آسمان پر اُڑنے والی ٹیکسی 2021 تک آجائے کی

اور ٹیکسی سروس کے اعلان کے مطابق یہ ٹیکسی دو گھنٹے کے فاصلے کو 15منٹ میں پورا کرلے گی ۔

ہفتہ جنوری

Aasman Par Urnay Wali Taxi
زمین پر پیلی ٹیکسیوں کی جگہ اگرآسمان پر ٹیکسیاں اڑنے لگیں تو آپ کو کیسامحسوس ہوگایقینا خوشی بھی ہوگی اور بہت کم داموں میں فضائی سفر سے لطف اندوز ہونے کا موقع ملنے کی خواہش یوں پوری ہونے پر مسرت بھی ہوگی ۔
اپنی نوعیت کا یہ شاندار منظر پہلی بار پاپولر سائنس میگزین کے سرورق پر 1929 میں شائع ہوا تھا پھر 1960 میں مشہور کارٹون جیٹ سنز اور بعدازاں سائنس فکشن فلموں میں ایسے مناظر کی بھر مارہوگئی جن میں فضائی ٹیکسی چھوٹے سے جہاز کی شکل میں آسمان پراُڑارہی ہوئی تھیں۔

اب سائنس فکشن فلموں سے یہ ٹیکسیاں حقیقت کے آسمان پر سفر کرنے والی ہیں کیونکہ ابرنامی ٹیکسی سروس نے اپنے 98 صفحات پر مشتمل منصوبہ میں انکشاف کیا ہے کہ وہ الیکٹریکل جہاز مختلف تیار کنندگان سے بنوا کر یہ ٹیکسی سروسز شروع کرے گی ۔

(جاری ہے)


ابر کے مطابق یہ اُڑانے والی ٹیکسی سفر کی دنیا کا انقلاب ثابت ہوگی جہاں گاڑی میں سفر کادورانیہ دو گھنٹے ہوتا تھاوہاں یہ ہوائی ٹیکسیاں سفر کو صرف 15منٹ میں مکمل کرلیں گی ۔


ابرکے منصوبے کے مطابق یہ ہوائی ٹیکسیاں عمودی انداز میں ٹیک آف اور لینڈنگ کریں گی اور ایک بار چارج ہونے کے بعد 100 میل کا سفر طے کرسکیں گی ۔ ابرکے مطابق یہ ٹیکسیاں 2021میں آسمان پر اپنے سفر کاآغاز کردیں گی ۔
ابرابلیویٹ نامی اس منصوبے کے تحت عام ہیلی کاپٹر کے مقابلے میں 15ڈیسی بلز (آواز کی اکائی ) کم طیارہ آسمان پر اڑائے گی تاکہ فضائی شور سے نجات مل سکے ۔

ابر کے مطابق مختلف بلڈنگوں پر بنے ہیلی پیڈز کو لانچنگ پیڈ کے طور پر شروعات میں استعمال کیاجائے گا۔
ابر کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر ٹراؤنس کیلانگ کا یہ کہنا ہے کہ ابرجلد ہی ان جہازوں کو پائلٹوں کے بغیر چلانے کا بھی ارادہ رکھتی ہے ۔
سال بھر میں بارہ جہاز تیار کرنے پرابر کے 1.2ملین ڈالر خرچ ہوں گے اور یہ ٹیکسی سروس آن ڈیمانڈ فراہم کی جائے گی ۔
یہ ٹیکسی 430میل کافاصلہ ایک فل ٹینک میں کرسکے گی ۔

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

Aasman Par Urnay Wali Taxi is a investigative article, and listed in the articles section of the site. It was published on 14 January 2017 and is famous in investigative category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.