اپوزیشن کی کرپشن پر بات ہو تو جمہوریت خطرے میں پڑ جاتی ہے‘فیاض الحسن چوہان

مشاہد اللہ ایوان میں کھڑے ہو کر غیر پارلیمانی زبان استعمال کرتے ہیں‘کوئی غلط فہمی میں نہ رہے کہ سسٹم لپیٹا جا رہا ہے‘صوبائی وزیر

اتوار نومبر 19:10

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 نومبر2018ء) صوبائی وزیر اطلاعات و ثقافت فیاض الحسن چوہان نے کہا ہے کہ میں نے تین دن پہلے سینیٹر مشاہد اللہ خان سے ایک پریس کانفرنس کے دوران چند سوال پوچھے تھے میں اب تک ان کے جوابات کے انتظار میں ہوں۔یہ بات انہوں نے مشاہد اللہ خان کے ایک بیان کے ردعمل میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی کی بات ہے کہ ہماریاپوزیشن جماعتوں کے قائدین خواہ وہ آصف زرداری ہو، نواز شریف ہو، شہباز شریف ہو یا حمزہ شہباز ہو، نے اپنا نام جمہوریت، جمہوری اقدار یا جمہوری روایات رکھا ہوا ہے۔

لہزا جب ان کی کرپشن کی لمبی تاریخ کا حساب مانگا جائے تو ساتھ ہی جمہوریت اور جمہوری اقدار خطرے میں پڑ جاتی ہیں۔ ایسے موقع پر مشاہد اللہ جیسے لوگ منظر عام پر آکر اپنے لیڈران کی بے لاگ کرپشن پر پردہ ڈالنے لگتے ہیں۔

(جاری ہے)

مشاہداللہ صاحب کو سینیٹر کی سیٹ ان کی ایسی خدمات کے عوض ہی عطا کی گئی ہے۔میرا ابھی بھی مشاہد اللہ سے مطالبہ ہے کہ میرے ان سوالات کے جوابات دیں کہ کس منہ سے وہ سینیٹ کے فلور پر کھڑے ہو کر وزیر اعظم عمران خان اور پی ٹی آئی پر کرپشن اور اقربا پروری کا الزام لگاتے ہیں کیا انہوں نے اپنے دو بھائیوں کو گزشتہ پچیس سالوں میں پی آئی اے میں غیر قانونی ترقیاں نہیں دلوائیں اپنی بیٹی کو ایم این اے نہیں بنوایا کیا انہوں نے 80 لاکھ روپے کے سرکاری خرچے سے اپنا علاج نہیں کروایا اور سب سے بڑھ کے کراچی کے رہائشی ہونے کے باوجود پنجاب کے کوٹے پر سینیٹر نہیں بنی اس سب کے باوجود کرپشن اور اقربا پروری کا الزام عمران خان اور پی ٹی آئی پر لگاتے ان کو شرم آنی چاہیے۔

فیاض الحسن چوہان کا مزید کہنا تھا کہ میں نے اس لئے ان کو مناظرے کا چیلنج دیا تھا کیونکہ میں مشاہد اللہ کا سارا کچہ چٹھہ جانتا ہوں۔ میرا دعوی ہے کہ یہ کسی حلقے سے کونسلر کی سیٹ بھی نہیں جیت سکتے۔ میں ان کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ جب یہ وزیر ماحولیات تھے تو بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے ریاستی اداروں کے خلاف رقیق الزامات لگائے تھے۔

جس کی پاداش میں ان کو وزیر ماحولیات سے وزیر مخولیات بنا دیا گیا تھا۔ جس پر بعد ازاں یہ معافیاں مانگتے پھرتے تھے۔ میں ان کی ساری حقیقت سے واقف ہوں اسلییمشاہد اللہ صاحب کو یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ایسی بے ہودہ گوئی سے گریز کریں۔ایک سوال کے جواب میں صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ سسٹم انشااللہ تب تک نہیں الٹے گا جب تک مشاہد اللہ اور ان کے کرپٹ قائدین جیسے سیاستدانوں کو منطقی انجام تک نہ پہنچا دیا جائے۔

پاکستان تحریک انصاف کی کرپشن کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔ آل شریف اور ان کے حواریوں کا ماننا ہے کہ چمڑی جائے پر دمڑی نہ جائے۔ عدالتیں اور تحقیقاتی ادارے یہ کہہ چکے ہیں کہ یہ کرپٹ ہیں مگر یہ لوٹے گئے کھربوں میں سے لاکھوں دینے کو بھی تیار نہیں ہیں۔میں آج پھر یہ بات کہہ رہا ہوں کہ نیب ایک آزاد اور خود مختار ادارہ ہے جو وزیر اعظم کے زیر اثر نہیں ہے۔ ہم میں اور آل شریف اور ان کے حواریوں میں یہی فرق ہے کہ ہماری تربیت عمران خان نے کی ہے اسلئے اگر ہمارے خلاف نیب یا کسی بھی تحقیقاتی ادارے میں کوئی انکوائری ہو گی تو مجھ سمیت کوئی پی ٹی آئی کا نمائندہ کسی عدالت یا کسی تحقیقاتی ادارے کے خلاف کبھی بیان بازی نہیں کرے گا۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments