مقامی سطح پر گاڑیوں کی تیاری سے غیر ملکی کمپنیوں کی اجارہ داری ختم ہوگی ،جام اکرام اللہ

مقامی سطح پر معیاری اور سستی گاڑیوں کی پیداوار سے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے،صوبائی وزیر صنعت وتجارت کا افتتاحی تقریب سے خطاب

جمعرات ستمبر 21:03

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 24 ستمبر2020ء) صوبائی وزیر برائے صنعت و تجارت اور انسداد بدعنوانی و محکمہ امداد باہمی جام اکرام اللہ دھاریجو نے کہا ہے کہ مقامی سطح پر معیاری اور سستی گاڑیوں کی پیداوار سے نہ صرف روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ بین الاقوامی کمپنیوں کی اجارہ داری بھی ختم ہو گی۔ یہ بات انہوں نے کراچی پریس کلب میں ایمرجنگ انویشن پرائیویٹ لمیٹڈ کی تیار کردہ 70 سی سی ریوالٹ بائیک کی افتتاحی تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہی۔

اس موقع پر کمپنی کنٹری ہیڈ انور انیس نے بھی خطاب کیا۔ صوبائی وزیر جام اکرام اللہ دھاریجو نے مذید کہا کہ حکومت سندھ صوبے بھر میں صنعتی ترقی کے لئے بھرپور کوشش کررہی ہے اور حال میں وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بارشوں سے متاثرہ انڈسٹریل زونز کے انفراسٹرکچر کی بحالی کے لئے سوا ارب روپے جاری کئے ہیں جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی واضح ہدایت ہیں کہ سندھ بھر میں صنعتی ترقی کے لئے موثر اقدامات ا ٴْٹھائے جائیں تاکہ صوبے سے بیروزگاری اور غربت کا خاتمہ ہو۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس اور حالیہ بارشوں سے صنعتیں بھی متاثر ہوئیں ہیں۔ حکومت سندھ کی ہر ممکن کوشش ہے کہ صنعتی سرگرمیوں کو پوری طرح بحال کیا جائے تاہم یہ بات باعث افسوس ہے کہ سندھ میں صنعتی ترقی کے لیے وفاقی حکومت کا کردار صفر ہے اور بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ نے بھی صنعت کاروں کو شدید ذہنی اذیت میں مبتلا کررکھا ہے۔ صوبائی وزیر برائے صنعت و تجارت اور انسداد بدعنوانی و محکمہ امداد باہمی جام اکرام اللہ دھاریجو نے کہا کہ یہ بات باعث تقویت ہے کہ ایمرجنگ انویشن پرائیویٹ لمیٹڈ نے سستی اور معیاری موٹر بائیک متعارف کروائی پے اور امید ہے اس سے متوسط طبقے کے افراد کو یقینی طور پر فائدہ پہنچے گا۔

بعد ازاں صوبائی وزیر برائے صنعت و تجارت اور انسداد بدعنوانی و محکمہ امداد باہمی جام اکرام اللہ دھاریجو نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوام سانحہ بلدیہ ٹاو ٴن فیکٹری کے بارے اصل حقائق جاننا چاہتے ہیں کہ اس سانحہ کے اصل کردار کون ہیں

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments