پانی کی قلت اور لڑ کھڑاتی زراعت

pani ki qillat aur lar khrati zaraat
ملک کاشان محبوب
اسلامی جمہوریہ پاکستان کو اللہ پاک نے تمام نعمتوں سے نوازا ہے۔ پاکستان میں چار موسم، بلند و بالا پہاڑ ، خوبصورت چشمے اور پانی کے بے شمار ذخائر ہیں مگر حیران کن بات یہ ہے کہ اسی ملک میں آج کل پانی کی قلت خصوصا نہروں کی بندش کی صورت میں سامنے آرہی ہے جس کا نقصان نہ صرف فصلوں کو بلکہ معیشت کو بھی ہورہا ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر اس سب کا ذمہ دار کون ہے؟ دراصل موجودہ دور کی یہ رِیت بن چکی ہے کہ اپنے سر پرسے اتارا اور دوسرے کے سر ڈالا یعنی کہ جب بھی کسی مسئلے کے بارے میں تبصرہ ہوتو قصور وارکسی دوسرے کو ٹھہرایا جاتا ہے جبکہ خود کا تجزیہ کرنا تو خودکی شان میں گستاخی سمجھا جاتا ہے کہیں یہی وجہ پانی کی قلت کا سبب تو نہیں؟ چلیں ان سوالات کے جوابات کو ڈھونڈنے سے پہلے پاکستان میں پانی کے ذخائر کا موازنہ کرتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق پاکستان میں نظام آبپاشی کل 16 ملین ہیکٹئر کے رقبے پر پھیلا ہوا ہے جسے دنیا کا سب سے بڑانظام آبپاشی کہا جا تا ہے اوراسی سے مکمل استعفادہ حاصل نہیں کیا جارہا۔ منگلا، تربیلا، چشمہ ڈیم پاکستان کے مشہور بڑے ڈیم ہیں جن کے ذریعے تقریبا پاکستان کا ایک بڑا حصہ فیض یاب ہو رہا ہے جبکہ دیگر چھوٹی واٹر باڈیز بھی ملک بھر میں پانی کی فراہمی میں اہم کردار ادا کررہی ہیں۔
ڈیموں کا ذکر کروں تو اس وقت ملک میں کالا باغ ڈیم بنانے کے بارے بہت لوگ سراپا احتجاج ہیں جبکہ کئی لوگ اس کی تعمیر کے حق میں نہیں بھی ہیں۔ ہمارے ملک میں پہلے سے موجود ڈیموں کی حالت بھی خستہ ہے۔ مگر اس کی پختگی کے بارے کسی نے آواز کیوں نہیں اٹھائی کہیں ہماری ترجیح مسئلے کے حل کی بجائے فسادات تو نہیں؟ کہتے ہیں کہ جیسی عوام ویسے ہی حکمران! تو کیاغلطی ہم میں تو نہیں؟کہتے ہیں کہ جیسی عوام ویسے ہی پہلے خودکار تجزیہ یعنی کی self-evaluationکرتے ہیں۔
چونکہ قطرے قطرے سے دریا بنتا ہے اس لیے اگر خود کے گھروں میں پانی کے ضیاع کی بات کی جائے تو شاید تبصرہ غلط نہ ہوگا۔ ہرشخص خودکوبہت اچھی طرح پرکھ سکتا ہے تو سب سے پہلے تو گھروں میں پانی کا ضیاع جیسے کہ نہاتے وقت ضرورت سے زیادہ پانی بہانا، کپڑے دھوتے وقت، برتن دھوتے وقت ،فرش دھوتے وقت بے جا پانی کا استعمال بھی پانی کی قلت کا سبب ہوسکتا ہے۔
چلیں اب دیہات کی طرف بڑھتے ہیں، ذاتی تجربے کی بات کروں تو میں نے خود اپنی آنھوں سے ٹیوب ویل سے پانی کو ضائع ہوتے دیکھا ہے، اور تو اور کسانوں کو فصلات پرضرورت سے زیادہ پانی لگاتے اور انہی فصلوں کوبوجہ فلڈنگ anoxia کا شکار ہوتے ہو ئے دیکھا ہے۔ آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ جیسے ضرورت سے زیادہ کھانا کھانے کی وجہ سے انسان کی حالت خراب ہو جاتی ہے۔
اسی طرح فصلوں کو زیادہ پانی لگانے سے پودوں کی جڑیں سانس لیئے یعنی آکسیجن سے محروم ہوجاتے ہیں۔
اور کسان کو یہ کم عقلی مہنگی پڑ جاتی ہے۔
مضمون کے شروع میں کئیے گئے سوالات کے جوابات ابھی بھی نہیں ملے؟ چلیں مدعے کی مذید گہرائیوں کی جانب بڑھتے ہیں۔ اور بات کرتے ہیں حکمرانوں کی حکمرانوں کا یہی المیہ بن چکا ہے کہ اپنی سیٹ بناوٴ اور پھر بچاوٴ، یعنی کے ہی ان کی ڈیوٹی ہے یہی ان کا مقصد ہے تو پھر ان کے مقاصد میں ہم لوگ کہاں ہیں؟ یہ زراعت کوریڑھ کی ہڈی کا نام دے کر اسی کوتوڑنا، یہ ڈیموں کے نام سیاست کرنا اور منتخب ہونے کے بعدبمشکل پانچ سالا طویل خاموشی اختیار کر لینا، شاید اسی کو سیاست کہتے ہیں۔
روزانہ کوئی نہ کوئی پانی کے مسئلے کی بات کرتا ہے گرحل پھر بھی نہیں نکلتا۔ پانی جتنا انسانوں کو چاہیئے ہوتا ہے ویسے ہی یہ دیگر جانداروں کو درکار ہوتا ہے، جبکہ انھی جانداروں میں پودے ہی شامل ہوتے ہیں۔ پانی پودوں میں محلول بنانے میں کارآمد ثابت ہے،پانی کی بدولت پودے خوراک اپنے اندر جڑوں کے ذریعے پہنچاتے۔ ہیں، علاوہ ازیں پانی کے اور بھی بہت سے اہم فوائد ہیں جو کہ اسے جینے کا اہم جزو بناتے ہیں مگر پھر بات وہیں پرا ٓکررکتی
ہے کہ پانی کی قلت پاکستان میں آخر کیوں؟ دو بنیادی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے آج ہمارے ملک میں پانی جیسی نعمت سے لوگ محروم ہونا شروع ہوگئے ہیں، ایک ہے قدرتی تبدیلیاں، اور د دوسری ہے ہماری کوتاہیاں۔

1. اب اگر اپنی کوتاہیوں کی درستگی کی جائے تو سب سے پہلے تو حکومت کو منگلا ، تربیلا، چشمہ کی سٹوریج کپیسٹی کو بہتر بنانا ہوگا۔ - کیونکہ ان ڈیمز میں گرد کی موٹی تہہبن چکی ہے جس کو اگر جلدہی صاف نہ کیا گیا کہ تو آئندہ چند ہی سالوں میں پانی کی مزید قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
2.جبکہ کھالا جات کی پختگی کے صرف نعرے بلند کرنے کے علاوہ ان نعروں پرعمل کرنا بھی شروع کردینا چاہیے تا کہ ان کھالا جات میں سے ضائع ہونے والے پانی کی روک تھام کی جا سکے
3- پانی کے مناسب استعمال بارے لوگوں کو گائیڈ کیا جائے ، سیمنارز ، ٹی وی شوز، اخبارات اور دیگر ذرائع کے زریعے
حکومت پانی کے ضیائع کی روک تھام کے لیے مناسب قوانین بنائے جن پرواقعی عمل درآمد کیا جاسکے
5۔ ٹیوب ویل کے استعمال کو مخصوص کیا جائے۔ کیونکہ ٹیوب ویل کی پمپنگ کی وجہ سے گراوٴنڈ واٹر میں خرابی واقع ہو جاتی ہے جو کہ پانی کی قلت کا اہم ترین سبب ہے۔
6.سب سے اہم ہے کہ آ بپاشی کے نظام کو جدید بنانا اب بہت ضروری ہے جیسے کہ سپرینکلر آبپاشی، ڈریپ آبپاشی وغیرہ وغیرہ کیونکہ ان کے ذریعے پانی صرف پودوں کے لیے مخصوص ہوجاتا ہے اور ضیائع نہیں ہوتا۔

7۔ دیہاتوں میں پانی کی فراہمی کو نجی سطح پر لایا جائے کیونکہ سرکار پانی چوری وغیرہ جیسے مسائل پر قابو پانے میں ناکام ثابت ہوچکی ہے۔
 8۔کسان تنظیموں اور نجی سیکٹر کو کھالا جات سمیت دیگر آبپاشی کے سسٹم کی تعمیر وترقی میں شمولیت دی جائے۔
پانی کی قلت نے کسان کو ہلا اور زراعت کولڑ کھڑا کر رکھ دیا ہے کیونکہ پانی کے بغیر زراعت کے ہیں اور زراعت کے بغیرانسان کچھ نہیں ۔
حال ہی کی بات کی جائے تو گندم کی فصل پانی سے محروم ہے مگر زیادہ اثر اس لیے نہیں ہوگا کیونکہ اس وقت فصل پکنے کے عمل میں داخل ہو چکی ہے جبکہ کھیتی کاشت کردہ فصل کو بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے لیکن اگرنہروں کی بندش کاسلسلہ اسی طرح جاری رہا۔تو وائیٹ گولڈ یعنی کہ کپاس کی فصل پرمنفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ علاوہ ازیں خریف کی تمام فصلات بری طرح متاثر ہوسکتی ہیں۔

حکومت کو چاہئے کہ ہنگامی بنیاد پر اس مسئلے کوحل کیا جائے کیونکہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور ایک زرعی ملک میں ہرگزیہ زیب نہیں دیتا کہ تمام نعمتوں کے باوجود بھی ہماری مس مینجمنٹ کی وجہ سے ملک میں پانی کی قلت واقع ہو۔ کاشتکار حضرات فصلات کو مناسب آبپاشی دیں اور جلد از جلد جدید ٹیکنالوجی اختیار کریں۔ جبکہ شہری اپنی روز مرہ کی روٹین میں پانی کو مناسب طریقے سے استعمال کریں، کیونکہ ایک رپورٹ کے مطابق اگر پاکستان میں اسی طرح پانی کا ضیاع ہوتا رہا تو 2025ء تک پاکستان کو شدید پانی کی قلت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

Your Thoughts and Comments