بیروزگاری معاشرتی بگاڑ کی بڑی وجہ

اگر بے روزگاری کے اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو یہ جان کر حیرت ہوتی ہے کہ اس وقت ملک میں لاکھوں نوجوان بے روزگار ہیں۔ آج20 ،25سال کا ہر تیسرا پاکستانی نوجوان یا تو بیروزگار ہے یا پھر

منگل جنوری

berozgari masharti bigaar ki barri wajah
رانا زاہد اقبال
ہمارے ہاں پھیلی ہوئی بے چینی اور نا انصافی نے نوجوانوں میں اضطراب کی سی کیفیت پیدا کی ہوئی ہے۔ خاص طور پر اعلیٰ سطح پر بد انتظامی اور ناانصافی نوجوانوں کو ذہنی انتشار کی طرف لے جاتی ہے اور وہ عمر کے فیصلہ کن موڑ پر معاشرتی بگاڑ کی وجہ سے بھٹک جاتے ہیں۔ اس مسئلے کی بڑی وجہ بلا شبہ بیروزگاری اور ہمارے حکمران طبقات کا وہ طرزِ عمل ہے جس نے مخصوص مفادات کو آگے بڑھایا ملک میں مستقبل کی ذمہ داریوں کا تقاضا پیش نظر نہ رکھا۔

آج اعلیٰ تعلیمی اداروں سے ڈگریاں لینے کے باوجود باصلاحیت نوجوان تلاشِ روزگار میں در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ جب کہ مقتدر اشرافیہ کی نالائق اولادیں منفعت بخش عہدوں پر براجمان ملک کا بیڑہ غرق کرنے میں مصروف ہیں۔

(جاری ہے)

یہ ناانصافی نوجوانوں کو ان کے حق سے محروم کرنے کی کوششوں کا حصہ بھی رہی ہے۔ جبکہ نوجوان شدت پسند تنظیموں کے آلۂ کار بننے پر دانستہ مجبور کر دیئے جاتے رہے ہیں۔

اس بنیادی مسئلہ پر حکومت وعدوں اور یقین دہانیوں کی کوشش بھی کرتی ہے مگر ان نوجوانوں کو روزگار کے مواقع کیسے فراہم ہوں؟ اس کی دیرپا بنیادوں پر کوشش نہیں ہوئی۔
اگر بے روزگاری کے اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو یہ جان کر حیرت ہوتی ہے کہ اس وقت ملک میں لاکھوں نوجوان بے روزگار ہیں۔ آج20 ،25سال کا ہر تیسرا پاکستانی نوجوان یا تو بیروزگار ہے یا پھر اپنی اہلیت سے کم سطح کی ملازمت کر رہا ہے۔

یہ ایک ایسے اعدادوشمار ہیں جس کے نتیجے میں تمام دوسرے بھیانک اعداد و شمار جنم لیتے ہیں۔ یہ لوگ یا تو اپنے خاندان کے دوسرے کمانے والے لوگوں پر انحصار کرتے ہیں یا ایسے کام میں زبردستی لگے ہوئے ہیں جہاں حقیقت میں ان کی ضرورت نہیں ہے۔پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے لیکن فنی تعلیم اور تیکنیکی تربیت کی کمی کے باعث نوجوانوں کی بڑی تعداد روزگار کے حصول میں مشکلات کا سامنا کر رہی ہے۔

یہ بات سب لوگ جانتے ہیں کہ بے روزگاری کے زمانے میں ذہنی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ کہنا تو درست نہ ہو گا کہ اس دباؤ اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی اضطرابی کیفیت سے مکمل طور پر چھٹکارا حاصل کیا جا سکتا ہے لیکن اس دباؤ کی شدت ضرور کم کی جا سکتی ہے کہ اس کے منفی اثرات نہ ہوں۔
دنیا بھر میں شعبے کے انتخاب اور مستقبل کی راہیں متعین کرنے میں نوجوانوں کو مدد فراہم کی جاتی ہے، اسے کیرئیر کونسلنگ کا نام دیا جاتا ہے ۔

اس کے لئے باقاعدہ ادارے قائم کئے جاتے ہیں۔ ہمارے ہاں اس قسم کے اداروں کا رواج بہت زیادہ نہیں ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ مناسب تعداد میں اس قسم کے ادارے قائم کئے جائیں تا کہ نوجوان ان کی مدد لے کر اپنے مستقبل کے حوالے سے راہنمائی حاصل کر سکیں۔ جس سے نوجوان جدید ضرورتوں کے مطابق درکار صلاحیتوں کے بارے میں جامع معلومات حاصل کر پائیں۔

ملازمت کے حصول کے لئے اپنے اساتذاہ، مختلف شعبوں کے متعلقہ افراد اور دوست احباب سے بھی راہ نمائی لی جا سکتی ہے۔ ورنہ نوجوانوں کی بڑی تعداد اپنے راستے کا تعین نہ کر پانے کے سبب ہی منزل سے دور ہوتی جاتی ہے۔
آج نوجوان اپنی زندگی کا لائحہ عمل طے کرنا چاہتے ہیں، یہی آج ہے جو گزرے ہوئے کل یعنی ماضی میں ڈھل جائے گا اور آنے والا کل یعنی مستقبل کی صورت میں نمودار ہو گا۔

گویا آج بیک وقت ماضی حال اور مستقبل ہے۔ یعنی تسلسل ہے نوجوانوں کی زندگی کا، زندگی کا تسلسل اس آج ہی سے وابستہ ہے جس کا ہر پل مستقبل کے سہانے خواب بنتا رہتا ہے۔ نوجوانوں میں کچھ کر دکھانے کی امنگ ہی نہیں ہوتی بلکہ وہ ذرائع اور وسائل پر دسترس کا زعم بھی رکھتے ہیں۔ وہ عزم اور حوصلے کی بنیاد پر عظیم الشان مستقبل کا آغاز کرنے کی جستجو میں ہوتے ہیں، یہیں سے ان کی شخصیت کی تعمیر ہو رہی ہوتی ہے۔

یہ ایک فیصلہ کن مرحلہ ہوتا ہے اگر اس عمل کے دوران انسان کو کامل یقین ہو کہ جو وہ کر رہا ہے اسے ایسا ہی ہونا چاہئے تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ کامیابی سے ہمکنار نہ ہو۔ لیکن کیا ہماری نوجوان نسل ایسا یقین رکھتی ہے جسے ایمانِ کامل کا درجہ حاصل ہو افسوس ایسا نہیں ہے ان کی بے یقینی بتاتی ہے کہ وہ یقین کی دولت سے محروم ہیں ورنہ اگر ایسا نہ ہوتا تو آج وہ ایک اجتماعی اضطراب میں نظر نہ آتے ۔

آج کے اس اضطراری تسلسل کو بہر صورت منقطع کرنا ہو گا ورنہ یہ بے یقینی بڑھ کر ناامیدی میں بھی ڈھل سکتی ہے ۔ ہمیں اپنے نوجوانوں کو یہ آگاہی فراہم کرنی ہو گی کہ امید، یقین اور جہدِ مسلسل کی مدد سے اس گرداب سے نجات حاصل کی جا سکتی ہے۔ پاکستان کو پرجوش نوجوانوں کی صورت میں ایک مضبوط بنیاد دستیاب ہے۔ حالیہ برسوں میں خود کش حملے پاکستان کی اس افرادی قوت کے غلط استعمال کی بھیانک مثالیں ہیں۔ ہم نے نوجوانوں کو اپنی ذات کو کھوجنے کا ڈھنگ نہیں سکھایا ہے نتیجتاً یہ خود کو اپنے پیش رو حضرات کی حکایت میں ہی ڈھونڈتے رہے اور اپنے عہد کے تقاضوں سے دور ہوتے گئے۔

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments

berozgari masharti bigaar ki barri wajah is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 08 January 2019 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.