آئی ایم ایف سے چھٹکارے کا اعلان ؟

قومی زیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ اس سال پاکستان کی آئی ایم ایف سے جان چھوٹ جائے گی اور چین کے بعد سعودی عرب سے وطن عزیز میں بھر پور سرمایہ کاری آئے گی۔

پیر جنوری

IMF Se Shutkaray Ka Ilaan
احمد جمال نظامی:
قومی زیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ اس سال پاکستان کی آئی ایم ایف سے جان چھوٹ جائے گی اور چین کے بعد سعودی عرب سے وطن عزیز میں بھر پور سرمایہ کاری آئے گی۔وزیراعظم محمد نواز شریف کی قیادت میں ان کی جماعت کا یہ وہ خواب ہے جس کی تکمیل سے قبل 12اکتوبر 1999 کو ان کی حکومت کا تختہ فوجی آمر اور ڈکٹیٹر پرویز مشریف نے الٹ دیا تھا ۔

ان کے سابقہ دور اقتدار کے دوران آئی ایم یف ،ورلڈبینک اور دیگر عالمی مالیاتی اداروں کے شکنجے سے وطن عزیز کو آزاد کروانے کے لیے قر ض اتارو ملک سنوارو مہم کا آغاز بھی کیا گیا تھا مگر پرویز مشرف کے ہاتھوں حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔ پیپلزپارٹی کی قائد بینظیر بھٹو کو قتل کئے جائے کے بعد 18فروری 2008 کے انتخابات میں کامیابی پر پیپل پارٹی کیساتھ جب مسلم لیگ ن نے مخلوط حکومت بنائی تو اس میں شراکت اقتدار کے فارمولے کے تحت وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اس وقت بھی پیپل پارٹی کو آئی ایم ایف سے دور رہنے کا مشورہ دیا تھا ۔

(جاری ہے)

اس دوران انہوں نے آصف علی زرداری اور یوسف رضا گیلانی کو بار ہاآئی ایم ایف سے قرضہ حاصل نہ کرنے کا نہ صرف مشورہ دیا بلکہ راستہ بھی دکھایا۔ تاہم بعد ازاں عدلیہ بحالی تحریک میں مسلم لیگ ن نے لانگ مارچ کیا اور اس سلسلے میں مسلم لیگ ن بطور احتجاج وفاقی کابینہ سے الگ ہوگئی۔جس کے بعد پیپلز پارٹی ے اپنے اقتدار کے پانچ سالوں تک ایک ہی نعرہ لگاکہ ہمیں بحران ورثے میں ملے ہیں اور قومی خزانہ خالی ہے ۔

اس نعرے کی آڑ میں پیپلز پارٹی مسلسل پانچ سالوں تک آئی ایم ایف ، ورلڈ بنک اور ایشین ڈویلمپنٹ بینک سے بھاری حجم کے قرضے حاصل کرتی رہی۔پیپلز پارٹی کے اقتدار کے بعد 11 مئی2013 کے انتخابات میں جب مسلم لیگ ن بھر پور اندازمیں بھاری اکثریت لے کر وفاقی حکومت سنبھالنے کے لیے اقتدار کے ایوانوں میں آئی تو خیال کیا جا رہا تھا کہ شاید وزیراعظم نوز شریف جو مشورہ آصف علی زرداری کو دے رہے تھے اور جو کام انہوں نے اپنے سابقہ اقتدار کے دوران کیا تھا وہ اس پر عمل کرتے ہوئے قطعی طور پر آئی ایم ایف ، ورلڈ بینک اور ایشین ڈویلمپنٹ بینک سے قرضہ حاصل نہیں کریں گے۔

لیکن تمام قیاس آرائیوں اور توقعات کے برعکس موجودہ حکومت نے آئی ایم ایف سے قرض حاصل کرنے کے لیے رابطہ کیا اورتاحال آئی ایم ایف سے قرضے حاصل کر رہی ہے۔ موجودہ حکومت بھارت حجم کے قرضے حاصل کرنے میں سابقہ پیپلز پارٹی کی حکومت کے بھی تمام ریکارڈ توڑ چکی ہے ۔ جس پر بھر پور احتجاج کا سلسلہ بھی سامنے آتا رہتا ہے۔ صنعتی ،تجارتی ،زرعی اور معاشی ماہرین بار بار اس بات کو اجاگر کرتے ہوئے احتجاج کرتے ہیں کہ حکومت قرضوں کے حجم کو ملک کی بلند ترین سطح پر لے گئی ہے۔

جس کہ وجہ سے ملک کا ہر بچہ 10سے 20 ڈالر کا مقروض ہو چکا ہے ۔ اس ضمن میں مختلف حلقوں کی طرف سے بار بار حکومت سے مطالبہ کیا جارہاہے کہ حکومت خود انحصاری پر مبنی پالیسیاں تشکیل دیتے ہوئے آئی ایم ایف کے شکنجے سے باہر نکل آئے۔ لیکن جس طرح پیپلز پارٹی کے حکمران اپنے دوراقتدار کے دوران ایک ہی رٹ لگاتے رہے کہ انہیں بحران ورثے میں ملے ہیں ،موجودہ حکوتم نے بھی ایسا ہی رویہ اپنا رکھا ہے۔

کسی بھی ذمہ دار وزیر یا حکومتی مشیر سے اس ضمن میں جب بھی سوال کیا جاتا ہے تو وہ ایک ہی جواب دیتے ہیں کہ سابقہ قرضوں کی اقساط کی ادائیگی کے لیے وہ مزید قرضے حاصل کر رہے ہیں۔ حکومت کے اس دعوے میں کس حد تک صاقت ہے اس کا اندازہ حکومتی اقدامات سے ہوتا ہے ۔ حکومت مختلف موقعوں پر جو کچھ کرتی رہی ہے اس سے دال میں کچھ نہ کچھ کالا ضرور محسوس ہوتا رہا۔

موجودہ حکومت نے گذشتہ مالی سال 2014-15 کے دوران صرف آئی ایم ایف اور یگر عالمی مالیاتی اداروں سے قرضے حاصل کرنے پر اکتفا ہی نہیں کیا بلکہ گذشتہ مالی سال کے دوران مجموعی طور پر 1456 ارب روپے کے قرضے حاصل کئے۔ جن میں غیر ملکی قرض کی مالیت 466.225 ارب روپے جبکہ اندرون ملک بینکوں اور مالیاتی اداروں سے مجموعی طور پر 1275.69 ارب روپے کے قرضے لے کر 1456 ار ب روپے کا بجٹ خسارہ پورا کیا گیا۔

گذشتہ مالی سال کے دوران مجموعی طور پر 466 ارب روپے کے غیر ملکی قرضے حاصل ہوئے اور پاکستان نے اس سال میں 285.1 ارب روپے کے بیرونی قرضے واپس کئے۔ اسی طرح پاکستان کو خالصتاََ 181.032 ارب روپے ملے۔ مختلف شعبوں میں اصلاحاتی پروگرام کے لیے 102.577 ارب روپے پاکستان کو فراہم کئے گے۔ گذشتہ مالی سال کے دوران دیگرملنے والی غیر ملکی امداد کو مالیت 189.243 ارب روپے تھی۔

گویا حکومت قرضوں کے علاوہ امداد پر انحصار کئے بیٹھی ہے۔ سعودی عرب اور چین کی طرف سے سرمایہ کاری کا آنا خوش آئند عمل ہے لیکن ضروری ہے کہ حکومت فوری طور پر آئی ایم ایف سے جان چھڑوانے کے لیے عملی اقدامات شروع کر دے۔ آئی ایم ایف ہو۔ ورلڈ بینک ہو یا ایشین ڈویلمپنٹ بینک یہ تمام ادارے وطن عزیز کے لیے خوددرد سر بنے ہوئے ہیں کیونکہ یہ تمام مالیاتی ادارے اصلاحات کی بجائے خود نت نئے مسائل پیدا کر رہے ہیں۔

گذشتہ سال کے آخری دنوں میں ایشیائی ترقیاتی بینک کے 29 ارب کے قرضے کو چار اداروں کی نجکاری سے مشروط کر دیا اور نجکاری کی اس شرط کو وہ ادارے بھی شامل تھے جن کو مجوزہ نجکاری کے حوالے سے خود مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور پرویز مشرف کے دور اقتدار کے دوران مخالفت کرتی رہی ہے۔ پی آئی اے اور سٹیل مل کی نجکاری کے مسئلے پر ایسی ہی صورت حال سامنے آئی ہے اور لوگ حکومت کو ان کی ماضی کی باتیں یاد کرواتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر سابقہ دور کی تصاویر شیئر ہو رہی ہیں جن میں خود مسلم لیگ ن کے عہدیداران جن میں اسحاق ڈار ، چوہدری نثار وغیرہ شامل ہیں، مجوزہ نجکاری کے فیصلوں کے خلاف احتجاج کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ آئی ایم ایف ،ورلڈ بینک اور ایشین ڈویلپمنٹ وغیرہ دراصل ایسے فیصلے حکومتوں سے کرواتے ہیں اور انہیں بار بار اپنی شرائط ماننے پر مجبور کرتے ہیں۔

عالمی مالیاتی ادارے مختلف ترقی پذیر ممالک میں معاشی و اقتصادی اصلاحات کا ایجنڈا بظاہر لے کر آتے ہیں لیکن یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ جس بھی ترقی پذیر ملک میں آئی ایم ایف اور رولڈ بلنک مائیکرواور میکرو اکنامکس اصلاحات کے نام پر داخل ہوئے ہیں ان ممالک میں معاشی و اقتصادی مسائل ان عالمی معالیاتی اداروں کی مداخلت سے بڑھے تو ضرور ہیں مگر کم نہیں ہوئے۔

وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے جس طرح کہا ہے کہ رواں سال آئی ایم ایف سے جان چھوٹ جائے گی یہ خوش آئند بیان ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت عملی طور پر خود انحصاری پر مبنی پالیسیوں کو فوری طور پر تشکیل دینا شروع کر دے۔ ملک میں چین کے بعد سعودی عرب جس بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرنے جا رہاہے حکومت اس سے بھر پور استفادہ کرتے ہوئے ہر حال میں 2017 تک اپنے اعلان کے مطابق توانائی بحران پر قابو پانا ہو گا۔ اگر موجودہ حکومت آئی ایم ایف اور تمام عالمی مالیاتی اداروں کے شکنجوں سے باہر نکلنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو یقینی طور پر ملک حقیقی معنوں میں ترقی اور خود انحصاری کی جانب گامزن ہو جائے گا۔

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments

IMF Se Shutkaray Ka Ilaan is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 18 January 2016 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.