ملک بھر کے بلدیاتی اداروں میں کام کرنے والے کنٹریکٹ ڈیلی ویجرز سینیٹری ورکرز کو مستقل کیا جائے، سید ذوالفقار شاہ

صوبہ سندھ کے بلدیاتی ملازمین کی تنخواہیں پنشن آن لائن ٹریژری سے ادا کرنے کیلئے 17 نومبر کے دھرنے کی حمایت کا اعلان

جمعرات اکتوبر 23:37

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 29 اکتوبر2020ء) آل پاکستان لوکل گورنمنٹ ورکرز فیڈریشن کے مرکزی چیئرمین سید ذوالفقار شاہ (کراچی)، صدر ملک نوید اعوان (پشاور)، سینئر نائب صدر رسول بخش شاہانی (لاڑکانہ)، نائب صدر گل نواز سواتی (لاہور)، غلام نبی کاکڑ (کوئٹہ)، عارف خان (حیدرآباد)، سوار خان (تخت بائی)، جنرل سیکریٹری ملک نصیرالدین ہمایوں (گوجرانوالہ)، ڈپٹی جنرل سیکریٹری میاں یاسین وٹو (پاک پتن)، ریاض خان (ڈیرہ غازی خان)، جوائنٹ سیکریٹریز محمد عالم سموں (اوستہ محمد)، محمد ارشد (خانیوال)، کشن لعل راجہ (نوشہروفیروز)، آرگنائزنگ سیکریٹری راجہ عاصم شہزاد (کراچی)، فنانس سیکریٹری پرویز چیدا (راولپنڈی)، سیکریٹری اطلاعات سخی بادشاہ (مردان) اور بانی رہنما غلام محمد ناز صدارتی تمغہ امتیاز نے کہا ہے کہ ملک بھر کے بلدیاتی اداروں میں کام کرنے والے کنٹریکٹ اور ڈیلی ویجرز سینیٹری ورکرز کو مستقل نہ کرنے سے ان کا مستقبل تاریک ہوگیا ہے۔

(جاری ہے)

کسی بھی اتفاقیہ حادثے کے نتیجے میں اگر وہ دوران ڈیوٹی انتقال کرجائیں تو ان کے زیر کفالت افراد مالی بحران کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ان کی ملازمتیں مستقل اور ایمرجنسی نوعیت کی ہیں لہٰذا انہیں خالی اسامیوں پر مستقل کیا جائے ۔انہوں نے لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ کے حکم پر صوبہ پنجاب کے بلدیاتی ملازمین کو بلوچستان اور کے پی کے کی طرز پر ریٹائرمنٹ پر گروپ انشورنس کی ادائیگی کرنے کے فیصلے پر عملدرآمد کا بھی مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ فیڈریشن پشاور کے چاروں ٹائونز کے ملازمین کے غیرقانونی اور بلاجواز تبادلوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں واپس لینے کا مطالبہ کرتی ہے جبکہ صوبہ سندھ کے بلدیاتی ملازمین کو آن لائن ٹریژری کے ذریعے تنخواہوں کی ادائیگی کیلئے 17 نومبر کو کراچی دھرنے کی پرزور حمایت کرتے ہوئے صوبہ سندھ کے تمام بلدیاتی ملازمین کو دھرنے میں شرکت کی ہدایت دی ہے۔

انہوں نے بلوچستان حکومت کی جانب سے بلدیاتی اداروں کے ملازمین کو دو سال سے پنشن گریجویٹی ادا نہ کرنے پر اپنی تشویش سے آگاہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر حکومت بلوچستان بلدیاتی اداروں کو فنڈ جاری کرکے ریٹائر اور فیملی پنشنرز کو پنشن اور گریجویٹی کی ادائیگی کروائے۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ گٹر لائنوں کی صفائی کیلئے بھیجے گئے عملے کو حفاظتی آلات کے بغیر گٹروں میں نہ اتارا جائے۔

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments