قدرتی وسائل سے بھر پور استفادہ کی ضرورت

پاکستان دنیا کا واحد ایسا ملک ہے جو اپنے قدرتی وسائل و مناظر ، معدنیا ت اور رعنائیوں کی بدولت پوری دنیا میں مشہور ہے اور زیادہ تر معدنیات و قدرتی وسائل کے ذخائر صوبہ خیبر پختونخوا میں موجود ہیں لیکن انتہائی افسوس کی بات ہے کہ ہم نے 70 سالوں میں اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ان نعمتوں سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا۔

بدھ جنوری

Qudarti Wasayel Se Bharpoor Istafada Ki Zaroorat
ضیاء الحق سرحدی:
پاکستان دنیا کا واحد ایسا ملک ہے جو اپنے قدرتی وسائل و مناظر ، معدنیا ت اور رعنائیوں کی بدولت پوری دنیا میں مشہور ہے اور زیادہ تر معدنیات و قدرتی وسائل کے ذخائر صوبہ خیبر پختونخوا میں موجود ہیں لیکن انتہائی افسوس کی بات ہے کہ ہم نے 70 سالوں میں اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ان نعمتوں سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا۔

یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان اور باالخصوص صوبہ خیبر پختونخوا کے عوام معاشی لحاظ سے مستحکم ہوئے ، نہ یہاں زراعت، صنعت و پیداوار کو ترقی دی جا سکی۔ معدنیات اور قدرتی وسائل سے بھر پور صوبہ خیبر پختونخوا محل وقوع کے اعتبار سے ملک کا قدرتی ذخائر سے مالا مال حصہ ہے۔ صوبہ بھر کی مختلف علاقوں سے نہروں اور دریاوٴں کی موجودگی کی وجہ سے پن بجلی کے چھوٹے اور بڑے بے شمار منصوبے کام کر رہے ہیں اور اب قدرتی گیس کی دریافت کی وجہ سے مستقبل قریب میں ترقی کے مزیدمواقع کی نشاندہی ہو رہی ہے۔

صوبہ کی برآمدات میں کیمیکلز، پٹروکیمیکلز، گرینائٹ، ماربل،سیمنٹ، ایلومینیم کے برتن، ڈرائی فروٹ، سبزیاں، جڑی بوٹیاں، تعمیراتی میٹریل ، شہد، گرینائٹ، چمڑے اورپلاسٹک کی مصنوعات ، لائیو سٹاک، پولٹری ، فوڈ آئٹمز، تازہ پھل اور کنسٹرکشن میٹریل اور فرنیچر مصنوعات شامل ہیں۔اگر ہم معدنیات اور قدرتی وسائل سے استفادہ کرنا شروع کر دیں تو جیسا کہ آجکل بجلی کا بحران ہمارے ملک میں بہت بڑا مسئلہ بن چکا ہے ناصرف اس سے نجات حاصل کی جاسکتی ہے بلکہ اس سے صوبے اور ملک کو اچھی خاصی آمدن بھی ہوسکتی ہے۔

قدرت نے جہاں پاکستان کو دیگر قیمتی معدنیات کی دولت سے مالا مال کیا وہاں دنیا کے خوبصورت اور قیمتی پتھروں کے خزانوں سے بھی نوازا ہے۔ رنگوں اور مختلف نوعیت کے اعتبار سے دنیا کے بہترین اور قیمتی پتھر پاکستان کے پہاڑوں میں پائے جاتے ہیں۔ان میں زمرد ، گلابی ، پکھراج ،یا قوت، لاجبر اور نیلم وغیرہ شامل ہیں۔یہ قیمتی پتھر دنیا بھر میں اپنی نایاب ہونے کی وجہ سے پاکستان کی شناخت ہیں۔

جن سے ہر سال کروڑوں روپے کا زرمبادلہ کمایا جا تا ہے۔ اس وقت پاکستان دنیا بھر کو قیمتی پتھر اور جواہرات برآمد کرنے والا ایک اہم ملک بن چکا ہے۔ ان قدرتی وسائل کو ہمیں کسی منصوبہ بندی کے تحت استعمال میں لانا ہو گا تاکہ کل کے لئے انہیں محفوظ بھی بنایا جا سکے۔تیل ،پٹرولیم اور گیس کے ذخائر، قیمتی پتھر اور دھاتوں سے ہٹ کر اگر صرف قدرت کی طرف سے عطا کردہ مناظر کو ہی اچھے طریقے سے بروئے کار لایا جائے تو پاکستان معاشی مشکلات سے باآسانی نکل سکتا ہے۔

ہمارے دریا،پہاڑ ،جنگلات اور صحرا وغیرہ سیا حوں کے لئے خصوصی کشش رکھتے ہیں۔وہ خدا کی خدائی دیکھنے کے لئے ایسے مقامات کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں جس کا فائدہ نچلی سطح سے لے کر اوپر تک معیشت کو پہنچتا ہے۔اس لئے ایسے مقامات کی حفاظت اور خوبصورتی میں اضافہ کیا جا تا ہے۔گزشتہ چند دہائیوں میں بدامنی اور دہشت گردی نے سیاحوں کو پاکستان سے خوفزدہ کر دیا تھا لیکن اب جب کہ ہمارے ملک میں امن واپس آرہا ہے تو ہم سیاحت پر پوری توجہ دے کر پاکستان کو سیاحوں کیلئے جنت بنا سکتے ہیں۔

کیونکہ اس وقت ساری دنیا میں پانی کم ہو رہا ہے۔ لہٰذا اب تیل کے بعد پانی پر جنگیں شروع ہونے کے خدشات ہیں۔ بیشتر ممالک نے اس بحران کی سنگینی کو بھانپتے ہوئے اس کی منصوبہ بندی شروع کردی ہے۔ مناسب منصوبہ بندی سے ہم ان انتظامات میں مزید بہتری لاسکتے ہیں۔دنیا بھر میں پانی کے ذخائر بڑھانے کے علاوہ پانی کے بے جا استعمال اور زیاں کی روک تھام کا بندوبست بھی کیا جا رہاہے۔

لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ پاکستان میں اس مسئلے کی طرف توجہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ہم ڈیم بھی نہیں بنا رہے جو پانی ذخیرہ کر کے بجلی اور دیگر ضروریات کو پورا کریں اور نہ ہی ہماری توجہ استعمال شدہ پانی کو دوبارہ قابل استعمال بنانے کی طرف ہے۔بارشوں کے بعد وہ تمام پانی جو ہماری بہت ساری ضروریات پوری کر سکتا ہے،سیلاب کی نظر ہو جا تا ہے اور عوام بجلی اور پانی کو ترستے رہ جاتے ہیں۔

ہماری موجودہ اور سابقہ تمام حکومتیں پانی کے ذخائر بنانے میں سستی کا مظاہرہ کرتی چلی آرہی ہیں۔ اپنی نااہلی اور ناقص حکمت عملیکی وجہ سے ہم نے اپنے ملک کے زرعی شعبے کو پیچھے دھکیل دیا ہے۔کسانوں کی جدید خطوط پر تربیت نہ ہونے کے باعث کسان کاشتکاری کے نئے طریقوں سے واقف نہیں ،نتیجہ زرعی پیداوار میں کمی کی صورت میں سامنے آرہا ہے۔جس سے زراعت کے شعبے میں بھی ہماری خود انحصاری کم ہو رہی ہے اور اب ہم سبزیاں بھی درآمد کرنے لگے ہیں۔

گزشتہ کچھ سالوں سے دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں جن کی لپیٹ میں پاکستان بھی ہے۔ اب پاکستان کا موسم بھی زیادہ گرم ہوتا جا رہا ہے اور سیلاب سمیت دیگر قدرتی آفات جن میں خشک سالی،زلزلے اور طوفانی بارشیں شامل ہیں،پہلے کی نسبت زیادہ ہونے لگی ہیں۔اس موسمیاتی تبدیلی نے زرعی پیداوار کو براہ راست متاثر کیا ہے۔بارش کی کمی زیادتی یا شدید گرمی اور سردی فصلوں کو نقصان پہنچا رہی ہے اور ہمارا کسان موسم کے ان تغیرات سے آگاہی نہیں رکھتا۔

ہم نے صنعتوں سے خارج ہونے والی گیس اور فضلے کو ٹھکانے لگانے کے خاطر خواہ انتظامات بھی نہیں کئے جو فضا کو آلودہ کرنے کے ساتھ ساتھ پانی میں شامل ہو کر انسانی زندگی کے لئے خطرے کا باعث بن رہے ہیں۔ماہرین موسمیاتی تغیرات سے بچنے کا آسان ترین حل شجر کاری کو قرار دیتے ہیں لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ ہمارے یہاں نئے درخت لگانا تو درکنار لگے ہوئے درخت بھی کاٹے جارے ہیں۔

دریاوٴں کے کناروں پرموجود درخت سیلاب سے بچاوٴ کا بہترین اور قدرتی ذریعہ ہیں لیکن یہاں بھی ہم کو تاہ اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان درختوں کوکاٹ دیتے ہیں۔ہر سال کتنے ہی ایکڑزرعی اراضی ،رہائشی مکانات،مویشی اور انسانی جانیں سیلاب کی بھینٹ چڑھ جاتی ہے۔یہی پانی۔تھر کے صحرا میں پہنچا کرہم وہاں قحط اور خشک سالی کا شکار معصوم لوگوں کی زندگی بچا سکتے ہیں اور زرعی پیداوار میں اضافہ بھی کیا جا سکتاہے۔یہ سب بہت زیادہ مشکل کام بھی نہیں ، بس ذراسی منصوبہ بندی کے ساتھ قدرتی وسائل سے استفادہ کر کے معیشت پر پڑنے والے بوجھ کو کم کیا جا سکتا ہے۔

Your Thoughts and Comments

Qudarti Wasayel Se Bharpoor Istafada Ki Zaroorat is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 24 January 2018 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.