معاشرت کا نکھار

ہم یہ بچن سے بتا تو رہے ہیں کہ غلط بیانی کرنا،جھوٹ، چوری، زنا، قتل، ناپ تول میں کمی، اپنے اختیارات کا نا جائز فائدہ، کرپشن، ظلم و ذیادتی جیسے سب عمل غیر اسلامی غیر اخلاقی ہیں۔۔۔مگر پھر بھی یہ سب گناہ کرنے والے ہمارے معاشرے میں کھلم کھلا جنگلی جانوروں کی طرح گومتے پھرتے نظر آئیں گے

Hafiz Mutee ur Rahman Jamali حافظ مطیع الرحمان جمالی ہفتہ مئی

muashrat ka nikhaar
کبھی ہم نے سوچا کہ دین اسلام میں تعلیم و تربیت، شعور آگاہی، اخلاقیات، معاشرت، معیشت، لین دین، حسن سلوک، حقوق العباد، والدین کے ساتھ سلوک، والدین کا بچوں کے ساتھ اور بچوں کا والدین کے ساتھ کیسا تعلق ہونا چاہیے، رشتہ داروں کے ساتھ بھرتاؤ، تجارت اور کاروبار کا طریقہ غمی خوشی جنگ امن نیز کہ ہر ایک صورتحال، یا پیش آنے والے احوال ہمیں اپنے دین کی روشنی اور تعلیم و تربیت سے ملتے ہی ہے اور ساتھ ساتھ اسکے برعکس چلنے والوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے وہ بھی ہمیں اسی شریعت محمدی صلٰی اللہ علیہ وسلم میں ہی ملے گا۔

پر بدقسمتی سے ہم آج تک معاشرے کو یہ تو بتاتے رہے کے چوری کرنا گناہ ہے۔۔۔پر ہم آج تک کسی چور کے ہاتھ نا کاٹ سکے۔۔۔؟؟؟ہم میں سے سب کو یہ تو پڑھایا گیا کہ زنا حرام ہے۔

(جاری ہے)

۔۔پر ہم نے کتنے ایسے زانیوں کو سزا دی۔۔۔؟؟؟ 

ہمارے ہی معاشرے میں ہمارے ہی معصوم بچوں، ننھی کلیوں کے لاشے ہم نے اپنے شہروں، گاؤں/ کھیتوں سے اٹھائے۔جن کے ساتھ جبری زیادتی اور تشدد کر کے انہیں مار دیا جاتا،پر ہم نے کتنے ایسے درندوں کو سنگسار کیا۔

۔۔؟؟ 
کیا آپ تصور کر سکتے ان معصوم ننھی کلیوں کی تکلیف کا جس کی زندگی میں انکی آنکھوں سے شائد ایک آنسو تک نا نکلا ہو مگر انکی لاشیں جب کسی ویرانے سے اٹھائی جاتی ہیں تو اسکی آنکھوں سے تکلیف کی وجہ خون نکل رہا ہوتا۔۔۔جب پانچ چھ سال کی عمر اور تیس، چالیس سال کا درندہ اسکو اپنی ہوس کا نشانہ بناتا۔۔۔
ہم یہ بچن سے بتا تو رہے ہیں کہ غلط بیانی کرنا،جھوٹ، چوری، زنا، قتل، ناپ تول میں کمی، اپنے اختیارات کا نا جائز فائدہ، کرپشن، ظلم و ذیادتی جیسے سب عمل غیر اسلامی غیر اخلاقی ہیں۔

۔۔مگر پھر بھی یہ سب گناہ کرنے والے ہمارے معاشرے میں کھلم کھلا جنگلی جانوروں کی طرح گومتے پھرتے نظر آئیں گے۔۔۔یہاں رک کر اگر آپ ایک پل کیلئے سوچیں۔۔۔۔کہ اسلام نے جب سب کچھ بتا دیا، صحیح غلط، حرام حلال کا اور رب نے قرآن میں بھی فرمادیا
وَہَدَیْنَاہُ النَّجْدَیْنِo
(الْبَلَد، 90: 10)
اور ہم نے اسے (خیر و شر کے) دو نمایاں راستے (بھی) دکھا دیئےo
اور اسی قران میں ہمارا رب جنت اور دوزخ کا تذکرہ کرتا تاکہ لوگ نصیحت لے سکے اور اپنی زندگیوں کو اسکے مطابق گزار سکے،پرہیز گاروں کیلئے ایک جگہ رب العالمین نے فرمایا
وَسَارِعُوٓا اِلیٰ مَغفِرَةٍ مِّن رَّبِّکُم وَجَنَّةٍ عَرضھَُا السَّمٰوٰتُ وَالاَرض اُعِدَّت لِلمُتَّقِینَ (سورہ آل عمران:۳۳۱)
”اپنے رب کی بخشش کی طرف اور اس جنت کی طرف دوڑو جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمینوں کے برابر ہے۔

 
اور جو پرہیزگاروں کے لیے تیار کی گئی ہے“
اور اسی طرح گناہ گاروں کو خبردار کرتے ہوئے رب قرآن مجید میں ایک جگہ فرمایا۔
فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِی وَقُودھَُا النَّاسُ وَالحِجَارَةُ اُعِدَّت لِلکٰفِرِینَ 
(سورہ بقرہ:۴۲)
”اس آگ سے بچو جس کا ایندھن انسان ہے اور پتھر“
اور ایک جگہ انکی خوراک کے متعلق جو انہیں ملے گی، فرمایا
وَلَا طَعَامٌ اِلّاَ مِن غِسلِینٍ (سورہ الحاقة: آیت:۶۳)
”جہنمیوں کو سوائے پیپ کے اور کوئی غذا نہ ہو گی“
ایک اور جگہ فرمایا۔

۔۔
وَاِن یَّستَغِیثُوا یُغَاثُوا بِمَآءٍ کَالمھُلِ یَشوِی الوُجُوہَ بِئسَ الشَّرَابُ وَسَآءَ ت مُرتَفَقًا
(سورہ کہف:۹۲)
”اگر وہ فریاد رسی چاہیں گے تو ان کی فریاد رسی ایسے پانی سے کی جائے گی جو پگھلے ہوئے تانبے جیسا ہو گا جو چہرہ بھون دے گا“
(توبہ استغفار)
مختصر یہ کہ قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں بہت سی ایسی آیات اور احکام موجود ہیں جن میں نیک اعمال، پرہیزگاروں کیلئے جنت کا ذکر کیا گیا اور بُرے اعمال والوں کے ساتھ جہنم میں کیسا سلوک ہوگا اسے بارہا بتایا گیا۔

۔۔
مگر اس سب کے باوجود ہمیں اسی قرآن مجید/ احادیث اور شریعت محمدی صلٰی اللہ علیہ وسلم کے احکامات اور دور خلافت سے یہ سبق بھی دیا گیا کہ محض صرف اس بات پہ ہی یقین نہیں رکھنا چاہیے۔۔۔بلکہ ان سزاؤں کو بھی نافذ العمل بنانا چاہیے جس کا حکم بھی ہمیں اسی قرآن پاک میں ملتا۔۔
إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِینَ یُحَارِبُونَ اللَّہَ وَرَسُولَہُ وَیَسْعَوْنَ فِی الْأَرْضِ فَسَادًا أَنْ یُقَتَّلُوا أَوْ یُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَیْدِیہِمْ وَأَرْجُلُہُمْ مِنْ خِلَافٍ أَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْأَرْضِ}
جو اللہ تعالی اور رسول اللہ سے اعلان جنگ کریں اور زمین میں فساد کرتے پھریں ان کی سزا صرف یہی ہے کہ وہ قتل کر دیے جائیں یا سولی چڑھا دیے جائیں یا مخالف جانب سے ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے جائیں یا انہیں جلا وطن کر دیا جائے۔

)المائدة: 33(
رب العالمین کا قرآن مجید میں واضح احکام ہے
(وَلَکُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیَاةٌ)
اور تمہارے لیے قصاص میں زندگی ہے۔
(البقرة: 179)
لہذا ہمیں اپنی روش بدلتے ہوئے، اپنے ملک کی بقاء و سلامتی اور آنے والی نسلوں کے تحفظ، سلامتی اور تربیت کیلئے۔۔۔معاشرے میں جرائم کی مکمل روک تھام، امن و سکون کے مستقل قیام کیلئے، قوم کی تربیت اور اسے مثالی قوم بنانے کی خاطر ہمیں صرف جنت، جہنم چھوڑنے کی بجائے،معاشرے میں ایک مظبوط نظام عدل قائم کرنا ہوگا۔

۔۔سزا، جزا کے قانون کو عملی اور یکساں کارآمد بنانا ہوگا۔اگر ہم ساری زندگی یہی کہتے گزار دیں کہ شیر آگیا شیر آگیا اور زندگی بھر وہ آبھی ناسکے۔تو اس شیر کا خوف بھی دل سے نکل جاتا۔۔۔شیر کا خوف اس وقت ہی دل میں بیٹھتا ہے جب وہ آئے اور درندوں کا چیڑ پھاڑ کرے۔۔۔یہاں مثال کیلئے ایک مشہور کہاوت مینشن کرتا چلو کہ
''کسی نے کھیت پہ لٹکے کوے کا لاشہ دیکھا تو کسان سے پوچھا۔

۔۔یہ کوا کیوں لٹکایا ہوا ہے۔۔۔؟؟؟ تو وہ کسان کہنے لگا، کھیت بچانا ہو تو ایک آدھ کو لٹکانا ہی پڑتا ہے، ''
الحمداللہ اسلام ہمیں مکمل ضابطہ حیات دیتا ہے، ہمیں صرف ایک پہلو نہیں لینا چاہیے بلکہ مکمل اسلام اور شریعت محمدی صلٰی اللہ علیہ وسلم کو اپنانا چاہیے، اپنی زندگیوں میں بھی اور معاشرہ میں بھی، اسی میں خیر ہے اسی میں بھلائی ہے۔

۔۔اور اسی میں معاشروں کا امن وابستہ ہے۔۔۔ 
انصاف کے تقاضے پورے ہو گے تو معاشرے میں امن قائم اور جرائم کا خاتمہ ہوگا۔۔۔یہ میرا پہلا کالم تھا۔۔۔ابھی لکھنے کا ارادہ ہی کیا تو ایک خبر پہ نظر پڑی جو ایک ننھی بچی کے متعلق تھی جس کے ساتھ کسی درندہ صفت انسان نے اپنی ہوس کا نشانہ بناتے ہوئے اس کا قتل کیا اور اسے گھیتوں میں پھینک دیا۔۔۔جب بچی کی لاش ملی تو اسکے انکھوں سے خون نکل کر جما ہوا تھا۔بچی کی عمر 8 سال تھی۔بس اسی کو لے کر کچھ لکھ ڈالا۔ہمارے معاشرے میں ایسے واقعات کا آئے روز رپورٹ ہونا اسلامی تعلیم و تربیت پہ نہیں بلکہ نظام عدل پہ سوالیہ نشان ہے۔۔!!!! زندگی رہی تو انشاء اللہ پھر اسی پلیٹ فارم پہ ملاقات ہوتی رہے گی۔۔۔

متعلقہ مضامین :

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments

muashrat ka nikhaar is a social article, and listed in the articles section of the site. It was published on 16 May 2020 and is famous in social category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.