کرونا وائرس، قوتِ مدافعت اور ویکسین

وائرس کی مثال بھی کچھ اسی طرح ہے، جسکا کوئی جسم نہیں اور یہ کسی جاندار خلیہ کے اندر داخل ہو کر اسکےنظام کو اپنے قبضہ میں کر لیتا ہے

ڈاکٹر حامدمرچنٹ، جامعہ ہڈرسفیلڈ، انگلینڈ جمعہ اکتوبر

Corona Virus Quwat Mudafiat
ڈراونی فلموں میں اکثر آپ نے بدروحوں کی کہانی سنی ہوگی جو دنیا میں بٹھکتی رہتی ہیں اور کسی اانسانی جسم میں پنہاں ہو کر اپنی تباہ کاریاں دکھاتی ہیں۔  وائرس کی مثال بھی کچھ اسی طرح ہے، جسکا کوئی جسم نہیں  اور یہ کسی جاندار خلیہ کے اندر داخل ہو کر اسکےنظام کو اپنے قبضہ میں کر لیتا ہے۔ وائرس کی اسی خصوصیت کی وجہ سے یہ  بیکٹیریا اور دیگر خوردبینی جاندار سے مختلف  ہے۔

بیکٹیریا اور دیگر خوردبنی جاندار کا اپنا جسم یعنی خلیہ ہوتا ہے اور ان میں اپنی افزائشِ نسل کی صلاحیت بھی موجود ہوتی ہے۔ اسکے برعکس وائرس اپنی افزائش نسل نہیں کر سکتے جب تک وہ کسی زندہ خلیہ میں داخل ہو کر اسکو اپنے حکم کے تابعدار نہیں بنا لیتے۔  وائرس کسی بھی جاندار خلیہ کے اندر داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ اس خلیے کے اندرونی نظام کو اپنے قابو میں کر کے اپنی افزائشِ نسل کر سکیں۔

(جاری ہے)

چاہے وہ پودے ہوں، پھول یا پھل، یا پھر کیڑے مکوڑے یا پھر بڑے جانور مثلاً چوہے، کتے، بلی، یا گائے، بکری وغیرہ۔ اسی طرح وائرس انسانوں کےخلیہ میں بھی  داخل ہوکر انکو اپنے قبضہ میں کر سکتے ہیں۔
یوں تو  بے تحاشہ وائرس اس سرذمین پر پائے جاتے ہیں مگر بہت کم وائرس ہی کسی جاندار چیز کے خلیہ میں داخل ہو پاتے ہیں۔ جس طرح ہم اپنے گھر اور جائداد کی حفا ظت کے لئے سیکیورٹی کا انتظام  کرتے ہیں اسی طرح ہر جاندار خلیہ کے داخلی راستوں پر بھی سخت نگرانی ہوتی ہے اور یوں ہی کوئی وائرس منہ اٹھا کر  داخل نہیں ہوسکتا۔

جن وائرس کو کسی جاندارکے خلیہ میں داخل ہونے کی کنجی مل جائے وہ اندر داخل ہو کر تباہی پھیلا سکتے ہیں۔ ان کو بیماری پھیلانے والے وائرس بھی کہتے ہیں۔ کچھ وارئس صرف پودوں کے خلیے میں داخل ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں اسلئے وہ صرف پودوں میں بیماری پھیلاتے ہیں جبکہ کچھ جانوروں میں اور کچھ انسانوں میں۔ پودوں اور جانوروں میں بیماری پھیلانے والے وائرس عموماً انسانوں کے خلیے میں داخل نہیں ہو پاتے اسلئے  انسانی صحت کے لئےبے ضرر ہوتے ہیں، مگر کچھ وائرس  ایک قسم کے جاندار سے دوسرے جاندار میں  منتقل ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں ، دورِ حاضر میں بین الاقوامی طور پر تباہی پھیلانے والا کرونا وائرس بھی ان وائرس کی ایک قسم ہے۔

 
جب کوئی بھی وائرس جسم میں داخل ہوتا ہے تو ، اس کا بنیادی مقصد  افزائش نسل ہوتا ہے، اسلئے وہ جاندار کے خلیہ کو اپنے قابو میں کرتے ہی اسکو افزائش پر مجبور کر دیتا ہے، وہ خلیہ ایک سے دو خلیوں میں بٹ جاتا ہے اور پھر دو سے چار، اور پھر چار سے آٹھ اور دیکھتے ہی دیکھتے سینکڑوں اور ہزاروں کی تعداد میں اس خلیہ کی نسل بڑھنے لگتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ  خلیہ بزات خود وائرس کی ایک  کاپی ہر نئے پیدا ہونے والے خلیے کے اندر نہ چاہتے ہوئے بھی منتقل کر دیتا ہے۔

اسطرح وائرس کی نسل بھی خلیہ کے ساتھ ساتھ  تیزی سے بڑھنے لگتی ہے اور وہ جاندار کے جسم کے تمام وسائل اپنے مفاد میں بروئے کار لاتے ہوئے تیزی سے پورے جسم میں پھیلنے لگتا ہے۔
مزے کی بات یہ ہے کہ جب وائرس کسی متاثرہ شخص کے خلیوں کے اندر ہوتا ہے تو  یہ بظاہر مدافعتی نظام کے خلیوں سے پوشیدہ ہوتا ہے۔ تاہم  متاثرہ خلیات اپنی بیرونی سطح پر اشارے کے طور پر نشانی ظاہر کر دیتے ہیں۔

جس طرح اگر کسی دروازے پر  خطرہ کی علامت  لگی ہو تو آپ چوکنہ ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح خلیہ کی بیرونی سطح پر اس علامت کو دیکھ کر جسم کے مدافعتی نظام کے خلیوں کو پتا چل جاتا ہے کہ کن خلیوں کے اندر وائرس موجود ہے۔  ٹی سیل نامی مدافعتی خلیوں کی ایک قسم ان اشاروں کو پہچان کر فوراً     مخصوص دفاعی ہتھیا ر جنہیں اینٹی باڈی کہتے ہیں  تیار کرتے ہیں  جو وائرس ذدہ خلیوں سے چمٹ جاتے ہیں اور انکو ختم کر دیتے ہیں۔

  اس عمل میں جیت کا دارومدار  اسبات پر مبنی ہے کہ جسم کا مدافعتی نظام کتنی تیزی سے حرکت میں آتا ہے اور کتنی تیزی سے اینٹی باڈیز کی تشکیل دیتا ہے۔ اگر وائرس کی افزائش نسل  اینٹی باڈیز کی تشکیل سے تیز ہو تو جسم وائرس کے بروقت  پھیلاؤ کو روکنے میں ناکام ہو جاتا ہے اور وائرس جسم کے مختلف  اعضاء میں پھیلنے میں کامیاب ہو جاتا ہےا ور پھر اسکو روکنا مشکل ہو جاتا ہے۔


اگر یہی وائرس جسم میں پہلے بھی کبھی داخل ہوا ہو تو جسم کے مدافعتی نظام میں اسکو پہچاننے کی صلاحیت ہوتی ہے اور وہ اینٹی باڈی بنانے کا عمل بہت تیزی سے کر سکتا ہے۔ مگر جب وائرس کسی مریض کو پہلی بار متاثر کرتا ہے تو وائرس کی شناخت اور اینٹی باڈی بنانے کا عمل  آہستہ آہستہ ہوتا ہے جسکی وجہ سے جسم کمزوری اور بیماری کی علامتیں محسوس کرنے لگتا ہے۔

  لیکن جب مدافعتی نظام وائرس  سے چھٹکارا پا نے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو عام طور پر بازیابی شروع ہوجاتی ہے۔مکمل طور پر صحتیا ب ہوجانے کے بعد بھی مدافعتی نظام   وائرس کے متعلق معلومات اپنی یادداشت والے خلیوں میں محفوظ کر لیتا ہے تاکہ مستقبل میں دوبارہ حملہ ہونے کی صورت میں فوراً وائرس کا خاتمہ کیا جاسکے۔وائرس سے چھٹکارہ پانے کے بعد بے تحاشہ تعداد میں  انیٹی باڈیز    بچ جاتی ہیں جنکو جسم فوراً ضائع نہیں کرتا  اور کچھ عرصہ تک اپنے اندر محفوظ رکھتا ہے تاکہ اگر وائرس اگر جسم میں کہیں چھپ کر بیٹھا ہو یا پھر دوبارہ سے کسی طرح جسم میں داخل ہو جائے تو یہ بنی بنائی تیار شدہ اینٹی باڈیز فوراً کام آسکیں اور وائرس کا بروقت خاتمہ کیا جاسکے۔

  یہ اینٹی باڈیز  حرف عام میں وائرس کے خلاف  امیونٹی کا کام کرتی ہیں اور بسا اوقات لمبے عرصہ تک موجود رہتی ہیں۔ اگر ایک مخصوص عرصہ تک وائرس دوبارہ داخل نہ ہو تو جسم ان اینٹی باڈیز کو توڑ کر حسبِ ضرورت  دوسری انٹی باڈیز یا کیمیائی اجزاء جنکی اس وقت  اشد ضرورت ہو، بنا لیتا ہے۔ اب جسم میں اس وائرس کے خلاف امیونٹی یا فوری مدافعتی صلاحیت ختم ہوجاتی ہے اور وائرس کے دوبارہ جسم میں داخلے کی صورت میں اینٹی باڈیز کی تیاری کا عمل پھر سے شروع کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔


انسانی جسم کے  اس مدافعتی نظام کو سمجھنے کے بعد سا ئنسدانوں نے ویکسین ایجاد کی۔ کسی بھی ویکسین میں بیماری پھیلانے والے جراثیم کا کوئی ٹکڑہ، مردہ جراثیم  یا  پھرزندہ مگر کمزور شدہ جراثیم موجود ہوتا ہے جو  ایک صحت مند انسان جسکا مدافعتی نظام ٹھیک کام کر رہا ہو، اسکے  جسم میں داخل کر دیا جاتا ہے۔  ایسا کرنے سے انسانی جسم کا مدافعتی نظام قدرتی طور پر جراثیم کے خلاف مدافعتی عمل شروع کر دیتا ہے اور اینٹی باڈیز کی تشکیل دے کر اسکا خاتمہ کر دیتا ہے۔

اس عمل کے دوران صحتمند انسان کو بیماری کی ہلکی پھلکی علامات ظاہر ہوتی ہیں مگر چونکہ داخل شدہ جراثیم میں مکمل طور پر بیماری پھیلانے کی صلاحیت نہیں ہوتی اسلئے وہ اس بیماری کا شکار نہیں ہوتا۔ اس طرح  تیار شدہ انٹی باڈیز اسکے جسم میں کچھ عرصہ تک بڑی تعداد میں موجود رہتی ہیں۔ اسطرح اگر خدا نہ خواستہ بیماری پھیلانے والا تاقتور جراثیم جسم میں داخل ہو جائے تو پہلے سےتیار شدہ اینٹی باڈیز کا یہ ذخیرہ اس جراثیم کو تباہ کاری پھیلانے سے پہلے ہی ختم کر دیتا ہے۔

اس کی مثال کچھ اسطرح ہے کہ جیسے اگر آپ کو دشمن کے حملے کی اطلاع پہلے سے مل جائے اور آپ اپنی دفاعی فوجوں کو حملہ سے پہلے  چوکنا کر دیں تو دشمن کے کامیاب ہونے کے امکان بہت ہی کم رہ جاتے ہیں۔ اچھی بات یہ ہے کہ جراثیم عموماً جسم میں بہت بڑی تعداد میں داخل نہیں ہوتا اور اپنی تعداد انسانی جسم میں داخلے کے بعد اپنی افزائش نسل کے ذریعے بڑھاتا ہے اسلئے اگر دفاعی نظام پہلے سے تیار ہو تو جراثیم کا خاتمہ کافی آسان ہو جاتا ہے۔

کسی بھی جراثیم کے خلاف   اس طرح کی مدافعتی   قوت پیدا کرنے کے عمل کو ایمیونٹی حاصل کرنا  کہتے ہیں۔  اس طریقے  سے ایمیونٹی حاصل کرنے کے لئے انسان کا تندرست ہونا بہت ضروری ہے تاکہ وہ ویکسین کے انجیکشن کے بعد مدافعتی نظام کو بروئے کار لاتے ہوئے قدرتی طور پر انٹی باڈیز بنا سکے۔  اگر انسان کے جسم میں ایسا کرنے کی بھرپور صلاحیت نہ ہو تو ممکن ہے کہ ویکسین لگنے کے با وجود بھی ایمیونٹی پیدا نہ ہو اور بیماری لگنے کا خطرہ لاحق ہو۔

یہ بھی ممکن ہے کہ ویکسین لگنے سے انسان الٹا شدید بیمار ہوجائے۔  اسی لئے کسی بھی ویکسین کا استعمال ڈاکٹر کی ہدایت کے بغیر کرنا بہت خطرناک ہے۔ جن لوگوں کی صحت ٹھیک نہ ہو اور انکا مدافعتی نظام کسی وجہ سے کمزور ہو، ان کواگر  بیماری قدرتی طور پر لگ جائے تو   انکی جان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ ایسے لوگوں کو چونکہ ویکسین بھی نہیں دی جاسکتی اسلئے  انہیں جزوی طور پر ایمیونٹی دے کر بیماری سی بچایا جا سکتا ہے۔

اس طریقہ میں  صحتمند انسان کے خون میں موجود انٹی باڈیز کو نکال کر دوسرے انسان کے جسم میں منتقل کر دیا جاتا ہےتاکہ اسکو بیماری سے بچایا جا سکے۔
گویا اگر جسم ایک دفعہ کسی وائرل انفیکشن سے صحتیاب ہو جائے تو اصولاً ایک مخصوص عرصہ تک دوبارہ وہی وائرس اس پر حملہ وار نہیں ہو سکتا، پھر سوال یہ اٹھتا ہے کہ فلو اور دیگر وائرل انفیکشن بار بار کیوں ہوجاتے ہیں ؟ اسکی بنیادی وجہ وائرس کے جنیاتی مرکب میں تبدیلی ہےجسے جینیاتی ارتقاء بھی کہتے ہیں۔

اسکی مثال یوں ہے کہ اگر ایک فیکٹری میں آپ مزدورں کو آرام کے بغیر مسلسل کام کروائیں تووہ اپنا کام بخوبی سرانجام نہیں دے پائیں گے۔ اسی طرح جب جسم کے خلیہ وائرس کے زیر اثر مسلسل اور تیز رفتاری کے ساتھ افزائش نسل کرتے ہیں تو وہ  وائرس کے جنیاتی مرکب کی کاپی کرتے وقت چھوٹی موٹی غلطی کر دیتے ہیں۔  جنیاتی مرکب میں یہ معمولی سی تبدیلی بعض اوقات اتنی معنی نہیں رکھتی  مگر تبدیل شدہ مرکب کی مزید کاپی بننے کے دورآن  یہ تبدیلی کا عمل جاری رہتا ہے اور وائرس کی شکل  میں واضح تبدیلی پیدہ ہوسکتی ہے۔

اس تغیر  کو سانسی ذبان مین میوٹیشن کہتے ہیں۔  یہ ایک عام عمل ہے اور اکثر ہمارے جسم کی افزائش کے دورآن ہماری صحتمند خلیوں میں بھی ہوجاتا ہے مگر فرق یہ ہے کہ ہمارے جسم میں تغیر پزیر خلیوں کو پہچاننے اور تباہ کرنے کے لئے انتہائی مؤثر نظام موجود ہے۔اس  نظام کی خرابی کی صورت ہی میں مختلف قسم کے کینسر جنم لیتے ہیں۔  بہر حال   وائرس میں یہ صلاحیت نہیں ہوتی کہ وہ اپنی جینیائی شناخت برقرار رکھ سکے ، اسلئے مسلسل تغیر پزیری کا شکار رہتا ہے۔

    اسطرح جب وائرس ایک جاندار سے دوسرے جاندار میں منتقل ہوتا ہے تو وہ بتدریج بدلتا رہتاہے۔  اور جب بہت ذیادہ تبدیل شدہ وائرس  دوبارہ  اسی انسان کے جسم کیں داخل ہوجائے  جسکے جسم میں اس وائرس کی اینٹی باڈیز پہلے سے موجود ہوں تب بھی   وہ انٹی باڈیز اسکے خلاف کام نہیں کرتیں اور نئی اینٹی باڈیز کی تیاری تک بیماری کی علامات دوبارہ  ظاہر ہو جاتی ہیں۔

اس عمل کی وجہ سے وہ وائرس جوتیزی سی تغیر پزیر ہوتے ہیں،   ہر سال بیماری پھیلاتے ہیں اور انکے خلاف لمبے عرصہ تک مدافعتی قوت یا امیونٹی کا برقرار رہنا مشکل ہوجاتا ہے۔ یہی وہ وجہ ہے کہ جسکی وجہ سے کرونا وائرس سے صحتیاب ہونے والے لوگوں کو دوبارہ بیماری لگنے کا خطرہ  موجود ہے۔ سائنس ابھی مکمل طور پر نہیں جانتی کہ کرونا وائرس کس حد تک اور کتنی تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے، اسلئے احتیاط بہت ضروری ہے۔


مختلف بیکٹیریل  انفیکشن کے لئے طرح طرح کی ادویات جنکو ہم حرف عام میں انٹی بائیوٹکس کہتے ہیں، دستاب ہیں جو کافی موثر طریقے سے بیماری پھیلانے والے بیکٹیریا کا خاتمہ کر کے صحتیابی بخشتی ہیں۔  دنیا کی پہیلی انٹی بائیوٹک جسکا نام پینیسلن ہے، اسکی  دریافت ایلگزینڈر فلیمنگ  نے ؁۱۹۲۸  میں کی۔  اس دریافت سے پہلے نسل انسانی بے تحاشہ بیکٹیریل انفیکشن سے پریشان تھی اوربیشتر وبائی بیماریوں نے ماضی میں انسانوں کی بڑے پیمانے پر نسل کشی کی۔

  انٹی بائیوٹکس کی دریافت نے انسانی زندگی کو ایک نیا تحفظ دیا اسی لئے دنیا میں اسبات پر ذور دیا جاتا ہے کہ انٹی بائیوٹکس کا بے جا اور غلط استعمال نہ کریں کیونکہ ایسا کرنے سے بیکٹیریا  انٹی بائیوٹکس کے خلف مدافعت پیدا کر لیتے ہیں اور وہ وقت دور نہیں جب انسانی غفلت اور جلد باذی کی وجہ سے کوئی ایسا بیکٹیریا جنم لے جس کے خلاف کوئی انٹی بائیوٹک  کام نہ کرے اور وہ ماضی کی طرح ان گنت انسانی جانوں کے ضیاں کا سبب  بنے۔

   خیال رہے کہ انٹی بائیوٹکس صرف بیکٹیریا کے خلاف ہی کام کرتی ہیں اوروائرس کے خلاف بالکل کام نہیں کرتیں۔  انٹی بائیوٹکس اور جسم کے مدافعتی نظام کی تیار کروہ اینٹی باڈیز کے درمیان بہت فرق ہے، انٹی باڈیز  وائرس اور دیگر بیماری پھیلانے والے جراثیوں کا قدرتی طور پر خاتمہ کرتی ہیں۔ یہ اینٹی باڈیزجسم کا مداعفتی نظام قدرتی طور پر  تیار کرتا ہے اور یہ عام طور پر دواؤں کی شکل میں دستاب نہیں ہوتیں۔

  وائرس کے خلاف عام طور پر جو دوائیاں استعمال کی جاتی ہیں انکو انٹی وائرل کہا جاتا ہے اورسائنس نے اب تک کئی انٹی وائرل میڈیسنز تیار کی ہیں جو مختلف وائرس کے خلاف افادیت رکھتی ہیں۔ چونکہ بیکٹیریا کی طرح وائرس کا اپنا کوئی جسم نہیں ہوتا اسلئے وائرس کو اسطرح نہیں مارا جاسکتا جسطرح انٹی بائیوٹکس بیکٹیریا کا خاتمہ کرتی ہیں۔ انٹی وائرل دوائیاں صرف وائرس کی افزائش نسل کے عمل کو روکتی ہیں اور ہمارے جسم کو  اتنی مہلت مل جاتی ہے کہ مدافعتی نظام وائرس کے خلاف مناسب مقدار میں اینٹی باڈیز تیار کرکے اسکا خاتمہ کر سکے۔

اینٹی وائرل دواؤں کی بھی کئی اقسام ہیں اور وہ مختلف وائرس کی بناوٹ اور جنیاتی شکل کے مطابق ان کا نشانہ بناتی ہیں۔ ایسا ممکن نہیں کہ یہ دوائیں تما م وائرسوں کے خلاف یکساں مفید ہوں اسلئے بہت سی وائرل بیماریوں سے شفاء آج بھی انسانی جسم کے مدافعتی نظام کے مرونِ ملت ہے۔

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

Corona Virus Quwat Mudafiat is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 16 October 2020 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.