کامیابی اب زیادہ دور نہیں

کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ کامیابی کی سیڑھی پر ہاتھ پاؤں ہلائے بغیر چڑھا نہیں جا سکتا

منگل اگست

Kamyabi ab ziada dor nahi
کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ کامیابی کی سیڑھی پر ہاتھ پاؤں ہلائے بغیر چڑھا نہیں جا سکتا۔بعض لوگوں سے الفاظ سننے کو ملتے رہتے ہیں کہ کاش میں نے ایسا نہ کیا ہوتا،افسوس میں نے فلاں کا مشورہ نہ مانا ہوتا۔اگر میں اس وقت یوں کر لیتا تو میری حیثیت آج کچھ اور ہوتی۔کیا کروں میری قسمت ہی خراب ہے۔زمانہ ہی ایسا آگیا ہے،زندہ رہنا مشکل ہو گیا وغیرہ․․․․
ایسے کلمات یا احساسات جن سے حسرت،افسوس اور پشیمانی کا اظہار ہوتا ہے انسان کو بے چین ومضطرب کیے رکھتے ہیں۔

اس قسم کے کلمات یا ہر دوسرے شخص سے اپنی محرومیوں کا اظہار۔کیا واقعی فائدہ مند ہے․․․․؟
اس کا سادہ سا جواب ہے کہ ”ہر گز نہیں“ کیونکہ افسوس،ندامت اور پشیمانی کا مسلسل اظہار غیر محسوس طور پر انسان کی شخصیت کو مجروح کرتا رہتا ہے۔

(جاری ہے)

ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ اس بات پر افسوس کہ فلاں چیز ہمیں کیوں نہیں ملی یا ہم اس نعمت سے محروم کیوں رہے جو دوسروں کے حصے میں آگئی․․․؟وقت اور توانائی ضائع کرنے کے سوا کچھ نہیں۔

کئی لوگ سب سے زیادہ جس چیز میں اپنا وقت برباد کرتے ہیں وہ ”افسوس کرنا“ ہے۔بیشتر لوگ ماضی کی تلخ یادوں میں گھرے رہتے ہیں۔ان کا زیادہ تر وقت اس بات پر کڑھنے میں گزرتا ہے کہ اگر ایسا کیا ہوتا تو کام نہ بگڑتا۔یہ لوگ ایسا سوچنے کے بجائے یہ سوچیں کہ اگر اب اس کام کا موقع ملا تو دوسرے ڈھنگ سے کروں گا۔ایسا سوچنے سے توجہ ماضی کے بے فائدہ یاد سے ہٹ کر مستقبل کے متعلق غور و فکر اور منصوبہ بندی میں لگ جائے گی۔

وہی تلخ یاد ایک قیمتی تجربے کی شکل اختیار کر جائے گی۔
قسمت یا تقدیر کو آزمانے سے پہلے بری تقدیر کا فیصلہ مت کریں،منزل کا تصور کرنے سے پہلے مشکلات کو خود پر طاری نہ کریں۔یاد رکھیے ایک دو مرتبہ کی ناکامی کا مطلب ہمیشہ کی ناکامی نہیں۔دیکھیے!شارٹ کٹ یا”مختصر راستے“ کا لفظ سڑکوں اور پگڈنڈیوں کی دنیا کے لئے کار آمد ہو سکتاہے لیکن زندگی کی جدوجہد میں ”مختصر راستے“جیسی کوئی چیز نہیں یا اگرکوئی ہے بھی تو اس میں منزل پر پہنچ جانے کے امکانات کم ہوتے ہیں۔

دنیا میں کوئی ایک ایسا انسان نہیں جس نے تمام عمر خوشیاں ہی خوشیاں دیکھی ہوں،جو کبھی خوف،پریشانی یا دکھ میں مبتلا نہ ہوا ہو ۔یہ کیفیات تو زندگی کی علامتیں ہیں۔مایوسی چھوڑیے،نئی،پرجوش،پر عزم اور ولولہ انگیز زندگی کا آغاز کیجیے۔ماضی کے نا خوش گوار تجربات کو رہنمائی کا ذریعہ بناتے ہوئے آگے بڑھنے کے لئے کوشاں رہیے۔ان شاء اللہ منزل قریب سے قریب تر ہوتی جائے گی۔


خود اعتمادی کا فقدان
انسان کے اندر خود اعتمادی کے فقدان کا اظہار کئی طریقوں سے ہوتا ہے۔معمولی سی نا خوشگوار کیفیت فوراً جذباتی رد عمل کا اظہار کرتی ہے۔ ایک چھوٹا سا واقعہ شدید رد عمل پیدا کرنے کا باعث بن جاتا ہے۔اس کے نتیجہ میں تھکن کا احساس بھی جنم لیتا ہے۔ذہنی تھکن دماغ کو متاثر کرکے خود اعتمادی کے ساتھ فیصلے کرنے سے روکتی ہے۔

دوسرے الفاظ میں ایسا شخص اندر سے ٹوٹ پھوٹ میں مبتلا ہو جاتا ہے۔یہ ٹوٹ پھوٹ ظاہری طور پر نظر نہیں آتی ۔لیکن پھر بھی وہ ایک صحت مند انسان کے طور پر باقی نہیں رہتا۔بس الجھ کر رہ جاتا ہے۔ایسی صورت میں کیا کرنا چاہیے جب زندگی ایک بوجھ نظر آنے لگے اور خود اعتمادی کی کمی انسان کو تباہی کے دہانے تک پہنچا دے۔اس مسئلہ کے حل کے لئے چند آسان نفسیاتی اقدامات مفید ہیں۔


اقرار کرنا
پہلی بات تو یہ کہ موجودہ صورت حال کو تسلیم کریں اور یہ یقین رکھیں کہ یہ صورت حال عارضی ہے۔یہ بھی سمجھ لیں کہ اس صورت حال عارضی ہے۔یہ بھی سمجھ لیں کہ اس صورت حال سے چھٹکارا فوری طور پر نہیں ہوگا۔صورت حال کو تسلیم کرکے پر سکون ہو جائیں۔یہ ایک عارضی صورتحال کو تسلیم کرنا ہے۔
عمل کرنے کا فیصلہ کریں
دوسرا قدم یہ ہے اس صورتحال سے نکلنے کے لئے پختہ عزم کریں۔

بکھرے ہوئے ٹکڑوں کو ایک ایک کرکے جوڑنا ہے۔یہ نہ کہیں کہ”میں نہیں کر سکتا“ یا ”یہ کرنے کی میرے اندر قوت نہیں“پختہ عزم سے قوت ارادی جلد لوٹ آئے گی۔صرف وہی شخص نا کام ہوتا ہے جو کوشش ترک کر دے۔فتح کے لئے پر عزم رہنا ہے۔
منزل کا تعین کریں
اپنی نگاہیں منزل پر مرکوز رکھیں۔یہ طے کرنا بہت اہم ہے کہ مقصد کیا ہے․․․؟ذہن میں کوئی خواہش ضرور ہونا چاہیے۔

کوئی ایسی دلچسپی ہونا چاہیے جس میں ساری توانائی صرف کر دیں۔اگر زندگی کو با معنی بنانا ہے تو اس میں ایک کے بعد ایک منزل بھی ہونی چاہیے۔
وسائل کو جمع کریں
منزل کا تعین کرنے کے بعد ان تمام وسائل و ذرائع کے بارے میں سوچیں جو میسر ہیں۔اللہ تعالیٰ نے جسمانی صحت عطا کی ہے۔یہ معلوم ہونا چاہیے کہ بہت سے لوگ زندگی کے مختلف چیلنجز کا سامنا صحت کی کئی خرابیوں کے ساتھ کر رہے ہیں۔

زندگی میں ایک بڑی نعمت روحانی قوت ہے۔اس کے بارے میں معلوم ہونا چاہیے کہ لاکھوں انسانوں نے روحانیت کی وجہ سے بڑی بڑی مشکلات پر فتح حاصل کر لی۔
کوشش کا آغاز کریں
آنے والی ہر صورت کا اعتماد سے مقابلہ کرنے کے لئے خودکو تیار کیجیے۔بھر پور اور ان تھک کوشش کیجیے لیکن توقع بہت زیادہ نہ رکھیں۔
تقریبات میں دلچسپی لیں
خود اعتمادی بحال کرنے کے لئے ضروری ہے کہ لوگوں میں گھلیں ملیں اور انہیں سمجھنے کی کوشش کریں۔

ابتداء ان لوگوں سے کیجیے جن سے آپ آشنا ہیں۔انہیں اور زیادہ بہتر طریقے سے جاننے کی کوشش کیجیے۔خود بولنے سے زیادہ سننے پر توجہ مرکوز رکھیں۔بولنے کی نسبت سننے سے زیادہ معلومات حاصل ہوتی ہیں۔اس سے یہ بھی احساس ہو گا کہ لوگ کس قدر دلچسپ کے مالک ہیں۔جتنا زیادہ لوگوں کو سمجھتے جائیں گے اسی قدر قوت ارادی میں اضافہ ہوتاجائے گا۔
زندگی کا روشن پہلو مد نظر رکھیں
مستقبل پر نظر رکھیں۔

زندگی محض ایک دائرہ میں گردش کرتے رہنے کا نام نہیں بلکہ زندگی میں حرکت و فعالیت انسان کو بہت کچھ دیتی ہے۔پکا ارادہ کر لیجیے کہ آپ نے زندگی کی منزلیں طے کرنی ہیں۔
حال سے غافل نہ رہیں
آپ نظریں اس مقصد پر مرکوز رکھیں جسے خود آپ نے منتخب کیا ہے۔راستہ میں اتار چڑھاؤ متوقع ہیں۔ان سے گھبرا کر مایوسی میں مبتلا نہ ہوں نشیب کے بعد فراز بھی آتا ہے۔ہر روز کا سفر قوت ارادی میں اضافے کا سبب بنے گا۔مستقبل میں جھانکتے رہنا بہت اہم ہے لیکن اتنی ہی اہم بات حال کے حالات سے واقفیت حاصل کرنا بھی ہے۔خود پر اعتماد رکھیے۔اس سے قوت ارادی مضبوط ہو گی جس کی مدد سے مشکل حالات پر کنٹرول با آسانی کیا جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین :

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments

Kamyabi ab ziada dor nahi is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 25 August 2020 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.