پاکستان میں مسلم لیگ (ن) کا مستقبل

چودھری نثار علی خان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی راہنماء ہیں گزشتہ ۳۳ سال سے پارٹی کے قائد اور سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے ساتھ رہے ہیں

منگل اپریل

Pakistan mein muslim league(N) ka mustaqbil
ملک نذیر اعوان
چودھری نثار علی خان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی راہنماء ہیں گزشتہ ۳۳ سال سے پارٹی کے قائد اور سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے ساتھ رہے ہیں۔ چودھری نثار علی خان صاحب نے اچھے برے وقت میں پارٹی میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے اور بلاشبہ چودھری نثارعلی خان کی سیاست میں اپنی ایک پہچان اور حیثیت ہے۔

اور اس حیثیت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ مگر ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ پاکستان کی سیاست کایہ المیہ رہا کہ خوشامدی لوگ ہمیشہ مراعات لیتے رہے، قیادت سے غلط فیصلے کراتے رہے اور پھر نتیجہ یہ نکلا ان خوشامدی طبقے کی وجہ سے پرخلوص، ایماندار، فرض شناس اور اچھے کردار کے لوگ قیادت اور حکومت سے دور ہوتے گئے۔ جس سے حکومت اور سیاسی جماعتوں کو کافی نقصان پہنچا۔

(جاری ہے)

اور شاید یہی وجہ ہے کہ چودھری نثارعلی خان اور میاں نواز شریف صاحب کے درمیان جو غلط فہمیاں پیدا ہوئی ہیں۔ ان میں خوشامدی طبقے کا اہم رول ہے۔ قارئین ،دس فروری دو ہزار اٹھارہ کو ٹیکسلا میں سابق وقافی وزیر چودھری نثارعلی خان نے ایک کانفرنس کی اور اس کانفرنس میں چودھری صاحب نے بڑی اہم باتیں کی ہیں۔ جس سے مسلم لیگ (ن) کے مستقبل اور اندرونی اختلافات کی واضح شناخت ہوتی ہے۔

چوہدری نثارعلی خان نے واضح الفاظ میں کہامیرا، وزیراعظم شاہد خان عباسی اور شہباز شریف کا ایک ہی موقف ہے کہ عدلیہ اور اداروں سے محاز آرائی نہ کی جائے۔ اور چودھری صاحب نے یہ بھی کہاسینیٹرپرویز رشید نے میرے خلاف جو باتیں کی ہیں اس حوالے سے میں نے میاں محمد نواز شریف کو لیٹر لکھا ہے اور میاں صاحب کے جواب کا انتظار ہے۔ میاں نواز شریف، میاں شہباز شریف پارٹی کے قائدین اور سینئر لوگ ہیں۔

ان کی قیادت میں کام کر سکتا ہوں مگر محترمہ مریم صاحبہ کے ماتحت کام نہیں کرسکتا ہوں۔ کیونکہ وہ جونیئر سیاستدان ہیں۔ چودھری نثارعلی خان صاحب نے اس کانفرنس میں ایک بہت اہم بات کی ہے۔نہ میں منافق ہوں۔ اور نہ میں سیای یتیم ہوں۔ پانالیکس کیس میں میری تجاویز اور رائے کوٹھکرا دیا گیا۔ میرے خدشات درست ثابت ہوئے۔ چند ماہ میں صورت حال سامنے آجائے گی۔

اور چودھری صاحب نے یہ بھی فرمایانہ فاروڈ بلاک بناوٴں گا۔ اورنہ علیحدہ گروپ پارٹی میں رہ کر تحریک کردار ادا کروں گا۔ چودھری نثارعلی خان صاحب نے صحافیوں کے کچھ مزید سوالوں سے گریز کیا گزشتہ آٹھ ماہ سے پارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس تک نہ ہوا۔ اگر یہ صورت حال رہی تو مستقبل میں پارٹی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائے گی۔ چودھری نثار علی خان صاحب اس پریس کانفرنس میں جن اہم نکات کی وضاحت کی ہے۔

ان میں ایک چودھری صاحب کے پارٹی قیادت سے واضح اختلافات ہیں۔ دوسرا میاں صاحب نے اداروں سے ٹکراؤ کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے۔ اور تیسرا پارٹی کے اندر اپنی صاحبزادی مریم نواز کو زیادہ اہمیت دی جارہی ہے۔ہر جلسے میں میاں صاحب اپنی بیٹی کو پذیرائی دے رہے ہیں۔ چند دن پہلے یہ بھی افواہیں تھیں کہ ہوسکتا ہے میاں صاحب پارٹی کی قیادت اپنی بیٹی کے سپرد کر دے ۔

لیکن اگر میاں صاحب ایساکرتے تو پارٹی مزیدٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتی۔ لیکن میری جو ذاتی رائے ہے۔ یہ میاں صاحب کا اچھا اقدام ہے۔ جو پارٹی کی صدارت اپنے بھائی میاں شہباز شریف کو سونپ دی ہے۔ اس وقت میاں محمد نواز شریف صاحب کے سب سے زیادہ ہمدردمیاں شہباشریف صاحب ہیں۔شہباز شریف صاحب نہایت مخلص، دیانت دار محنتی ، باصلاحیت اور اچھے لیڈر ہیں۔

اگر دو ہزار اٹھارہ کے الیکشن میں میاں شہباز شریف صاحب وزیر اعظم منتخب ہوجاتے ہیں۔ تومسلم لیگ (ن) کا کوئی دوسری جماعت مقابلہ نہیں کر سکے گی۔ لیکن شہباز شریف صاحب سے ہٹ کر کوئی اور وزیراعظم بنے گا تو پارٹی مزید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائے گی گرابھی یہ بھی سنا جارہا ہے کہ شہباز شریف صاحب کے خلاف بھی (انویسٹی گیشن) ہورہی ہے۔ ملتان میٹرواور احد چیمہ والے کیس میں شہباز شریف صاحب سے کچھ سوال اٹھ رہے ہیں۔

یہ تو آنے والے دنوں میں واضح ہوجائے گا۔ مگر شہباز شریف صاحب کی کارکردگی اچھی ہے لیکن سوالات یہ بھی اٹھ رہے ہیں کہ میاں شہباز شریف صاحب کے گلے میں ابھی تک تلوار لٹک رہی ہے۔ ملتان میٹرو کیس،ماڈل ٹاؤن قتل عام اور احد چیمہ والے کیس میں میاں شہباز شریف صاحب کے خلاف( انویسٹی کیشن) ہو رہی ہے لیکن اس تمام صورت حال کے باوجود مسلم لیگ (ن) مستقبل میں دو ہزار اٹھارہ کے الیکشن میں شہباز شریف صاحب کو وزیر اعظم نامزد کررہی ہے۔

چونکہ مستقبل میں مسلم لیگ کو کافی چیلنج کا سامنا ہے۔ سوالا ت یہ بھی اٹھ رہے ہیں کہ آنے والے دنوں میں مسلم لیگ (ن) ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائے گی۔ کیونکہ میاں نواز شریف صاحب نے چودھری نثار صاحب کو مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس میں نہیں بلایا، کچھ دنوں کے بعد صورتحال واضح ہو جائے گی۔ مگر یہ بات قابل غور ہے کہ چودھری نثار صاحب کا اگلا اقدام پنجاب کے خادم اعلی شہباز شریف صاحب کے لیے ایک کڑاامتحان ہو گا۔

نواز شریف صاحب کے سپریم کورٹ میں جو کیس ہیں۔ جون دو ہزار اٹھارہ میں فیصلہ آ جائے گا۔ جس طرح محسوس ہورہا ہے اس دفعہ (این۔ آر۔ او) نہیں ہوگا۔ میاں محمد نواز شریف صاحب اور مسلم لیگ (ن) کے چند راہنماوٴں سے گزارش ہے کہ عدلیہ اور اداروں کے خلاف محاذ آرائی کوختم کیا جائے، اگر یہ پالیسی جاری رہی تو پارٹی کے اندر انتشار پیدا ہو گا۔ اور مسلم لیگ (ن)مزیدٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائے گی۔ اور پھر نتیجہ یہ ہوگا اس کا فائدہ دوسری سیاسی جماعتوں کو ہوگا۔ اس لیے مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں پر نواز شریف صاحب صبرو تحمل کا مظاہرہ کریں تاکہ مستقبل میں پارٹی کوچیلنج پیش آئیں ان کا مقابلہ کرسکیں۔۔۔ اللہ پاک ہم سب کا حاکی و ناصر ہو۔

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments

Pakistan mein muslim league(N) ka mustaqbil is a political article, and listed in the articles section of the site. It was published on 24 April 2018 and is famous in political category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.