برطانوی سکے جو پاکستان میں رائج رہے۔ وجہ کیا تھی؟

1948 تک یہ سکہ جات پاکستان میں رائج رہے۔ پھر پاکستان نے برطانوی سکوں کے ڈیزائن اور اس سے متوازی مالیت کو مدنظر رکھتے ہوۓ اپنے ذاتی سکہ جات بنوائے۔

شکیل احمد خان میو منگل 15 جون 2021

Bartanvi Sikke Ju Pakistan Main Raij Rahe
آج ہم آپ کو کچھ ایسے نایاب و نادر سکہ جات سے روشناس کروائیں گے جو سکہ برطانوی حکومت کے تھے لیکن انہیں پاکستان میں ایک مجبوری اور وقتی ضرورت کے تحت رائج کرنا پڑا۔
1947 کے آغاز میں جب پاکستان ایک نوزائیدہ ریاست کے طور پر ابھرا تو پاکستان کے پاس فوری طور پر اپنے مالیاتی واقتصادی نظام کو منظم کرنے کا کوئی خاطرخواہ انتظام موجود نہیں تھا۔


تو ملک کی معاشی و اقتصادی ضرورت کے پیش نظر حکومت پاکستان کو برطانوی نظام کو ہی خودکفیل ہونے تک اپنانا پڑا تھا۔
اسی لیے ریاست پاکستان نے برطانیہ سے ایک معاہدے کے تحت ان کے برصغیر میں رائج سکوں کو پاکستان میں چلانا پڑا۔
1948 تک یہ سکہ جات پاکستان میں رائج رہے۔ پھر پاکستان نے برطانوی سکوں کے ڈیزائن اور اس سے متوازی مالیت کو مدنظر رکھتے ہوۓ اپنے ذاتی سکہ جات بنواۓ۔

(جاری ہے)


جنہیں برطانوی دور حکومت میں 1941 میں لاہور میں قائم کی گئی ٹیکسال (لاہورمنٹ ) سے ہی بنوایا گیا۔
اس سے پہلے برصغیر میں صرف دو ہی ٹکسال تھے جو کلکتہ اور بمبئی میں تھے۔
لیکن لاہور منٹ سے بنواۓ گئے سکوں میں دوسرے سکوں سے تفریق پیدا کرنے کے پیش نظر اس پر (L) کا منٹ مارک یعنی علامت ظاہر کی گئی۔
پاکستان کے نئے بناۓ گئے سکوں میں کرنسی کا نام اور (ڈیسی مل ویلیو ) اور (کرنسی یونٹ) بھی پہلے رائج شدہ برطانوی سکوں کی طرز پر رکھی گئی اور اس ڈیزائن کی باقاعدہ منظوری بھی قائداعظم محمد علی جناح نے بطور ریاست کے سربراہ کے دی۔
کرنسی کے نام اور ویلیو درج ذیل تھیں اور نیچے ان کی تصاویر بھی دی گئی ہیں۔
1 Pice
1/2 Anna
1 Anna
2 Anna
1/4 Rupee
1/2 Rupee
1 Rupee

ادارہ اردوپوائنٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

Bartanvi Sikke Ju Pakistan Main Raij Rahe is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 15 June 2021 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.