درگاہ اجمیر شریف کو شہید کرنے کا گھناؤنا منصوبہ

بابری مسجد کی شہادت کے بعد․․․․․․ ہندو فرقہ پرست تنظیموں کا درگاہ کے مقام پر مندر بنانے کی مہم کا آغاز

منگل جنوری

dargah ajmer sharif ko shaheed krny ka mansoba
رابعہ عظمت:
بھارت میں ہندو فرقہ پرستی میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اقلیتوں بالخصوص مسلم تہذیب وثقافت مسلسل خطرے میں ہے۔ مسلم پرسنل لاء میں مداخلت ، تین طلاق کا جرم قرار دینا اور گھر واپسی جیسے یکے بعد دیگرے مذموم سلسلوں کے ذریعے مسلمانوں کے گر د گھیرا تنگ کردیا گیا ہے۔ بی جے پی، آر ایس ایس کے ہندو راشٹریہ کے نفاذ کے مشن کی تکمیل پر کاربند ہے اور بتدریج ہندوستان کو ایک ہندو توا ریاست میں تبدیل کیا جارہا ہے ۔

آسام ، اتر پردیش، مدھیہ پردیش، ہما چل اور گجرات اسمبلی الیکشن میں کامیابی کے بعد ہندو انتہا پسندوں کے حوصلے مزید بڑھ گئے ہیں۔ مساجد درگاہیں اور مزار سنگھ پریوار کے نشانے پر ہیں آج سے 25 سال قبل 1992ء میں بابری مسجد کو شہید کرکے مسلمانوں کے دل پر وار کیا تھا اور آج تک مسلمان بابری مسجد کی ملکیت کی جنگ لڑرہے ہیں۔

دوسری طرف تاج محل آگرہ کو تباہ کرنے کا منصوبہ بنایا جارہا ہے ۔

ہندو انتہا پسند تنظیمیں تاج محل کے اند پوجا پاٹ کرنے کیلئے پَرتول رہی ہیں۔ جبکہ درگاہ اجمیر شریف کو شہید کرنے کے گناؤنے منصوبے کا انکشاف بھی منظر عام پر آگیا ہے۔ بھگوا تنظیموں نے اجمیر شریف کی مسماری اور وہاں مندر بنانے کی مہم کا آغاز کردیا ہے ۔ انگریزی ویب پورٹل ”دی وائر“ کی ایک رپورٹ کے مطابق درگاہ کے خادموں اور مسلم کمیونٹی نے شیو سینا ہندوستان کے شر انگیز مطالبے کی پُرزور مذمت کی اور سخت احتجاج بھی کیا ۔

شرپسندوں نے حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمتہ اللہ علیہ کے خلاف نازیبا کلمات کی ادائیگی سے سارے اجمیر میں کشیدگی پھیلا دی ہے ۔ مزار کے خدام نے شکایت درج کروائی اور یہ مطالبہ کیا کہ مذکورہ بھگوا تنظیم پر فوری پابندی عائد کی جائے۔ شیو سینا کے سیکرٹری جنرل نے اپنے سیوکوں سے کہا ہے کہ ایسی مہم چلائی جائے کہ قدیم ترین درگاہ کو شہید کرنے کیلئے ہندوؤں کی اکثریتی طبقے کی حمایت حاصل ہوجائے اور یہ بھی شرانگیز بیان دیا کہ اس مقام پر مندر بننا چاہیے۔

واضح رہے کہ درگاہ اجمیر شریف سے مسلمان ہی نہیں بلکہ ہر مذہب کے افراد عقیدت رکھتے ہیں اور یہاں حاضری دینے آتے ہیں اپنی منتوں ، مرادوں کو پوری کروانے کیلئے دعا مانگتے ہیں۔ ایک روایت ہے کہ یہاں جو بھی دعا مانگی جائے پوری ہوتی ہے۔ اجمیر شریف درگاہ کے گدی نشین اور چشتی فاؤنڈیشن کے چیئرمین کے مطابق شیو سینا وہی فرقہ پرست جماعت ہے جس نے ابھی حال ہی میں بے گناہ مسلمان افراد کو گائے ذبح کرنے کی آڑ میں قتل کردیا تھااور عدالے کے مین دروازے پر بھگوا جھنڈا بھی لہرایا تھا۔

درگاہ کے خادموں کا کہنا ہے کہ درگاہ ہندو مسلم بھائی چارے کی علامت ہے اور 8 سو سال سے یہاں عقیدت مندوں کی بڑی تعداد روزانہ حاضریی دینے آتی ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ ایسا ناپاک منصوبہ سامنے آیا ہے۔ خواجہ معین الدین چشتی اجمیری کا آستانہ امن ویکجہتی کا مرکز ہے خواجہ صاحب نے امن ومحبت کا پیغام دیا ہے وہاں مختلف مذاہب کے ماننے والے زیارت کیلئے آتے ہیں اور سرکار غریب نواز کے فیضان سے مالا ہوتے ہیں۔

درگاہ اجمیر شریف بھارتی ریاست راجستھان کے ضلع اجمیر میں واقع ہے۔ نومبر1956ء سے قبل یہ ریاست اجمیر کا حصہ تھا مگر بعد میں اسے راجستھان میں ضم کردیا گیا۔ اجمیر ایک اہم ریلوے جنکشن ہے اور کپڑے کی صنعت کا مرکز ہے بھی۔درگاہ اجمیر شریف خواجہ معین الدین چشتی اجمیری کی آخری آرام گاہ ہے عموماََ سے درگاہ خواجہ غریب نواز بھی کہتے ہیں۔ مغل بادشاہ جلال الدین اکبر ملکہ سمیت یہاں زیارت کیلئے آیا کرتے تھے۔

درگاہ سے اجمیر کے راستے شہنشاہ اکبر نے کو س مینار تعمیر کروائے جو ہر 3میل کے فاصلے پر بنائے گئے۔ درگاہ پر ڈیڑھ لاکھ سے زائد زائرین دنیا بھر سے یہاں حاضری دینے آتے ہیں۔ مزار کے قریب دو عمارتیں سنگ مرمر کی بنائی گئی ہیں جن کے دو بھاری دروازے نظام حیدر آباد کے عطیہ کردہ ہیں مزار سے ملحق اکبری مسجد مغل حکمران شاہ جہاں نے تعمیر کروائی تھی۔

تاہم درگاہ اجمیر شریف خواجہ صاحب ایکٹ1955ء کے تحت راجستھان حکومت کی تحویل میں ہے۔ تاریخی شواہد کے مطابق مغل بادشاہ اکبر نے 12 مرتبہ اجمیر کی زیارت کی اور کئی بار اس نے فتح پور سیکری سے پیدل اجمیر کا سفر کیا ۔ اس نے ایک مسجد اور نئی عمارتوں کے علاوہ 1567ء میں بڑی دیگ کی تعمیر بھی کروائی جس میں سو من چاول پکتے ہیں۔ نورالدین جہانگیر تخت نشین ہونے کے آٹھویں سال میں اجمیر آیا ۔

جب اجمیر شہر کے آثار نظر آنے لگے تو وہ پیدل درگاہ شریف تک پہنچا۔ 1025ھ میں اس نے ایک لاکھ دس ہزار روپیہ کی لاگت سے ایک طلائی مجھر بنایا جو اب موجود نہیں ہے ۔چھوٹی دیگ بھی بنائی جس میں80 من چاول پکتا ہے۔ شاہ جہاں نے اپنے 21 سالہ دور میں پانچ بار حاضری دی اور روضہ مبارک سے ملحقہ سنگ مرمر کی عالیشان مسجد تعمیر کروائی مسجد کی تعمیر میں اس دور میں دو لاکھ چالیس ہزار روپے خرچ ہوئے تھے۔

شاہ جہاں کی لاڈلی بیٹی جہاں آرا ء بیگم کوخواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمتہ اللہ علیہ سے بے حد عقیدت تھی وہ رمضان1053ھ میں اپنے والد کے ساتھ اجمیر آئی تھی۔ جہاں آرا نے ایک دلان تعمیر کروایا جو ”بیگمی دلان“کے نام سے مشہور ہے۔شہنشاہ اورنگزیب بھی متعدد بار اجمیر حاضر ہوئے۔ وہ اپنی قیام گاہ سے پیدل اجمیر حاضری دیتے تھے۔ہندو مہاراج گوبند سنگھ نے بھی یہاں حاضری دی اور اپنی کا میابی کی دعا مانگی اور بامراد ہوئے۔

لارڈکرزن سابق وائسرئے ہند نے برطانوی دور حکومت میں اجمیر آئے اور اپنے تاثرات کا یوں اظہار کیا تھا ۔”میں نے دیکھا کے ہندوستان میں ایک قبر حکومت کررہی ہے“۔ گاندھی نے دربار پر حاضری دیتے وقت کہا تھا کہ ”یہاں آکر میری روح کو بڑا چین ملا ہے“۔ سابق بھارتی صدر ڈاکٹر راجندر پرشاد نے کہا کہ ”خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمتہ اللہ علیہ کی زندگی کی روشنی کا مینارہ تھی جس نے دور دور تک اجالا پھیلایا یہ روشنی دلوں میں اسی طرح اتر گئی اور پوری دنیا کو جگمگادیا کہ دنیا حیران رہ گئی“۔

پنڈت جواہر لال نہرو نے کہا” ایسے ہی مقدس مقامات سے ہندو مسلم اتحاد کا بھی درس لیا جاسکتا ہے“۔ راجیو گاندھی نے 1991ء میں اجمیر حاضری کے وقت کہا تھا”اجمیر میں درگاہ غریب نواز پر آکر دلی سکون محسوس کیا ہے“۔دریں اثناء بھارت کو ہندو راشٹریہ بنانے کا سفر تیزی سے جاری ہے نریندر مودی نے گزشتہ اڑھائی سال سے ہندو توا کے ایجنڈے پر پوری شدت سے عملدرآمد کررکھا ہے۔

مودی سرکار جس ریمورٹ کنٹرول پر چلائی جارہی ہے وہ آر ایس ایس کے ہیڈ کوارٹر ناگپور میں ہے اور آر ایس ایس کا اصل مقصد ہی بھارت کو ہندو مملکت بناناہے اور اس کی راہ میں مسلمان ہی سب سے بڑی رکاوٹ سمجھے جاتے ہیں ان کی تہذیب وثقافت ، اسلامی قوانین، ایک ہزار سالہ مسلم دور حکومت اور ان کی عظمت رفتہ کی پورے ہندوستان میں پھیلی ہوئی عظیم نشانیاں سنگھ پریوار جنہیں مٹانے کے درپے ہیں کیونکہ مسلمانوں کی تاریخی مساجد ، اولیاء کرام، صوفیان دین کے مزارات ودرگاہیں بھارت کے چپے چپے پر قائم ہیں۔

ہندو فرقہ پرست کے بڑھتے ہوئے عفریت نے اب انہیں بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ۔آج سے 25 برس قبل بابری مسجد کو شہید کیا گیا گجرات مسلم کش فسادات 2002ء میں احمد آباد سمیت دیگر علاقوں میں قائم درگاہیں ، مزار اور مساجد کو شہید کرکے ان پر بھگوا پرچم لہرا دیا گیا۔ جن کی تعداد پانچ سو سے زائد بنتی ہے۔ دہلی میں بھی مساجد اور درگاہوں کا آہستہ آہستہ مٹایا جارہا ہے ۔

مسلم حکمرانوں سے منسوب شہروں اور شاہراہوں کے نام تبدیل کرکے کٹر ہندوؤں کے نام پر رکھے جارہے ہیں۔ مسلم تاریخ کو تبدیل کیا جارہاہے۔ مسلم حکمرانوں اور بادشاہوں کا کردا مسخ کیا جارہا ہے۔ ٹیپو سلطان ، شہنشاہ اورنگزیب ، شاہ جہاں کی کردار کشی کا سلسلہ جاری ہے۔ آرایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت ایک سے زائد مرتبہ بھارت کو ہندو راشٹریہ قرار دے چکے ہیں ان کا کہنا ہے کہ ”یہاں کا ہر باشندہ بنیادی طور پر ہندو ہے“۔

بنیادری طور پر ہندوباشندے کا مطلب یہ ہے کہ چاہے وہ مسلمان ہو ، عیسائی ہو ، سکھ ہو، اسے بہر صورت واپس ہندو بننا ہوگا۔ جس کیلئے مسلمانوں کو ہندو بنانے کیلئے ”شدھی کرن“ کا پروگرام کا آغاز ہوا مسلم باشندوں کو گھر واپسی کے نام پر جبراََ ہندو بنایا گیااور اب بھی خفیہ طور پر یہ ناپاک سلسلہ چل رہا ہے۔ وشواہندو پریشد کے جنرل سیکرٹری اشوک سنگھ نے کہا تھا کہ ہندوستان میں آٹھ سو سال بعد ہندوؤں کا راج قائم ہوا ہے اور اس عرصے میں پہلی بار ہندوؤں کے لئے فخر کی علامت ایک سوئم سیوک کو وزیراعظم کی کرسی پر بیٹھنے کا موقع ملا ۔

وشواہندپریشد کے مطابق اگر مسلمانوں کو بھارت میں رہنا ہے تو انہیں ہندو بن کر رہنا ہوگا۔بی جے پی کے لیڈر ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مسلمان تسلیم کرلیں کہ وہ ہندو آباؤ اجداد کی اولاد ہیں۔انہوں نے مساجد کو محض عمارتیں قرار دیکر کسی وقت بھی مسمار کرنے کی دھمکی دے رکھی ہے۔ درگاہ اجمیر شریف کو شہید کرنے کا منصوبہ بھی اسی مذموم سلسلے کی کڑی ہے۔

مسلمانوں کے قاتلوں ہندو دہشتگردوں کو رہا کیا جارہا ہے ۔ ہندو دہشتگرد کرنل پروہت کو بھی رہائی مل چکی ہے۔ مسلم نسل کشی میں ملوث ملزموں کو بھی کلین چٹ دی گئی ہے ۔ یہ ہے سیکولر بھارت کا انصاف۔ گجرات فسادات 2002ء میں کانگریسی رکن پارلیمنٹ احسان جعفری کی بیوہ کو آج تک انصاف نہیں مل سکا۔ وہ اپنے شوہر کے قاتلوں کو سزا دلوانا چاہتی ہیں پچاس مسلمانوں سمیت انہیں کے گھر میں زندہ جلادیا گیا تھا۔

آج پندرہ سال بعد بھی ہنوز دربدر ہیں۔ مودی سرکار ہر گزیہ نہیں چاہتی کہ مکہ مسجد حیدر آباد اور اجمیر شریف بم حملے میں ملوث ملزموں کے خلاف مقدمات تیزی سے آگے بڑھائے جائیں، اگرچہ ان کے خلاف شواہد بہت مضبوط ہیں۔ ان کیسز سے پیچھا چھڑانے کا واحد حل یہی ہے کہ انہیں سرد خانے میں ڈال دیا جائے۔ اجمیر شریف پر 2007ء میں دہشتگردی کی کارائی ہوئی تھی جس میں مزار پر حاضری کیلئے آئی عقیدت مندوں کی کثیر تعداد دہشتگردی کا شکار ہوئی تھی۔

افسوس اتنے سال گزرنے کے باوجود ملزموں کو سزا نہ ہوسکی بلکہ مسلمانوں کو جھوٹے الزامات میں پھنسا کر جیل میں ڈال دیا گیا جہاں وہ اپنے ناکردہ گناہوں کی سزا بھگتنے کیلئے مجبور ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم مخالف کاروائیوں میں ملوث ہندو دہشتگردوں کو تیزی سے رہا کیا جارہا ہے۔ بیشتر کو ضمانت مل چکی ہے اور بعض کی باعزت رہائی کا بندوبست بھی کیاگیا ہے ۔ میڈیا بھی آرایس ایس کے قبضے میں ہے جسے مذموم مقاصد کیلئے بلا خوف وخطر استعمال کیا جارہا ہے۔

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments

dargah ajmer sharif ko shaheed krny ka mansoba is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 09 January 2018 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.