدھ جون 21:10

صوبے کی تجوری پر وائٹ کالر ڈاکو مسلط ہیں ،سندھ کا منشی قابل اعتبار نہیں،خرم ..
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 16 جون2021ء) پاکستان تحریک انصاف کراچی کے صدر ورکن سندھ اسمبلی خرم شیر زمان نے کہاہے کہ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا پیش کردہ بجٹ جھوٹ کا پلندہ ہے۔ اعدادوشمار کی دونمبری میں وزیر اعلیٰ کھلاڑیوں کے کھلاڑی ہیں۔ بجٹ کی حیثیت اندھا بانٹے ریوڑیاں اپنے اپنوں میں کے مانند ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پارٹی سیکریٹریٹ انصاف ہاوس سے جاری اپنے بیان میں کیا۔

خرم شیر زمان کا مزید کہنا تھا کہ سندھ میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی غیر فعال ہے۔ سندھ میں چیک اینڈ بیلنس کا کوئی رواج نہیں ہے۔ سندھ کے 14 سو ارب روپے کے بجٹ میں وزیر اعلیٰ نے زرداری کے چہیتوں کو نوازا ہے۔ صوبے کی تجوری پر وائٹ کالر ڈاکو مسلط ہیں ،سندھ کا منشی قابل اعتبار نہیں۔

(جاری ہے)

سندھ حکومت اسکیموں کے نام پر عوام کی جیبوں پر حملہ آوار ہورہی ہے۔

پیپلز پارٹی کے پاس صوبہ چلانے کی صلاحیت کا فقدان ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ سندھ حکومت پہلے پچھلے بجٹ میں پیش کی جانے والی اسکیموں اور منصوبوں کا حساب دے۔ سندھ حکومت نے سوائے کرپشن اور لوٹ مار کے سندھ کے عوام کے لئے کچھ نہیں کیا۔ سندھ حکومت کے وزراء سندھ کے خزانے کو دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھاکہ وزیر اعلیٰ کہتے ہیں کہ صوبے کے بجٹ سے کراچی کی ضروریات کو پورا نہیں کر سکتے لیکن جب وفاق شہر کی ترقی کے لئے منصوبے اور بجٹ دیتا ہے تو سندھ حکومت اس میں روڑے اٹکاتی ہے۔

پیپلز پارٹی نے کبھی عوام کی بھلائی اور صوبے کی ترقی کے لئے کام نہیں کیا۔ سندھ کے حکمران امیر تر اور عوام غریب تر ہوتے جارہے ہیں۔ پیپلز پارٹی نے سندھ میں بیڈ گورننس کی اعلیٰ مثال قائم کی ہوئی ہے۔ تعلیم ، صحت، پانی ، ٹرانسپورٹ اور دیگر بنیادی سہولیات عوام کی پہنچ سے دور ہوچکی ہیں۔ سندھ حکومت نے کراچی کے شہریوں سے کئے جانے والا ایک بھی وعدہ پورا نہیں کیا۔ ترقیاتی بجٹ کے نام پر عوام کو بے وقوف بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ خرم شیر زمان نے مزید کہا کہ سندھ حکومت کا پیش کیا ہوا بجٹ مسترد کرتے ہیں۔

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments