ریلیف کے وعدے کب پورے ہوں گے؟

relief ke waday kab poray hon gay
 غازی احمد حسن کھوکھر
وزیراعظم کے دور ہ امریکہ کی کامیابی پر شہنائیاں بجائی جارہی ہیں فی الوقت کچھ منوا کر تو نہیں آئے ،عافیہ صدیقی تک بھی رہا نہیں ہوئیں ،باقی انہوں نے ماننے کیلئے نہیں بلکہ منوانے کیلئے بلایا ہو گا جبکہ عمران خان کے دورہ امریکہ میں کثیر تعداد میں لوگوں کا شرکت کرنا کوئی تعجب والی بات نہیں ہے کیونکہ یورپی اور امریکی عوام عالمی شہرت یافتہ کر کٹر کودیکھنے کے بھی شوقین ہیں۔
اس لئے یورپ اور امریکہ سے نہ صرف پاکستانی بلکہ مقامی شہری بھی جمع ہوئے کیونکہ عمران خان صاحب ماضی کے معروف کرکٹرہیں اور ورلڈ کپ جیتنے کا کریڈٹ بھی ان کے پاس ہے تو آنے والے لوگوں میں عمران خان صاحب کو بطور وزیراعظم نہیں بلکہ بطور سپورٹس مین زیادہ دیکھنے والے تھے۔


کیونکہ عالمی شہرت یافتہ کھلاڑی کو دیکھنے کی خواہش بھی شامل تھی۔

اس کے علاوہ یورپ میں پاکستانی سفارت خانوں اور امریکہ میں سفارت خانہ کی کمال کار کردگی کا یہ ثمر ہے کہ 15ہزار لوگ جمع ہوئے ۔راقم کو ایک ماضی کا واقعہ یاد آتا ہے۔1996ء کے عام انتخابات میں مولانا فضل الرحمن کے خلاف ماضی کی ہی معروف اردو پنجابی کے ساتھ ساتھ پشتو فلموں کی مشہور اداکارہ محترمہ مسرت شاہین نے الیکشن لڑنے کا اعلان کر دیا۔یہاں ذکر ضروری سمجھتا ہوں کہ مسرت شاہین راقم کی منہ بولی بہن ہیں اور وہ راقم کو اپنا بھائی ہی سمجھتی ہیں ۔
انھوں نے تحریک مساوات کی بنیاد رکھی اور خود وہ اس سیاسی جماعت کی چیئر پر سن تھیں۔
وہ انتخابی مہم کے دوران ڈیرہ اسماعیل خان جاتیں تو عوام کا جم غفیران کے جلسہ میں اُمڈ آتا تھا،انہیں زعم تھا کہ بہت سارے لوگ ان کی کامیابی کی نوید سنا چکے ہیں بس رسمی انتخابات ہونا باقی ہیں ،ان حالت میں مولانا فضل الرحمن کے بھی چھکے چھوٹ گئے۔میڈم مسرت شاہین کے گھر گلبرگ لاہور میں کوئی 50،60لوگ جمع تھے مختلف نواح کے کھانے طویل ٹیبل پر لگے ہوئے تھے ا ن میں ڈیرہ اسماعیل خان کا کوئی شخص نہ تھا البتہ لاہوری اور پنجاب سے ہی تعلق رکھنے والے لوگ ان کی کامیابی کے قصیدے پڑھ رہے تھے اور لاہور کے بعض غیر معروف اخباروں کے ایڈیٹر، چیف رپور ٹر،میگزین انچارج اپنے اپنے اخبار کے بنڈلز لے کر آئے ہوئے تھے جن میں میڈم مسرت شاہین کی طرف سے اشتہارات ،بڑی بڑی سرخیاں لگی اخبارات لے کر آئے ہوئے تھے۔

میڈم نے راقم سے کبھی کہاکہ آپ بھی کچھ کہیں تو ،میں نے بالکل برعکس بات کی،کہ آپ کا ڈی آئی خان سے الیکشن میں حصہ لینا مناسب نہیں ہے،البتہ لاہور ،پنڈی یا ملتان سے انتخابات لڑنا قدرے مناسب رہیگا۔ڈی آئی خان کے لوگ تو عورتوں کی آزدی کے خلاف ہیں تو میڈم مسرت شاہین کو یہ بات شدید ناگوار گزری تو انہوں نے کہا غازی بھائی ! آپ کبھی میرے ساتھ چلیں جب میں کمپئین کیلئے جاتی ہوں تو استقبال کیلئے کثیر تعداد میں لوگ آجاتے ہیں تو میں نے کہا کہ محترمہ آپ فلم سٹار ہیں اور پھر عورت ہیں جسے دیکھنے کیلئے لوگ آجاتے ہیں،پھر جس اداکارہ کی فلم دیکھنے کیلئے دور دراز کا سفرکرکے ٹکٹ خرید کر فلم کا انتظار کرتے تھے وہ خود آرہی ہوتو کیوں نہ دیکھیں۔

(یہاں حوالے کے طور پر میں نے بتایا کہ )ملتان ریلوے گراؤنڈ کے ساتھ ہی ڈبل پھاٹک پل ہے۔انہی دنوں کسی پروگرام میں عالم لوہار کے بیٹے جو موروثی طور پر گلوکار بنے ہوئے ہیں عارف لوہار آئے ہوئے تھے تو اس وقت بھی کم از کم 25سے30ہزار لوگ جمع تھے۔تو ضروری نہیں ہے کہ آپ کے جلسوں میں جو لوگ آتے ہیں وہ آپ کو ووٹ بھی دیں،نہ ہی وہ آپ کے دوٹر ز بننا چاہئیں گے،وہ الیکشن میں غالباً تین ہزار ووٹ لے سکیں تھیں،یہی وجہ عمران خان صاحب گزشتہ 40برس سے کر کٹر اور سیاستدان کے طور پر دنیا کے سامنے ہیں ۔
لوگوں میں انہیں دیکھنے کا شوق شامل ہوتا ہے۔پھر اقتدار کا اپنا ایک جادو ہوتاہے۔آج عمران خان وزیراعظم ہیں۔ایسے ملک کے پرائم منسٹر ہیں جس کی اہمیت پاکستانی کم عالمی قوتیں زیادہ جانتی ہیں ان کا امریکہ جانا اور 15ہزار لوگوں کا اجتماع کوئی حیرانگی والی بات نہیں ہے۔
ماضی کے حکمرانوں کے دوروں کے دوران اخبارات ،رسائل اور TV،ریڈیو گی رپورٹس کا جائزہ لیں تو”بیربل“ملادوپیادوں “کے یہی تبصرے ہوں گے۔
چیف جسٹس آف پاکستان سعیدکھوسہ بااصول اور صاف وشفاف شخصیت کے مالک ہیں ۔ان سے گزارش ہے کہ عدلیہ میں جو ڈیشل کونسل کے زیر سیایہ ایک ویجی لینس ونگ قائم کریں جو ماتحت عدلیہ اور ہائی کورٹ وسپریم کورٹ تک کے ججوں بارے خفیہ معلومات لیں اور جوڈیشل کونسل کو بھجواتے رہیں تاکہ عدل وانصاف کے نظام کو صاف وشفاف بنایا جاسکے۔ذکر ہورہا تھا وزیراعظم کے دور ہ امریکہ کی کامیابی کے”ڈھنڈ ورے“پیٹے جانے کا۔
تو راقم کی کسی سیاسی جماعت سے کوئی وابستی نہیں، بلکہ محض مزدور ہے اور مزدور تنظیم سے تعلق ہے ۔ملک کو اس وقت مضبوط دفاع اور مضبوط احتساب کے ادارے کی ضرورت ہے جو بے رحمانہ احتساب کے ذریعے لوٹی ہوئی دولت وصول کرے ۔
پاکستان کو مضبوط بنانے کیلئے دشمن قوتوں کے برابر اسلحہ اور افواج کی تعداد بڑھانے کی ضرورت ہے ۔ملک کوڈیموں کی ضرورت ہے ،اسی طرح زراعت ،ایریگیشن ،صحت ،تعلیم ،تجارت جیسے شعبوں کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔
عملی سائنسدانوں کی ضرورت ہے ،اس وقت پاکستانی سائنسدان بیرونی ٹیکنالوجی پر انحصار کررہے ہیں۔پی آئی اے،پی ٹی سی ایل ،واپڈا جیسے اداروں میں موجود انجینئرز کی کار کردگی واضح ہے جس کی وجہ سے غیر ممالک سے ضروریات پوری کرنے کیلئے بھاری زرمبادلہ ضائع ہو تا ہے ۔انجینئرز کی ترقی پر موشن اس کی کارکردگی کے مطابق ہونی چاہئے ۔ملک بھر کے مزدوروں اور افسران کی تنخواہوں اور مراعات کافرق ظالمانہ ہے جسے دور کیا جانا چاہئے۔

نوجوانوں کو آسان شرائط پر قرضے دیئے جانے چاہئیں جو” ڈنگ ٹپاؤ “پالیسی کے تحت کیا جاتا ہے ۔حکومت اگر بیرونی دوروں پر”بغلیں بجانے“کی بجائے احتساب کے عمل کو لوٹی ہوئی دولت وصول کرنے کیلئے تیز کرتے ہوئے کرپشن کے کاتمے کا تہہ کرلے تو چند دنوں میں لوٹی رقم باہر آسکتی ہے۔
مثال کے طور پر پی ٹی آئی حکومت کے ابتدائی دنوں میں انہیں سطور میں تحریر کیا گیا تھا کہ 40ہزار روپے والے بانڈز کی رجسٹریشن کا عمل شروع کر دیا جائے بلکہ25ہزار،15ہزار اور 75سو روپے والے بانڈز بھی خریدار کے نام سے منسوب کردیئے جائیں اور ملکی کرنسی تبدیل کردی جائے تو مالیاتی ادارے بھر جائیں گے یا پھر لوگ رات کی تاریکی میں نہروں ،دریاؤں میں پھینکنے پر مجبور ہو جائیں گے،صرف سیاسی پارٹیوں کے لوگوں کا احتساب عدادت کو ظاہرکر رہا ہے۔

امریکہ میں بیٹھ کراے سی اور ٹی وی بند کرنے کا اعلان کرنا مناسب نہیں ہے بلکہ تمام کرپٹ عناصر سے رقم نکلوانے اور عام آدمی کو ریلیف دینے کا حکم ہی عوام کیلئے خوشی کا باعث بن سکتا ہے۔ قانون سب کیلئے ایک جیسا ہونا چاہئے۔قومی مجرموں کو اے سی اور ٹی وی اور آرام دہ کمروں والی جلیں جبکہ سائیکل ،بکری اور مرغی چور کیلئے عقوبت خانے نما جلیں جہاں غیر قانونی ظلم روا رکھے جاتے ہیں وزیراعظم عمران خان کچھ نچلی سطح کے عوام کے حالات جاننے کی کوشش کریں ورنہ مصنوعی خوشیاں ،مصنوعی نعرے، واہ واہ بلے بلے سب کیلئے ہوتی رہی ہے۔
ملاں دو پیادہ اور بیر بل طرز کے لوگ ہر دور میں ہوتے ہیں جو واہ واہ کرتے ہیں۔انسانی فطرت ہے کہ وہ اپنی تعریف کو ہی پسند کرتا ہے ۔عمران خان ایک طرف کہتے ہیں کہ این آراو نہیں دوں گا جبکہ یہ بھی فرماتے ہیں یہ لوٹے ہوئے پیسے واپس کردیں تو انہیں چھوڑ دوں گا۔کیا چوری شدہ مال واپس کر دیا جائے تو چورسز ا کا مستحق نہیں رہتا۔؟
اور فرماتے ہیں میں امریکہ سے واپس آکر ان کے لئے جیلوں میں لگے اے سی اور ٹی وی اتروا دونگا۔پھر وزیراعظم کا یہ کہنا کہ یہ رقم واپس کردیں ۔کیا حکومت اس کرپٹ مافیا کے رحم وکرم پر ہے۔؟حکومت تو بزور طاقت ان سے لوٹی ہوئی رقم وصول کرنے کے اقدامات کرے۔

Your Thoughts and Comments