سماجی دوری، قرنطینہ اور علیحدگی

سماجی دوری ستر سال سے زیادہ عمر کے افراد کے ساتھ ساتھ ستر سال سے کم عمر وہ افراد جن کو گردوں، دل، اعصاب کے دائمی امراض کے ساتھ ساتھ سانس کی بیماری لاحق ہو، کے لئے لازمی ہے

Dr. Syeda Sadaf Akber ڈاکٹر سیدہ صدف اکبر بدھ مارچ

samaji doori, qarantina aur alehdgi
کرونا وائرس ایک ایسے خوف کا عنوان بن چکا ہے جس نے تقریباً پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور پوری دنیا میں لوگوں کو ایک دوسرے سے دور رہنے کی تلقین کی جارہی ہے کہ یہ وائرس ایک متاثرہ فرد سے دوسرے فرد میں تنفسی نظام کے ذریعے ، کھا نسنے ، چھینکنے سے اور تھوک وغیرہ کے ذریعے پھیلتا ہے ۔اور اگر متاثرہ فرد کسی دوسرے فرد کو گندے ہاتھوں سے چھولے تو بھی یہ وائرس دوسرے فرد میں منتقل ہو جاتے ہیں ۔

جبکہ متاثرہ شخص کے مختلف چیزوں مثلاً دروازے کی نوب ، موبائل فون ، لفٹ، کمپیوٹر، کی بورڈ، مشترکہ تولیہ ، برتن اور مختلف استعمال کی چیزوں کو چھونے سے یہ وائرس ان میں منتقل ہوجاتے ہیں اور پھر جب دوسرے نارمل فرد ان چیزوں کو استعمال کرتے ہیں یا ان چیزوں کو چھو کر اپنے منہ، ناک یا آنکھوں کو ہاتھ لگانے کی صورت میں اس وائرس کے پھیلنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

(جاری ہے)

 
سماجی دوری ، قرنطینہ اور علیحدگی ۔آج کل ہم لوگ مستقل بنیادوں پر یہ ا صطلاحات سن بھی رہے ہیں اور ان کا استعمال بھی کر رہے ہیں مگر ان پر پورا اترنے سے پہلے یا ان کو اپنانے سے پہلے ان ا صطلاحات کے بارے میں جاننا اور سمجھنا ضروری ہے۔
سماجی دوری یا سوشل ڈسٹینسنگ کو ہم ایسے بیان کرتے ہیں کہ اس میں کسی فرد کا تعلق باقی تمام لوگوں سے منقطع ہو جاتا ہے اوراس دوران غیر ضروری سفر سے بھی گریز کرنا ضروری ہوتا ہے۔

سماجی دوری میں تمام افراد سے رابطہ ختم یا کم از کم کر د یتے ہیں تاکہ برادری یا علاقائی سطح پر وائرس کے پھیلنے کے عمل کو روکا جا سکے جبکہ تعلیمی اداریے، شاپنگ سینٹرز، سینما ہالز، پارکس وغیرہ جیسے عوامی مقامات پر بھی جانے سے گریز کرنا چاہئے اور جن افراد کیلئے ممکن ہو تو وہ دفتر بھی نہیں جائیں اور گھر سے کام کریں اور اگر پھر بھی بحالت مجبوری آپ کسی فرد سے مل رہے ہیں تو کوشش کرنا چاہئے کہ اس سے کم از کم ایک میٹر کے فاصلے پر ہوں اور ہاتھ ملانے اور بغل گیر ہونے سے گریز کریں ۔

 
سماجی دوری ستر سال سے زیادہ عمر کے افراد کے ساتھ ساتھ ستر سال سے کم عمر وہ افراد جن کو گردوں، دل، اعصاب کے دائمی امراض کے ساتھ ساتھ سانس کی بیماری لاحق ہو، کے لئے لازمی ہے۔ سماجی دوری کے دوران کسی بھی ایسے فردسے رابطہ کرنے سے پرہیز کریں جس میں کرونا وائرس سے متاثر ہونے کی علامات ظاہر ہو چکی ہو یا اس فرد کی کوئی حالیہ سفر کی ہسٹری موجود ہو۔

عام پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے سے پرہیز کریں اور بڑے اجتماعات اور بھیڑ سے بھی اجتناب کریں اور اپنے ڈاکٹر سے مشورے کے لئے آن لائن سروسز کا استعمال کریں۔
کرونا وائرس سے متاثرہ ہر شخص میں اس کی بنیادی علامات جو کہ بخار، خشک کھانسی اور سانس لینے میں تکلیف شامل ہیں لازمی نہیں کہ بظاہر نظر آئیں۔ اس سے متاثرہ افراد اس مرض کے کیریئر بھی ہو سکتے ہیں یعنی ان میں کوئی ظاہری علامات ظاہر نہیں ہوتی ہیں مگر وہ اس وائرس کو دوسرے افراد تک پھیلانے کا باعث بن سکتے ہیں۔

 قرنطینہ اطالوی زبان کا لفظ ہے جس کے لغوی معنی چودہ دن کا وقت ہے۔ قرنطینہ کا مقصد بیرون ملک سے آئے ہوئے انسانوں کو ایک مخصوص مدت یا چودہ دن کے لئے دوسرے لوگوں سے الگ تھلگ رکھا جاتا ہے ۔ ایسے افراد کوقرنطینہ میں رکھا جاتا ہے جو کسی ایسے علاقے یا ملک سے واپس آئے ہوں جہاں کرو نا کی وبا ء پھیلی ہوئی ہو مگر ان افراد میں اس بیماری کی کوئی علامات ظاہر نہیں ہوئی ہو۔

قرنطینہ کے دوران ان افراد کو الگ الگ ایسے کمر وں میں رکھا جاتا ہے جہاں سے ان افراد کے اند ر کرونا کی علامات کو مانیٹر کیا جاتا ہے اور پھر اگر کسی فرد میں اس کی تشخیص ہو جائے تو پھر ایسے افراد کو اسپتال میں آئسو لیشن والے مرحلے میں منتقل کر دیا جاتا ہے۔ اور اگرقرنطینہ کے دوران یا اختتام تک فرد میں کوئی علامات ظاہر نہ ہو تو اپنے ڈاکٹر کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے وہ فرد دوبارہ سے اپنی روزمرہ کی نارمل زندگی کی شروعات کر سکتا ہے۔

 
آئسولیشن یا علیحدگی قرنطینہ سے ایک درجے اوپر کی حالت ہے جس سے مراد ہے کہ متاثرہ فرد کو دنیا بھر سے الگ کر لیا جاتا ہے ،حتیٰ کہ اپنے گھر میں بھی موجود افراد سے رابطے محدود کر لئے جاتے ہیں اور یہ آئسولیشن ایسے افراد کو اختیار کرنے کیلئے کہا جاتا ہے جن کے اندر کرونا کے مرض سے متعلق علامات ظاہر ہو چکی ہوں او رتشخیصی ٹیسٹ کا رزلٹ بھی کنفرم ہو چکا ہو۔

لہذٰا دیگر افراد کو محفوظ رکھنے کے لئے ایسے متاثرہ لوگوں کو ان سے دور رکھا جاتا ہے۔ علیحدگی کے لئے متاثرہ فرد کو گھر یا ہاسپٹل کہیں بھی رکھا جا سکتا ہے۔ علیحدگی اختیار کرنے والے افراد کوایک ہوادار اور روشن کمرے میں رہنا چاہئے تا کہ تازہ ہوا کا گزر بآسانی ہو سکے اور سودا سلف، ادویات اور گھر کا سامان وغیرہ لانے کیلئے بھی کسی کی مدد اختیار کرنی چاہئے۔

 قرنطینہ اور علیحدگی میں رہنے والے افراد اپنے کھانے پینے اور استعمال کی چیزوں کو بھی الگ رکھیں اور گھر والوں ،رشتے داروں اور دوست احباب سے دور رہنے کی کوشش کریں ۔ اپنی صحت و صفائی کا خاص خیال رکھیں اور باقاعدگی سے صابن اور پانی سے ہاتھ دھوتے رہیں۔ علیحدگی میں رہنے والے افراد کے ساتھ رہنے وا لے گھر کے باقی افراد بھی باقاعدگی سے اپنے ہاتھوں کو صابن اورپانی سے کم از کم بیس سیکنڈ تک دھوئیں اور اس متاثرہ فرد کے تولیے ، کھانے پینے اور استعمال کی دوسری اشیاء کو استعمال کرنے سے گریز کریں اور ان کیلئے بیت الخلاء بھی الگ کر دینا چاہئے کیونکہ ایک نئی تحقیق کے مطابق کرونا وائرس انسانی فضلے کے ذریعے بھی پھیل سکتا ہے اور اگر متاثرہ فرد نے بیت الخلاء استعمال کرنے کے بعد اچھے طریقے سے اپنے ہاتھوں کو صاف نہیں کیا تو وہ ہر مقام پر اس وائرس کو پھیلانے کا ذمہ دار بن سکتا ہے۔

قرنطینہ کیلئے کسی فرد کا بیمار ہونا لازم نہیں ہوتا ہے جبکہ میڈیکل کی زبان میں آئسو لیشن کا مطلب کسی بھی متعدی بیماری کا شکار افراد کو مکمل تنہائی میں رکھنا ہے تا کہ اس متاثرہ فرد سے یہ بیماری کسی دوسرے تندرست اور صحت مند فرد میں منتقل نہ ہو سکے۔
یہاں یہ بات ذہن میں رکھنا بے حد ضروری ہے کہ کرونا وائرس کا ابھی تک کوئی علاج یا ویکسین منظر عام پر نہیں آئی ہے لہٰذا اس سے بچاؤ کا واحد حل صرف اور صرف احتیاط ہے۔

کرونا وائرس سے نبرد آزما ہونے کیلئے ہمیں سماجی دوری پر زور دینا بے حد ضروری ہے کیونکہ یہ وائرس انسانوں کے عہدوں سے بے نیاز ان کے سماجی مرتبوں سے آنکھیں ملاتا ہوا ہر اس شخص کو متاثر کرتا نظر آ رہا ہے جس نے سماجی دوری اپنانے سے گریز کیا ۔
 قرنطینہ اور علیحدگی میں موجود افراد کو پالتو جانوروں سے بھی دور رہنے کی تلقین کی جاتی ہے اور اگر ایسا ممکن نہیں ہو تو ان کو چھونے سے پہلے اور بعد میں صابن اور پانی سے اچھے طریقے سے ہاتھ دھو لینا چاہئے اور اگر کورونا وائرس سے متاثرہ شخص کھانا تیار کر رہا ہے تو اس دوران اس کے کھانسے یا چھینک سے نکلنے والے قطرے یا اس کے ہاتھوں کے ذریعے یہ وائرس کھانے میں شامل ہو سکتے ہیں لہٰذا ایسے افراد کو دوسرے لوگوں کے لئے کھانا پکانے سے گریز کرنا چاہئے اور کھانے کو چھونے اور کھانے سے قبل اچھی طرح سے اپنے ہاتھوں کو دھو لینا چاہئے تا کہ کورونا کے مرض کوپھیلنے سے روکا جا سکے۔

سماجی دوری، قرنطینہ اور علیحدگی اس ساری صورتحال میں ہمیں گھبرانے اور خوفزدہ ہونے کے بجائے اپنے آپ کو مصروف رکھنے اور مثبت سوچ کو پروان چڑھانے کی ضرورت ہے۔اپنوں سے جسمانی طور پر دور رہنے کا ہرگز مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ اپنے پیاروں سے دور ہو گئے ہیں بلکہ آپ ویڈیو کال اور پیغامات کے ذریعے ہمہ وقت ان سے تعلق میں رہ سکتے ہیں۔سماجی دوری یا قرنطینہ کی صورتحال میں صرف اور صرف مصدقہ خبروں اور اطلاعات پر بھروسہ اور عمل کرنا چاہیے اور افواہوں اور سنی سنائی باتوں پر کان نہیں دھرنا چاہیے۔

اپنی صحت کا بے حد خیال رکھتے ہوئے تازہ ، متوازن اور صحت مند خوراک کا استعمال کریں اورجسمانی طور پر سرگرم رہنے کے لئے اپنے گھر یا کمرے میں ہی یوگا اور ہلکی پھلکی ورزش کا اہتمام کریں اوردماغی طور پر صحت مند رہنے کے لئے اپنی پسندکی کتابوں کے مطا لعے کو معمول بنا لیں۔ یاد رکھیں سماجی دوری یا قرنطینہ ہی کرونا وائرس کے مزید پھیلاؤں کو روکنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ لہذٰا صحت مند زندگی کے ساتھ اپنے پیاروں کے پاس رہنے کے لئے کچھ دنوں کی دوری ہمیشہ کے لئے ان کو کھو دینے سے بہتر ہے۔

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

samaji doori, qarantina aur alehdgi is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 25 March 2020 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.