سینٹ الیکشن سیاسی جماعتیں جوڑ توڑ کے لیے سرگرم

بلوچستان سے 24 اُمیدار سامنے بلوچ قبیلوں کا پاک افغان بارڈر پر خاردار باڑ لگانے کا خیر مقدم

پیر فروری

senate elections syasi jamatain jor tor ky liye sargram
عدن جی:
بلوچستان کی سیاست ایک دلچسپ موڑ پر آگئی صوبائی وزیر اعلیٰ کی تبدیلی آئندہ سینٹ الیکشن کے حوالے سے نتائج پر اثر انداز ہوگی اگرچہ پیپلز پارٹی قطعی طور پر انکار کررہی ہے لیکن صوبائی ایوان میں ایک رکن بھی نہ ہونے کے باوجود ن لیگی وزیر اعلیٰ کی تبدیلی کا معاملہ کوئی آسان کھیل نہیں تھا اس کے لیے سابق صدر زرداری کی جانب سے عشائیہ کی دعوت دی اور وزیر اعلیٰ بزنجو اپنی کابینہ سمیت کسی شخصیت سے ملاقات کے لیے سندھ ہاﺅس میں موجود تھے،
ماحول خوشگوار رہا بہت سی یقین دہانیاں اور وعدے ہوئے جس کے بعد بلوچستان حکومت کے وزیر اعلیٰ سے اتنی ساری شکایت کا گٹھڑ تبدیلی تحریک عدم اعتماد کے بعد اتر کیسے گیا اب سینٹ الیکشن کا اعلان ہونے کے بعد بلوچستان سے 28 امیدارار سامنے آگئے بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اور سینیٹر میرا سرار اللہ زہری نے کہا کہ سینٹ الیکشن میںٹھیکیدار گروہ سرگرم ہوچکا ہے ٹیبل شو60 کروڑ بے خدشہ ہے کہ آنے والے الیکشن کے بعد سینٹ میں بلوچستان کی نمائندگی ٹھیکیداروں کے ہاتھ میں ہوگی پہلے سمگلرز میدان میں آتے تھے اب ٹھیکدار 60 کروڑ کی بولی لگارہے ہیں گیم سیاستدانوں کے بس سے باہر ہوچکی ہے پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر نے کہا پیپلز پارٹی بلوچستان سے سینٹ الیکشن کے لیے کوئی حمایت نہیں چاہتی یہاں تو ایوان میں ہماری پارٹی کی کوئی نمائندگی نہیں پھر یہ سب محض الزامات ہیں جبکہ بلوچستان کے حوالے سینٹ الیکشن کی بات کی جائے تو مسلم لیگ (ن) دو دھڑوں میں بٹ چکی ہے مگر سابق وزیر اعلیٰ زہری کا دعویٰ ہے کہ ہم پہلے سینٹ کی 4 نشستیں لینے کے پوزیشن میں تھے اب ہم با آسانی 2 لے لیں گے جبہ اب مسلم لیگ(ن) کسی بھی طرح پارٹی دباﺅ کا شکار نہیں وہ آزادی سے یا بعض حلقوں کے مطابق ہارس ٹریڈنگ کے تحت ووٹ دیں گے پشتو نخواہ میپ اور نیشنل پارٹی بربسر اقتدار جماعت رہیں مگر اب وہ ابھی تک الیکشن کمیشن میں رجسٹریشن بحال نہیں کراسکیں دونوں جماعتوں کے نصف سے زائد صوبائی اراکین اپنے ووٹ پارٹی پالیسی سے سیٹ کردینے کی لابنگ کرچکے ہیں اور امکان یہی ہے کہ سینٹ الیکشن میں آزاد امیدواروں کو ووٹ دیں گے جبکہ ایوان میں ان کے اراکین کی تعداد پی کے میپ 14 اور نیشنل پارٹی کے 11 ہے جے یو آئی کے 6 اراکین ہیں 65 کے ایوان میں سینٹ کی ایک شنست کے لیے 9 صوبائی اراکین کی ضرورت ہے مزید 1 ووٹ کے لئے جوڑ توڑ کرنا ہوگی جس کے لئے سب پارٹیوں سے ڈپٹی چئیر مین سینٹ کی زیر نگرانی مذاکرات جاری ہے اور مسلم لیگ(ن) کا باغی گروپ حمایت کا یقین دلاچکا ہے مگر حاصل بزنجو اورمحمود اچکزئی کو سابق نا اہل وزیر اعظم سے وفاداری نبھانے میں مصروف ہیں یہ نہیں کہا جاسکتا کہ ہارس ٹریڈنگ کس حد تک ہوگی یہ بات تو یہ 60 کروڑ کی ہورہی ہے میگا کرپشن میں زیر تفشیش خالد لانگو بھی سینٹ میں جانے کے لئے پرتول رہے ہیں مگر ابھی کہنا قبل از وقت ہوگا لیکن مسلم لیگ(ن) شائد پہلے کی طرح میدان مارنے کی پوزیشن میں نظر نہیں آتی دوسری جانب بلوچستان میں نیب کی جانب سے شکنجہ سخت ہورہا ہے خاصی حد تک انکوائریاں جاری ہے ایک معقول رقم بارگینگ کے بعد وصول کرکے صوبائی حکومت کے حوالے کردئی گئی ہے اور چئیرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کا تعلق بلوچستان سے ہے لہٰذاامید کی جارہی ہے کہ وہ بلوچستان میں کرپشن کے خاتمے کے زیادہ موثر کردار ادا کریں گے اسی حوالے سے بلوچستان میں محکمہ خوراک کرپشن کی شکایات بہت دیر سے جاری ہے کیونکہ صوبائی وزیر خوراک سرکاری گندم میں کرپشن کرتے ہوئے بحران کے شکار افغانستان تو یہ گندم سمگل کرکے خاصا مال بناتے ہیں،
نیب نے مختلف ادوار میں اربوں روپے کی غذائی کرپشن میں سابق وزیر خوراک اسفند یار کاکڑ سابق سیکرٹری خوراک سمیت کئی دیگر اعلیٰ عہدیداروں کے خلاف سوا دو ارب کے 3 ریفرنسز احتساب عدالت میں دائرکر رکھے ہیں اورموجودہ رکن بلوچستان اسمبلی اور سابق وزیر خوراک میر اظہار کھوسہ کو گرفتار کرلیا ہے ان پر صوبائی خزانے کو 28 کروڑ روپے کا نقصان پہنچانے کا الزام ہے بلوچستان کو ملک کا سب سے کرپٹ صوبہ کہا جارہا ہے،
وزیر اعلیٰ عبدالقدوس بزنجو کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے بیان سے عوام کو مایوسی ہوئی ہے کیونکہ اس وقت بلوچستان میں دہشت گردوں اور طالبان کی کوئی پناہ گاہیں نہیں ہے افغان جنگ کے بعد صوبے کو مزید دہشت گردی کا سامنا ہے جس کے خاتمے کے لئے دفاعی اور صوبائی حکومت ٹھوس اقدامات کررہی ہے کوئٹہ کے لیے سیف سٹی پراجیکٹ شروع کیا جارہا ہے ناراض لوگ قومی دھارے میں واپس آرہے ہیں پاکستان مخالف قوتیں صوبے کا امن تباہ کرنے کے درپے ہیں پاک افغان بارڈر کو محفوظ کرنے کے چمن کے قبائلی لوگوں نے بھرپورخیر مقدم کیا ہے اور بارڈر پر خاردار باڑ لگانے کی حمایت میں ہزاروں قبائلیوں نے مارچ کیا اور ملک کو محفوظ کرنے کے لئے پر جوش نعرے بھی لگائے یہ ایک اہم پیش رفت ہے۔


Your Thoughts and Comments

senate elections syasi jamatain jor tor ky liye sargram is a political article, and listed in the articles section of the site. It was published on 19 February 2018 and is famous in political category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.