اوگرا نے آئل کمپنیوں کو اربوں روپے کا جھٹکا کیوں دیا؟

Oil companies in state of shock after OGRA causes loss of multiple billion rupees
وزیر اعظم عمران خان نے ایک سو دن تک اپنا آرام تیاگ کر پاکستان کی زبوں حال معیشت کو سنبھالنے اور ملک کو ناکام ریاست سے بچانے میں ایک کردیا ہے لیکن لگتا ہے ان کی ساری محنت اکارت چلی جائے گی۔انہیں اپوزیشن کی جانب سے سازشوں اور سخت تنقید کا سامنا تو ہے مگر جب کچھ ریاستی ادارے بھی اپنے فرائض سے چشم پوشی کرتے ہوئے معیشت کو کمزور کرنے کی سازشوں میں لگ جائیں گے توعمران خان کے خواب چکنا چور ہونے سے کون بچا پائے گا ۔
وہ بیرون ملک سے سرمایہ داروں کو پاکستان لارہے ہیں جبکہ حالت یہ ہے پاکستانی سرمایہ دار قومی اداروں کی غلط پالیسیوں کی بدولت پریشان ہوئے چلے جارہے ہیں ۔اسکی ایک مثال اوگرا کا غافلانہ کردارہے۔وہ کیسے ؟ اسکا اندازہ کوئی بھی اقتصادی ماہر باآسانی لگا سکتا ہے کہ اوگرا کی غفلت یا مجرمانہ حرکت کی وجہ سے جب پاکستان میں تیل امپورٹ کرنی والی مارکیٹنگ کمپنیا ں اسکے ناروا سلوک کی وجہ سے تیل درآمد کرنا بند کردیں گی تو تیل کا بحران پیدا ہونے سے نہ صرف پورے ملک کا پہیہ جام ہوجائے گا بلکہ اس صورت میں کمزورمعیشت کو سنبھالنے میں وقت لگ جائے گا ۔

تیل کی قلت پیدا ہونے سے پورے ملک میں ہنگامے ہوسکتے ہیں اور ایسا ماضی میں ہوبھی چکا ہے ۔چشم تصوّر سے اس خوں آشام منظر کو دیکھا جاسکتا ہے جب پورے ملک کے پیٹرول پمپوں پر تیل نہیں ہوگا تو لوگ حکومت کو پھاڑ کھانے کو دوڑیں گے ۔یاد رہے کہ ملک میں تیل کی سٹوریج زیادہ سے زیادہ دس دن تک کی جاسکتی ہے ۔تیل کمپنیوں کی جانب سے تیل درآمد نہ کرنے کے بعد کیا ہوگا ؟ اس کا اندازہ ہمارے سٹریٹجک ادارے بھی لگا سکتے ہیں ۔
جو کسی بھی ناگہانی صورت میں صرف چند دنوں تک ہی تیل پر انحصار کرسکیں گے ۔ ایٹمی قوت کا درجہ رکھنے ولا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنے والا ملک تیل کے بحران کا متحمل نہیں ہوسکتا ۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اوگرا کی ناقص کارکردگی سے ایسے کیا حالات پیدا ہونے کا اندیشہ ہے کہ ملک شدید ترین بحرانوں سے دوچار ہوسکتاہے۔کیا ایک ادارے کی نااہلی پورے ملک کو لے ڈوبے گی ؟ یہ اہم ترین سوال ہے جس کے مضمرات پر پالیسی سازوں کو فوری قدم اٹھاناچاہئے ۔
ذرائع کے مطابق اوگرا نے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو ایک ماہ میں ہی اربوں روپے کا جھٹکا دیکر آئل مارکیٹنگ سے دلبرداشتہ کردیا ہے اور وہ اس ناروا اور غیر قانونی طریقہ کار پر سراپہ ¿ احتجاج ہیں مگر اوگرا مبینہ طور پر چشم پوشی کررہا ہے ،اوگرا کا یہ طرز عمل کسی بھی کاروباری اور معاہداتی اصولوں کے مطابق قرین قیاس نہیں ،یہی وجہ تیل مارکیٹنگ کرنے والی کمپنیوں کو اپنے ادارے بند کرنے پر مجبور کرسکتی ہے جس پر غور وفکر ہوچکا ہے ۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھنے کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ پاکستان اپنی ضروریات کا ساٹھ فیصد تیل امپورٹ کرتا ہے ۔تیل ہوگا تو اس ملک میں بجلی پیدا ہوگی،کارخانے چلیں گے ،گاڑیاں سڑکوں پر رواں ہوں گی،ہسپتالوں میں علاج معالجہ ہوگا ،فوج دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑسکے گی،جب تیل نہیں ہوگا توزندگی گویا مفلوج ہوکر رہ جائے گی۔ یہ تیل اوگرا کے تحت آئل مارکیٹنگ کمپنیاں امپورٹ کرتی ہیں ۔
اس وقت پاکستان میں پی ایس او کے علاوہ دس دیگر بڑی کمپنیاں اپنے جہازوں سے تیل لارہی ہیں لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ جس روز تیل کی قیمت کا تعین کیا جاتا ہے ،اس سے اگلے روز ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہوجائے تو اربوں روپے کا نقصان آئل مارکیٹنگ کمپنی (OMC) کو اٹھانا پڑتا ہے کیونکہ کمپنیوں پر ڈالر کی نئی قیمت کا اطلاق کردیاجاتا ہے ،جوای سی سی کے فیصلے برعکس ہے۔
اوایم سیز اس دوران پورا ماہ پیٹرولم مصنوعات روپے کی صورت میں فروخت کرتی ہیں اور حکومت کو بھی ٹیکس ادائیگیاں روپے میں ہی ادا کرنا ہوتی ہیں تاہم انہیں ادائیگی ڈالر کی بڑھی ہوئی قیمت کے مطابق ادا کرنے پر مجبور کیا جاتاہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اوگرا نے او ایم سیز کو فی لٹر 2.65پیسے منافع کمانے کا حق دیا ہواہے جس میں ہر کمپنی کو اپنی مینجمنٹ ،ٹرانسپورٹ اور انفراسٹرکچر کی مد میں اٹھنے والے تمام طرح کے اخراجات پورے کرنے ہوتے ہیں ۔
ستم ظریقی یہ ہے کہ ملک میں ان نجی تیل مہیا کرنے والی کمپنیوں کا فی لیٹر تیل میں جو حصہ ہے وہ حکومتی ٹیکسز کے مقابلے میں بہت ہی کم ہے۔ دوسری جانب یہ نجی کمپنیاں ہیں جو بیرون ملک سے تیل منگوا کر،انہیں ٹرانسپورٹ کرنے،پراسس کرنے،اور تیل ڈپو سے پیٹرول پمپوں تک پہنچانے،بھاری سٹاف کو تنخواہیں دینے کے لئے ایک لیٹر کے بدلے 2.65 پیسے وصول کرتی ہے لیکن جب سے ڈالر مہنگا ہوا ہے وہ منافع کی بجائے اب ہر ماہ اربوں روپے کا نقصان اٹھارہی ہیں۔
مثال کے طور پر جیسا کہ نومبر کی انتیس تاریخ کو ڈالر کا ریٹ 133.90 روپے تھا تو اسکے مطابق ہی تیل کی قیمت مقرر کردی گئی مگر اس ماہ میں ہی ڈالر کی قیمت بڑھ گئی تو کمپنیوں کو بتایا گیا کہ چونکہ اس دوران ڈالر کی قیمت ایک سو چالیس روپے ہوگئی تھی تو اب انہیں ادائیگیاں ڈالر کی نئی قیمت کے مطابق کرنی ہوں گے ۔کسی بھی سرمایہ د ار اور کاروباری ادارے کے لئے ایسا تقاضا پورا کرنا مشکل ہوجاتا ہے کہ وہ مارکیٹ میں نفع کی بجائے نقصان اٹھاکر کاروبار کرے ۔
مگر پاکستان میں او ایم سیز کے ساتھ ایسا ہورہا ہے اور یہی وہ اندیشہ ہے جو ملک میں کسی بڑے بحران کا اندیشہ پیدا کررہا ہے کہ اگر اوگرا نے معاملے کی سنگینی کو محسوس نہ کیااور کمپنیوں نے پیٹرول پمپ بند اور تیل امپورٹ کرنا بند کردیا تو سات دنوں کے اندر اندر ملکی معیشت اور سماجی وکاروباری زندگی تباہ ہوجائے گی ۔ ان حالات میں نوزائیدہ حکومت کے لئے اس معاشی اور سماجی سونامی کا سامنا کرنا مشکل ہوجائے گا ۔
حیران کن بات یہ ہے کہ اوگرا کو اس پر کسی قسم کی تشویش نہیں۔اوگرا کا خیال ہے اگر کوئی کمپنی ان کی غیر اصولی وصولیوں پر احتجاج کرے گی یا تیل ملک میں لانا بند کردے گی تو اوگرا نے جن مزید نئی کمپنیوں کو لائینس دیا ہے وہ اس قلت کو پورا کردیں گی ۔یہ ناقابل عمل سوچ بیوروکریسی کی وہ پیداوار ہے جو ریاست کے تابوت میں کیل ٹھونک دے گی کیونکہ نئی کمپنیاں ابھی فعال نہیں ہیں ،جبکہ ملک میں موجود تیل ذخیرہ کرنے اور تیل بردار جہازوں کو لنگر انداز کرکے ان سے تیل فوری طور پر اتارنے کے وسائل و ذرائع بھی ناکافی ہیں جس پر سینٹ کی قائمہ کمیٹی پہلے ہی اوگرا اور پی ایس او کو انتباہ کرچکی ہے اور ملک میں تیل کی بڑھتی ہوئی طلب کے پیش نظر اور کسی بھی قسم کے ہنگامی معاملات کی صورت میں تیل کو ذخیرہ کرنے کی صلاحیت 21روز تک بڑھانے کا حکم دیا جاچکا ہے جس پر کام ہوتا نظر نہیں آرہا ۔
پرانی کمپنیاں اپنے تیل کے ذخائر کو ذخیرہ کرنے کے ڈپو بنانے جارہی تھیں ،انہیں اوگرا کی موجودہ” ڈالر پالیسی“ نے بدترین مالی مسائل سے دوچار کردیا ہے ،اوگرا ان کمپنیوں کو ریلیف دے کر ہی اب تیل کے ذخیرہ کو بڑھانے کے نظام کو آگے لیکر جاسکتا ہے ۔ 

Your Thoughts and Comments