الیکشن کمیشن بھی متحرک ہو گیا

ترقیاتی منصوبوں کے افتتاح اورتشہیر پر پابندی نئی حلقہ بندیا ں مسترد، پرانی پرالیکشن کے لئے آئینی ترمیم کی جائے۔ ورکنگ کمیٹی قومی اسمبلی

جمعرات اپریل

election commission bhi mutharrak ho gaya
سید ساجد یزدانی
الیکشن کمیشن نے چاروں صوبوں میں ترقیاتی منصوبوں اور سکیموں کی تشہیر پرمکمل پابندی عائد کر دی تشہیری مہم سے متعلق چیف سیکرٹری پنجاب کو خط لکھ دیا۔ خط میں کہا گیا ہے کہ آئندہ الیکشن تک ہر قسم کے ترقیاتی منصوبوں کے افتتاح اور سنگ بنیاد پر پابندی ہو گی۔ وزراء‘ ارکان قومی و صوبائی اسمبلی چیئر مین اور ناظمین بھی ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح یا سنگ بنیا نہیں رکھ سکتے۔

سیکرٹری الیکشن کمشن بابر یعقوب فتح محمد نے لوگوں اور ووٹروں کو ہرممکن سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ رہنمائی کیلئے تمام ڈسپلے سینٹرز اپنے اوقات میں کھلے رہنے چاہئیں۔ سیکرٹری الیکشن کمیشن کی زیر صدارت لاہور میں اجلاس ہوا جس میں انتخابی فہرستوں کی نظر ثانی پر پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔

(جاری ہے)

علاوہ ازیں الیکشن کمیشن نے ضلع وارڈسپلے سینٹروں کی فہرست اپنی ویب سائٹ پر جاری کر دی ہے۔

یہ مراکز پورے ملک میں قائم کئے جا چکے ہیں جہاں 10 کروڑ 42 لاکھ ووٹر اگلے ماہ کی 24 تاریخ تک اپنی تفصیلات کے اندراج، اخراج اور درستگی کے لئے رابطہ کر سکتے ہیں۔ ووٹروں کی سہولت کیلئے معلوماتی اور شکایتی مراکز بھی قائم کئے گئے ہیں۔ کوئی بھی اپنے ووٹ کے اندراج کی تفصیلات 8300 پر اپنا قومی شناختی کارڈ نمبرمیسج کر کے حاصل کر سکتا ہے۔ الیکشن کمیشن میں نئی مجوز و حلقہ بندیوں پر اعتراضات جمع کرانے کے لئے دو روز باقی رہ گئے۔

اعتراضات جمع کرانے کی آخری تاریخ 3 اپریل ہے جبکہ تاحال375 اعتراضات ہی الیکشن کمشن کے پاس جمع کرائے جا سکے۔ تفصیلات کے مطابق سب سے زیادہ اعتراضات پنجاب اور اسلام آباد سے جمع کرائے گئے ہیں جن کی تعداد 186 ہے جبکہ سندھ سے 112، بلوچستان سے 30 اور خیبر پی کے اور فاٹا سے 47 اعتراضات جمع کرائے گئے ہیں۔ قومی اسمبلی کی انتخابی حلقہ بندیوں سے تعلق ورکنگ گروپ کی خصوصی کمیٹی نے حد بندیوں کے حوالے سے 5 سفارشات تیار کر لیں ،کمیٹی نے سفارش کی کہ مردم شماری کے عبوری نتایج کی حلقہ بندیوں کے حوالے سے کی جانے والی آئینی ترمیم واپس لیتے ہوئے نئی آئینی ترمیم کی جائے،آئینی ترمیم کے تحت آئندہ عام انتخابات کے تحت پرانی حلقہ بندیوں پر کروائے جا سکیں گے ، حلقہ بندیوں کے اعتراضات سننے کیلئے الیکشن ایکٹ کے سیکشن 20 میں ترمیم کی جائے حکومت وفاقی انکوائری کمیشن تشکیل دیتے ہوئے حلقہ بندیاں کرنے والی الیکشن کمیشن کی کمیٹیز کے دائر ہ اختیار اور ان ارکان کے حوالے سے مکمل تحقیقات کرے، آئین کے آرٹیکل 184 کے تحت سپریم کورٹ حلقہ بندیوں میں ہونیوالی بدانتظامی کا ازخود نوٹس لے اور قومی اسمبلی ورکنگ گروپ کی سفارشات پر قرارداد پاس کرے ، پانچ سفارشات اسپیشل کمیٹی کو بھیجی جائیں گی۔

ہفتہ کو ورکنگ گروپ کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس کنوینئردانیال عزیز کی زیر صدارت ہوا۔ کنوینئرکمیٹی دانیال عزیز نے مرتب کردہ رپورٹ کے حوالے سے ارکان کو آگاہ کیا کہ پنجاب کے سارے قومی اور صوبائی حلقوں میں حد بندیوں سے متعلق الیکشن کمیشن کے اپنے ہی قوانین کی خلاف ورزی کی گئی ہے، پنجاب کے قومی اسمبلی کے 141 اور صوبائی اسمبلیوں کی 297 انتخابی حلقوں میں قوانین کی خلاف ورزی کا انکشاف ہوا ہے،سندھ کے قومی اسمبلی کے 61میں سے 15 جبکہ صوبائی اسمبلی کے 130 میں سے 121 حلقوں میں حد بندیوں کے قواعد کی خلاف ورزی کا پتہ لگایا گیا ہے، الیکشن کمیشن نے خیبر پی کے کے قومی اسمبلی کے 39میں سے 18 جبکہ صوبائی اسمبلی کے 99میں سے88 حلقوں میں رولز کی خلاف ورزی کی ، بلوچستان اسمبلی کے قومی اسمبلی کے 16 میں سے 3 جبکہ صوبائی اسمبلی کے 50 میں سے 10 حلقوں میں رولز کی خلاف ورزی بھی سامنے آ ئی ،قوانین کے تحت انتخابی حد ووشما ل سے مشرق کی جانب اور "زگ زیگ " طرز پر کی جانی ضروری ہیں تا ہم الیکشن کمیشن کی جانب سے کئی حلقوں میں اس مروجہ طریق کار پرعمل نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ورکنگ گروپ کے قیام کا مقصد حد بندیوں کے حوالے سے اپنی سفارشات تیار کرتا تھا، ہمارا مقصد کسی بھی دوسرے ادارے کے کام میں مداخلت ہرگز نہیں نہ ہی ہم انتخابات میں تاخیر چاہتے ہیں، ایسے کئی شواہد سامنے آئے کہ الیکشن کمیشن نے انتخابی حد بندیوں کے لئے مقامی پر جائزہ ہی نہیں لیا بلکہ صرف نقشوں کا سہارا لیا گیا، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ نقشے ساتویں جماعت کے بچوں نے تیار کئے ہیں ، الیکشن کمیشن کے نقشوں کا معیار بھی ناقص تھا ،معلوم ہوا کہ قانون گوہی اور تحصیل کے الفاظ الیکشن ایکٹ اور قواعد میں شامل نہیں تاہم الیکشن کمیشن نے جونوٹیفیکشن جاری کیا گیا اس میں یہ دونوں اصلاحات استعمال ہوئے جس سے حد بندیاں بہت متاثر ہوئیں۔

الیکشن کمیشن حکام نے حد بندیاں کرنے والی کمیٹی کے ارکان کے نام بھی نہیں بتائے، الیکشن کمیشن نے حد بندیاں کرنے والی کمیٹی کے ارکان کی قابلیت اور ماضی کے تجربے کے بارے میں بھی نہیں بتایا، ہمارے کئی سوالات کے بعد الیکشن کمیشن کے حکام نے ورکنگ گروپ کے اجلاس میں شرکت کرنا ہی چھوڑ دیا۔ کمیٹی ارکان نے جو مینہ کاری کی ہے اسے عوام کے سامنے لایا جائے گا، کمیٹی ارکان حقائق چھپا نہیں سکتے ، الیکشن کمیشن کو کمیٹی ارکان کے انتخاب میں اختیار کیا جانے والا طریقہ کار بتانا ہو گا۔

ورکنگ گروپ نے سفارش کی ایک وفاقی انکوائری کمیشن نیا دیا جائے۔ حلقہ بندی کرنے والی کمیٹی کے مقاصد کی تحقیقات کرے، انکوائری کمیشن حلقہ بندیاں کرنے والے ارکان کو گرفتار کر کے تحقیقات کر سکتی ہے۔ قومی اسمبلی ورکنگ گروپ کی سفارشات پرقرارداد پاس کر کے انکوائری کمیشن پانامہ طرز پر صدارتی آرڈیننس کے ذریے بنایا جائے۔سنیٹر پرویز رشید نے کہا ہے الیکشن سے قبل مسلم لیگ (ن) کو کمزور کیا جارہا ہے۔

الیکشن کمشن نے عدلیہ کی نگرانی انتخابات کرانے کا منصوبہ بنایا ہے لیکن ایسے عدلیہ کی زیر نگرانی منصفانہ انتخابات کے جواب سنے۔ شکوک و شبہات پیدا ہونگے۔ مسلم لیگ (ن) نے وزیراعظم اور چیف جسٹس ثاقب نثار کے درمیان بھی ملاقات کی خواہش نہیں کی ملاقات میں کیا ہوا علم نہیں۔ وزیراعظم بریف کریں گے تو معلوم ہوگا۔ شاہد خاقان نے کارکن مسلم لیگ (ن) نہیں بلکہ ریاست کے سربراہ کی حیثیت سے چیف جسٹس سے ملاقات کی۔

تمام اداروں کو حدود میں رکھنے کے حوالے سے سیاسی جماعتوں کو متفق ہونا چاہے۔ 2013ء کے انتخابات بھی عدلیہ کی زیرنگرانی کرائے گئے لیکن اکثر جماعتوں نے شفافیت پر سوالات اٹھائے اب پھر ایسا ہونے جا رہا ہے نئی حد بندیوں کے باعث مسلم لیگ (ن) متاثر ہوئی۔ ایک سوال کے جواب میں پرویز رشید نے کہا جب ملک کے منتخب وزیراعظم کو بے بنیادالزامات پر گھر بھیج دیا گیا تو پاکستان کے بارے میں غیرملکی سرمایہ کاروں نے اپناذ ہن بدل لیا ہے ملک کی ساکھ کمزور ہوئی اور اب ہوسکتا ہے کہ پاکستان کو بلیک لسٹ کردیا جائے.

Your Thoughts and Comments

election commission bhi mutharrak ho gaya is a political article, and listed in the articles section of the site. It was published on 19 April 2018 and is famous in political category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.