ہمارا روشن مستقبل

ہمارا سارا زور بچوں کی تعلیم اور پرورش پر ہوتا ہے۔ ہم کبھی بھی اپنے بچوں کی تربیت کو اہمیت نہیں دیتے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہم آج ایک بیکار، ذہنی خلفشار و انتشار کا شکار اور بے حس بچوں کی کھیپ معاشرے میں شامل کر رہے ہیں

محمد علی رضا منگل جولائی

hamara roshan mustaqbil
ایک بچہ،عمر صرف بارہ برس، گھر کا سب سے لاڈلا، ماں کی محبتوں کا محور،جس کی پسند و نا پسند کا سب خیال رکھتے، اسی بیٹے کی ایک دن گھر کے ملازم سے کسی بات پران بن ہو گئی، بچہ جو کہ بہت ہی نازو نزاکت سے پلا تھا، اپنی معمولی سی گستاخی بھی برداشت نہ کر سکا۔ وہ طیش میں آیا اور گھر کے اسی بوڑھے ملازم کو تھپڑ دے مارا،ماں کو جب اس غیراخلاقی حرکت کا علم ہوا تو اس نے بغیر کسی مصلحت کے،بڑے نازوں سے پلے،اپنے لخت جگرپرنہ صرف خوب سختی کی بلکہ اسے گھر سے نکال دیا۔

 بچہ اپنی خالہ کے گھر چلا گیا۔ بچے کی خالہ کچھ روز بعد اس کی سفارش کرنے آئیں تواس شرط پر اس کو گھر واپسی کی اجازت ملتی ہے کہ وہ آئندہ ایسی غلطی نہیں کرے گا اور ملازم سے تہہ دل سے معافی مانگے گا۔بچہ گھر آتا ہے،ملازم سے، ماں سے معافی مانگتا ہے اور پھر وہی بچہ آگے چل کرسر سید احمدخان بنتا ہے۔

(جاری ہے)

جی ہاں!وہی سر سید احمد خاں جو برصغیر میں مسلم نشاة ثانیہ کے بہت بڑے علمبردار بنے، جنہوں نے مسلمانوں میں بیداری اور علم و تحقیق کی تحریک پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

مسلم امہ کی ذہنی، فکری، سماجی و معاشی پسماندگی کو علی گڑھ کی علمی تحریک سے مستفید کر کے، جدید علوم سے آراستہ کیا۔ دو قومی نظریے کو تقویت دی، مسلمانوں کی جداگانہ حیثیت کو اس قدر مضبوط کیاکہ مولوی عبدالحق جیسی نابغہ روزگار شخصیت یہ کہنے پر مجبور ہو گئی کہ " قصر پاکستان کی بنیاد میں پہلی اینٹ، اسی مرد پیر کی ہے "۔
آپ ذرا غور تو کیجیے! کیسے ایک مہذب ماں،اپنی تربیت سے عام سے بچے کو "سرسید "بنا دیتی ہے اور پھروہ ایک سرسید،پوری قوم کی تربیت کر کے اسے ترقی کے زینے کی طرف گامزن کر دیتاہے۔

اب آپ ذرا ہماراالمیہ تو دیکھیے! ہمارا تعلق اس مذہب سے ہے جو زندگی کے ہر کام اورہر سطح پر ہماری راہنمائی کرتا ہے۔ ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات ہمیں بتاتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " والدین کی طرف سے سب سے بہترین تحفہ، ان کی اولاد کے لیے اچھی تربیت ہے "۔ جبکہ ہم اس کے برعکس، اپنی حیثیت کے مطابق،اپنی اولادوں کو سب کچھ مہیا کرتے ہیں، نہیں کرتے تو بس ایک کام، ان کی تربیت نہیں کرتے۔

ہم مذہب کو بھی اپنی پسند نا پسند کے مطابق استعمال کرتے ہیں۔ مذہب کے نام پر ووٹ دیں گے،مذہب کے نام پر اپنی اپنی ڈھائی اینٹ کی مسجد بنا لیں گے، مذہب کے نام پر سیاست اور تجارت چمکا لیں گے۔ مذہب کے نام پر ایک دوسرے کا سر قلم کر وا کر لاشوں کے انبار لگا دیں گے، پر نہیں کریں گے تو بس ایک کام!وہ یہ کہ دین کونہ سمجھیں گے اور نا ہی سمجھنے کی،کوش کریں گے اور ستم در ستم! نہ ہی دین سے اپنی آنے والی نسلوں کی راہنمائی کریں گے۔

ہمارا سارا زور بچوں کی تعلیم اور پرورش پر ہوتا ہے۔ ہم کبھی بھی اپنے بچوں کی تربیت کو اہمیت نہیں دیتے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہم آج ایک بیکار، ذہنی خلفشار و انتشار کا شکار اور بے حس بچوں کی کھیپ معاشرے میں شامل کر رہے ہیں۔ اگر ہم اپنے مستقبل کو محفوظ اور اپنی آئندہ نسلوں کو بہترین زندگی فراہم کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں فوراً بچوں کی تربیت کی طرف سنجیدگی اور یکسوئی سے توجہ دینا ہو گی۔

اس ضمن میں سب سے اہم کردار والدین کا ہے۔ اگر والدین خود باکرردار، مہذب، سلیقہ شعار اور تربیت یافتہ ہوں گے تو تبھی اپنی اولاد کی احسن طریقے سے تربیت کر سکیں گے۔عموماً باپ معاشی تگ و دو میں مصروف رہتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ میرا کام صرف کمانا ہے،باقی ساری ذمہ داری ماں کی ہے۔
 یہ بھی ایک غلط سوچ اور رویہ ہے۔ باپ کو، اپنے بچے کو مکمل ذمہ داری کے ساتھ وقت اور ماحول دینا ہو گا جس میں اس کی صلاحتیں پنپ اور نکھر سکیں اور وہ معاشرے کی طرف سے آنے والی برائیوں کو گھریلو سطح پر روک سکیں۔

جبکہ" ماں "بچے کی پہلی نرسری درسگاہ، اور تربیت گاہ ہوتی ہے۔ نپولین نے کہا تھا: "تم مجھے بہترین مائیں دو،میں تمہیں بہترین قوم دوں گا"،ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ماں جب خود سچ کی پابند ہو تو بچہ ڈاکوؤں کے خوف سے مبرا ہو کر،سچ بولتا ہے ا ور دنیا اسے شیخ عبدالقادر جیلانی کے نام سے یاد رکھتی ہے۔ ماں جب فاطمہ ہو تو بچہ حسن اور حسین بنتا ہے، ہمارے ہاں تو کسی بھی سطح پر بچیوں کی تربیت کا کوئی قابل قدر ماحول نہیں رہا جہاں سے تربیت حاصل کرکے وہ مستقبل میں ماں کے عظیم کردار کو نبھاسکیں۔

 
ہمارے معاشرے میں ماؤں کی تربیت کا ایک ہی ادارہ ہے جو ٹیلی وژن کاڈرامہ ہے جس کا مرکزی نقطہ صرف یہی ہے کہ شادی کے بعد کیسے سسر کو کھڈے لائن اور ساس سے جان چھڑانا ہے۔ ہمیں یہ کلیہ ذہن نشین رکھنا چاہیے کہ غیر تربیت یافتہ مائیں اپنے بچوں کی کسی لحاظ سے بھی تربیت نہیں کر پائیں گی۔ اپنی بچیوں کی ابھی سے تربیت کریں کہ کل کو ماں بن کر اس کی ذمہ داریاں کیسے نبھانیں ہیں۔

اب ہم بچوں کی تربیت کے لیے کچھ آسان سے اقدامات کی طرف آتے ہیں۔
 یاد رکھیے: بچہ تین جگہوں سے متاثر ہو کر اپنی ذہنی نشو و نما کرتا ہے گھر، سکول اور معاشرہ۔ سب سے پہلے ہم گھر کی طرف آتے ہیں۔ گھر وہ جگہ ہے جہاں بچہ آنکھ کھولتا ہے۔ اپنی زندگی کی پہلی اور بنیادی باتیں سیکھتا ہے اور پھر ساری عمر،اسی کی بنیاد پر زندگی گزارتا ہے۔ اس لیے ایک اچھا اور مہذب گھر اور گھرانہ ہی ایک مثالی مہذب بچے کی بنیاد ہے۔

بچے سن کر کم اور دیکھ کرزیادہ سیکھتے ہیں، آپ کو بچوں کے لیے چلتے پھرتے رول ماڈل بننا ہے۔ آپ گھر میں سچ بولیں،دھیمی آواز سے بات کریں، بیوی ہمیشہ شوہر کو عزت سے بلائے۔ سسرالیوں کی کبھی غیبت وبرائی بیان نہ کرے، بچوں سے ہمیشہ پیار سے بات کریں، اگر آپ سختی کریں تو اس کے بعدپھردگنا پیار بھی کریں جیسا کہ حضرت علی کا بھی فرمان ہے کہ" اگر کسی کو سمجھانے کے لیے سختی کرو تو پھر اس سے دگنا، اس سے پیار بھی کرو "۔

بچوں کے کھانے، سونے اور کھیلنے کاوقت مقرر کریں۔ بچوں کے لیے علمی کھلونے اور کہانیوں کی کتابوں کی لائبریری بنائیں۔
 بچوں کے سامنے اپنے ارد گرد اور ملازموں کے بچوں سے بھی شفقت سے پیش آئیں اور ان کو بھی احترام دیں تاکہ ان میں مل کر زندگی گزارنے کا سلیقہ آ سکے۔ سوشل میڈیا، موبائل، ٹی وی بچوں کے سامنے بالکل مت استعمال کریں اور نہ ہی بچوں کو مصروف کرنے کے لیے،ان جدید ڈیوائسز کا نشئی بنائیں۔

اس کے بعد،اساتذہ کا کردار آتا ہے۔ سکولز میں اساتذہ، ہمیشہ صاف ستھرے لباس میں آئیں۔بچوں کے درمیان مساوات اور رواداری کا مظاہرہ کریں۔ بچوں کو اپنی اولا د کی طرح سمجھیں،کبھی بھی بچے کے سامنے بدتہذیبی اور بدتمیزی کا مظاہرہ نہ کریں، بچوں کی حوصلہ افزائی اورعلم سے وابستگی کیلیے انہیں ہوم ورک اچھا کرنے اور غیر نصابی سرگرمیوں میں حصہ لینے پر،چھوٹے چھوٹے تحائف دیں، یقین جانیے!آپ کی دی ہوئی ایک چھوٹی سے چاکلیٹ بھی،کسی بچے کی زندگی بدل سکتی ہے۔

آخر میں معاشرہ آتا ہے، جس کے ہم سب افراد ہیں۔ آپ کراچی سے خنجراب تک، ریاست کے کسی حصے، چوک چوراہے پر چلیں جائیں آپ کو ایک طوفان بدتمیزی نظر آئے گا۔ یہ بد تہذیبی ہمارے لیے توزہر قاتل ہے ہی سہی پر یہ بد تہذیبی، ہماری نسلوں کے ذہنوں کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔ خدارا پیار کرنا، درگزر کرنا اور محبتوں کو بانٹنا شروع کریں۔آپ آج سے،اپنے اخلاق و اطوا ر سے اس کھیتی کو سیراب کیجیے،یہ آپ کو روشن، محفوظ،پائیدار اور ترقی یافتہ پاکستان دیں گے۔ آئیں سب مل کر آج سے ہی اپنے اس چمن کی آبیاری کریں۔

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

hamara roshan mustaqbil is a social article, and listed in the articles section of the site. It was published on 16 July 2019 and is famous in social category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.