ایل این جی صنعتی و گھریلو صارفین کو فائدہ نہ پہنچا سکی

موسم سرما میں ایک مرتبہ پھر گیس کی لوڈشیڈنگ نے صنعتی اور گھریلو دونوں طرح کے صارفین کو شدید اضطراب میں مبتلا کر رکھا ہے۔ موسم سرما سے پہلے حالانکہ اعلان کیا گیاتھا کہ اس مرتبہ گیس کی لوڈشیڈنگ نہیں کی جائے گی لیکن گیس لوڈشیڈنگ کا عذاب مسلط ہو چکا ہے۔

جمعہ جنوری

LNG Sanati o Gharelu Sarfeen Ko Faida Na Pohancha Saki
احمد جمال نظامی:
موسم سرما میں ایک مرتبہ پھر گیس کی لوڈشیڈنگ نے صنعتی اور گھریلو دونوں طرح کے صارفین کو شدید اضطراب میں مبتلا کر رکھا ہے۔ موسم سرما سے پہلے حالانکہ اعلان کیا گیاتھا کہ اس مرتبہ گیس کی لوڈشیڈنگ نہیں کی جائے گی لیکن گیس لوڈشیڈنگ کا عذاب مسلط ہو چکا ہے۔ موسم سرما میں پنجاب کو ایک ارب 50کروڑ کیوبک فٹ گیس کی قلت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

موجودہ حکومت نے قطر کے ساتھ گزشتہ سالوں ایل این جی کا معاہدہ کیا تھا تاکہ گیس کی قلت پر قابو پایا جا سکے۔ ایل این جی کی گھریلو صارفین کو سپلائی اس کی قیمت زیادہ ہونے کے باعث پہلے ہی منصوبے میں شامل نہ تھی مگر صنعتوں کا بوجھ اس گیس پر منتقل ہوجانے کے بعد یہی توقع تھی کہ قلت پر بڑی حد تک قابو پا لیا جائے گا۔

گزشتہ دو سالوں سے موسم سرما کے لئے گیس لوڈشیڈنگ کا جو شیڈول اس کی قلت اور اٹھارویں ترمیم کو جواز بنا کر پیش کیا جاتا ہے اس سے ماضی کے سالوں کی طرح مزید کئی بحران اور مسائل جنم لے سکتے ہیں۔

حکومت کے تمام ذمہ داران بار بار توانائی ذرائع کا بحران ختم کرنے اور ان کی قیمتوں میں کمی کرنے کی نوید سنا رہے ہیں لیکن اس کے بالکل برعکس وزارت پٹرولیم کی کارروائی انتہائی مایوس کن ہے۔ ہر ماہ کی بنیاد پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ بھی روز کا معمول بن گیا ہے۔ جس سے ملک میں مہنگائی کا سیلاب آرہا ہے اور اس صورت میں پیداواری شعبہ کی لاگت حد سے زیادہ بڑھنے کے باعث مسائل جنم لے رہے ہیں۔

ڈالر کی قیمت میں بھی روپے کے مقابلے میں بار بار اضافہ سامنے آ رہا ہے اور اس اضافے کو اس مرتبہ برآمدکنندگان کے مطالبے کے ساتھ مشروط کیا جا رہا ہے جس کی منطق خود برآمدی حلقے سمجھنے سے قاصر ہیں۔گیس کی قلت گزشتہ کئی سالوں سے ایک بحران کی صورت میں موجود ہے۔ پہلے پہل گیس کے بحران کو حل کرنے کے لئے ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے کو مکمل کر کے اس کے ذریعے گیس کی قلت کو پورا کئے جانے کے دعوے کئے جاتے رہے مگر عالمی طاقتوں کے پریشر میں اس منصوبے کو بھی مکمل نہ کیا جا سکا حالانکہ ایران کی متعدد حکومتی شخصیات یہ باور کروا چکی ہیں کہ اس منصوبے کے سلسلہ میں ایران کی طرف سے پاکستان تک پائپ لائن بچھانے کا عمل مکمل ہو چکا ہے لیکن پاکستان کی طرف سے عدم دلچسپی کے باعث یہ منصوبہ کھٹائی میں چلا گیا ہے۔

اس دوران اندرون سندھ کے مختلف مقامات سے گیس کی دریافت کے حوالے سے متعدد سروے رپورٹس بھی سامنے لائی جاتی رہیں۔ لیکن افسوس ایسی کسی بھی کوشش کو عملی جامہ نہ پہنایا جا سکا۔ بہرحال گزشتہ سال سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے اپنی وفاقی کابینہ کے متعلقہ وزراء اور ذمہ داران کے ہمراہ قطر کا خصوصی دورہ کیا۔ جس دوران قطر کے ساتھ ایل این جی کا تاریخی معاہدہ طے پایا اور اس حوالے سے بڑے بڑے دعوے کئے گئے کہ گیس کے بحران کو ختم کر دیا جائے گا مگر افسوس اس کی درآمد کے معاہدے کے باوجود ملک میں گیس کی قلت بہرحال شدت کے ساتھ موجود ہے۔

حکومت ایل این جی معاہدے کے تحت جن نکات کو اجاگر کرتی رہی ہے اس پر من و عن عملدرآمد کے لئے عملی اقدامات اٹھانا ہوں گے۔ مختلف عالمی رپورٹس کے مطابق آئندہ بیس سالوں کے دوران توانائی کی عالمی طلب میں 28فیصد اضافہ ہو جائے گا جسے پورا کرنے کے لئے توانائی کی پیداوار میں 32فیصد اضافہ ضروری ہے جبکہ سب سے زیادہ استعمال ہونے والا ایندھن قدرتی گیس ہو گا۔

مختلف عالمی اداروں کی تحقیقاتی رپورٹس کے مطابق گلوبل وارمنگ اور ماحولیاتی آلودگی کے باعث تیل اور کوئلے کا استعمال کم ہوتا جا رہا ہے جس سے بین الاقوامی توانائی میں گیس کا حصہ آئندہ سالوں ایک تہائی ہو جائے گا۔ اس وقت 70فیصد قدرتی گیس پائپ لائنوں کے ذریعے برآمد کی جاتی ہے جبکہ 30فیصد کو ایل این جی بنا کر برآمد کیا جا رہا ہے جبکہ اگلے 10سالوں میں ایل این جی گیس کو پیچھے چھوڑ دے گی۔

ایک اندازے کے مطابق سال 2000ء سے 2015ء تک توانائی کی طلب میں سالانہ 2.3فیصد اضافہ ہوا، گیس کی پیداوار سالانہ 2.6فیصد بڑھی۔ ایل این جی کی پیداوار میں 6.3فیصد اضافہ ہوا اور اب اس کی سالانہ تجارت 120ارب ڈالر ہے آئندہ بیس سالوں میں ایل این جی سالانہ 4.1فیصد جبکہ توانائی کی پیداوار میں 1.4فیصد اضافہ ہونے کی قیاس آرائیاں کی جاتی ہیں۔ اس وقت ایل این جی کی پیداوار 300ملین ٹن ہے جو 2025ء تک 550ملین ٹن ہو جائے گی۔

واضح رہے کہ 2013ء تک ایل این جی کی نقل و حمل میں استعمال ہونے والے جہازوں کی تعداد 357تھی جبکہ اس وقت 108مزید تعمیر کے مراحل میں ہیں۔ اس تناظر میں حکومت پاکستان کے قطر کے ساتھ ایل این جی معاہدہ کو انتہائی اہمیت حاصل ہے۔ اس معاہدے کے تحت قطر گیس کمپنی 2031ء تک پی ایس او کو ایل این جی فراہم کرے گی۔ قطر سے ایل این جی 5.35ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو میں خریدی جانا معاہدے میں شامل ہے۔

معاہدے کے مطابق قطر رواں سال پاکستان کو 225ملین ٹن ایل این جی فراہم کرے گا۔ آئندہ برس سے سالانہ 375ملین ٹن ایل این جی خریدی جائے گی۔ ایل این جی کی برنٹ قیمت کا 1337فیصد ہو گی۔ ایل این جی کی قیمت پر 10سال بعد نظرثانی کی جائے گی۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اس وقت بطور وزیر پٹرولیم ،معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد بتایا تھا کہ ایل این جی کی درآمد سے لوڈشیڈنگ پر قابو پا لیا جائے گا۔

قطر ایل این جی پیدا کرنے والا بڑا ملک ہے، معاہدے کے تحت 375ملین ٹن سالانہ ایل این جی حاصل کریں گے۔جس کی درآمد سے 2000میگاواٹ کے بجلی کے بند پڑے پلانٹس بھی چلنا شروع ہو جائیں گے ، کھاد فیکٹریوں کو گیس کی فراہمی ہو گی، بند پڑے سی این جی سٹیشنز دوبارہ چلنا شروع ہو جائیں وغیرہ وغیرہ۔ مگر معلوم ہوتا ہے کہ اس سپلائی کا گھریلو صارفین کو کوئی فائدہ نہیں پہنچایا جا سکا۔

معاہدے کے تحت قطر کی طرف سے 2016ء سے 2031ء تک سالانہ ایک ارب ڈالر مالیت کی مائع قدرتی گیس فراہم ہو سکتی ہے لیکن صنعتی حلقے صنعتوں کو زور زبردستی کے تحت مہنگی ایل این جی پر منتقل کرنے کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کروا چکے ہیں۔ اس پر اپوزیشن کی جماعتیں ایل این جی معاہدے میں مبینہ بدعنوانی اور کرپشن کا الزام عائد کر رہی ہے ، کہ یہ دنیا بھر سے مہنگی ترین ایل این جی خریداری کا معاہدہ ہے۔

وزیراعظم اور شیخ رشید کے مابین اس تنازعہ پر قومی اسمبلی میں تلخ مکالمہ بھی ہو چکا ہے۔ حکومت ایل این جی سپلائی جیسے معاہدے سے صنعتی اور گھریلو صارفین کو خاطر خواہ فاہدہ نہیں پہنچا سکی۔ صنعتوں کے لئے صرف کہہ دینا کہ وہ لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ ہوں گی، کافی نہیں ، اس مقصد کے لئے حکومت کا عملی کردار بھی ضروری ہے۔ اس کیلئے بوسیدہ لائنوں سے ہونے والے اخراج کی شرح اور قدرتی گیس کی چوری پر بھی قابو پانا ہو گا۔

Your Thoughts and Comments

LNG Sanati o Gharelu Sarfeen Ko Faida Na Pohancha Saki is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 19 January 2018 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.