شادی 2020 کا مُنافع بخش کاروبار

معاشرے میں شادی کا روایتی طور طریقہ تو یہی رائج تھا کہ باقاعدہ اور با ضابطہ طور پر رشتہ آئے اور شادی کردی جائے مگر یہ تقریباً ختم ہوتا جارہا ہے اور جو طریقہ زور پکڑتا جارہا ہے اُسے معاشرہ مُکمل طور پر قبول کرنے پر آمادہ ہی نہیں اور وہ ہے پسندکی شادی

ملیحہ سایانی ہفتہ فروری

shadi 2002 ka munafa bakhsh karobar
تحریر: ملیحہ سایانی

یہ تقریباً 18 ویں یا 19 ویں صدی کی بات تھی جب شادی ایک انمول اور مُقدس بندھن سمجھا اور مانا جاتا تھا لیکن اب چونکہ 21 وی صدی ہے نیا دور ہے، نیا زمانہ ہے۔ ہر رشتہ ہر تعلق میں تبدیلی آتی جارہی ہے تو پھر شادی کا بندھن کیوں پیچھے رہے۔ آج کے دور میں شادی ایک مُکمل کاروبار کی حیثیت اختیار کر چُکی ہے۔

دوسرے لفظوں میں کہا جائے تو شادی کرنا اور کروانا ایک اچھا خاصا مُنافع بخش کاروبار بن چکا ہے جو ہر گُزرتے دن کے ساتھ معاشرے میں اپنی جڑیں مضبوط کرتا جارہا ہے۔ شادی اب صرف لڑکیوں کا مسئلہ نہیں بلکہ لڑکوں کے لیے بھی دردِ سر بنتا جارہا ہے۔
 اب صرف لڑکیوں کے ماں باب ہی رشتوں کے لیے پریشان نہیں ہوتے بلکہ لڑکے والے بھی مناسب رشتوں کی خاک چھانتے دکھائی دیتے ہیں۔

(جاری ہے)

کہیں من چاہا جہیز نہیں مل پارہا تو کہیں مناسب جوڑ۔ حتّیٰ کہ لڑکالڑکی اپنی عزتِ نفس کا گلہ گھونٹ کر اپنے وجود کی منہ مانگی قیمت لگتا بھی دیکھ رہے ہیں۔ معذرت کے ساتھ مگر یہ شادی سے کئی زیادہ سودے بازی معلوم ہوتی ہے۔ سودے بازی کا بازار لگا ہواہے۔ ہر کوئی بکنے کو تیار بیٹھا ہے بس دام مُنہ مانگا ہو۔ ان سب کے ذمہ دار کہیں نہ کہیں ہم خود ہی ہیں۔

یہ بازار لگا نے والے یہ کاروبارکرنے والے ہم خود ہی ہیں۔ آس پاس ایسا ماحول بنا دیا گیا ہے کہ خدانا خواستہ شادی نہیں ہوئی تو کوئی بہت بڑا جُرم سرزرد ہوگیا ہو۔شادی ہو تب بھی مسئلہ نہ ہو تو الگ الرجی۔ نہ چین سے جیتے ہیں اور نہ جینے دیتے ہیں لوگ۔ اگر چہ مذہبی نقطہِ نظر سے شادی میں جلدی کرنی چاہیے تاکہ آپ کا ایمان مُکمل ہو اور گُناہ عظیم سے محفوظ رہا جاسکے مگر رُکیے۔

۔۔۔۔ ذرا سوچیے۔۔۔۔۔ کیا شادی کرنا یاہونا انسان میں اختیار میں ہے۔۔۔۔؟؟؟ اگر ہے تو یہ معا شرہ ''نمرہ اوراسد'' کی شادی کو تنقید کا نشانہ کیوں بنا رہا ہے۔۔۔۔؟؟؟ یہ تو خوش آئین بات ہے مگر صد افسوس ہمارا معاشرہ زنا کی تو اجازت دیتا ہے مگرپسند کی شادی کی نہیں۔
''بیٹا/بیٹی کی شادی کب کر رہے ہو۔۔۔۔؟؟؟''، ''تُمہاری اب تک شادی نہیں ہوئی۔

۔۔۔۔؟؟؟''، ''بالوں میں سفیدی آگئی ہے اب تو شادی کرلو''، ''تمہاری عمر کے لڑکے / لڑکیوں کے دو دو بچے ہیں'' اور''پڑوسیوں کے بچے جوان ہونے کو آئی ہیں'' یہ چند ایسے تلخ سوالات اور جُملے ہیں جن کی تلخی ناقابلِ برداشت ہوتی جارہی ہے۔یہی وجہ ہے خود کُشی کی اموات کی۔ اتنا ہی نہیں بلکہ والدین پر دباؤڈال کر اُنہیں بلاوجہ کی ذہنی پریشانی اور ڈپریشن میں دھکیلا جا رہا ہے۔

شادی خوشی کے بجائے ناقابل حل مسئلہ بنا دیا گیا ہے۔ قطع نظراس کے کہ شادی صرف اور صرف نصیبوں کا کھیل ہے اور نصیب کا وقت مُتعین ہے۔ فطرت نے ہر کام کا ایک طے شُدہ وقت پر رکھا ہے پھر یہ کیسے مُمکن ہے کہ شادی وقتِ مقررہ سے پہلے ہوجائے۔
والدین کی اپنی اولاد کے لیے فکر و پریشانی فطری ہے اور وہ کسی حد تک فکر مند ہونے پر حق بجانب بھی ہیں۔

ہر ماں باب کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنی زندگی میں ہی اپنی اولاد کو اُس کے گھر کا ہوتادیکھیں۔ اُسے خوش و خرّم زندگی گُزارتا دیکھیں اور سب سے بڑھ کر مُستقبل کا تحفُظ دینا مقصود ہوتا ہے تاکہ ان کے بعد اولاد در بدرنہ بھٹکے۔ یہ اور بات ہے کہ نصیب کا لکھا انسان کو ہر حال میں ملناہی ہے پھر چاہے وہ زمانے کی ٹھوکریں ہی کیوں نہ ہوں۔ شادی ہونے یا نہ ہونے سے اس کا کوئی تعلق نہیں نہ ہی شادی اس بات کی ضمانت ہے کہ اس کے بعد کوئی غم و پریشانی زندگی میں نہیں آئے گی۔

بہرحال انسان کے اختیار میں صرف اور صرف کوشش ہوتی ہے۔ اولاد کی شادی کرنا ماں باب کا بڑا فریضہ ہے اور وہ اس کے لیے جتنی کوششیں کریں کم ہے مگر ہھر بھی اتنا ضرور یاد رکھاجائے کہ محض اپنا فریضہ ادا کرنے کی خاطر اولاد کو اندھے کُنوے میں نہ ڈھکیل دیا جائے نہ ہی اگلے کو یہ باور کرایا جائے کہ وہ آپ پربوجھ ہے۔ بلکہ اُس کی خوشی اور معیار کو اوّلین ترجیح دی جائے۔

اس کی پسند نا پسند کا خیا ل رکھا جائے۔ اگر اُس کی کوئی پسند ہے تواس پر سنجیدگی سے سوچا جائے۔ اس کی پسند کا احترام کیا جائے اُسے محض اپنی ناک اور جھوٹی انا کی خاطر نہ ٹھکرایا جائے خصوصاً آج کل کے ایسے ماحول میں جہاں اچھے رشتوں کا ویسے ہی کال پڑا ہوا ہے۔ کم از کم اس سے دو خاندانوں کا بھرم تو قائم رہتاہے اور سب سے بڑھ کر آپ کے بچّے روایتی ٹھکرائی جانے کی اذیت سے دوچار نہیں ہوتے اور نہ ہی آپ کو رشتے والیوں کے چکّرکاٹنے پڑتے ہیں۔

معاشرے میں شادی کا روایتی طور طریقہ تو یہی رائج تھا کہ باقاعدہ اور با ضابطہ طور پر رشتہ آئے اور شادی کردی جائے مگر یہ تقریباً ختم ہوتا جارہا ہے اور جو طریقہ زور پکڑتا جارہا ہے اُسے معاشرہ مُکمل طور پر قبول کرنے پر آمادہ ہی نہیں اور وہ ہے پسندکی شادی۔ ان دونوں کے درمیان شادی کا وہ تیسرا طریقہ بھی ہے جوشاید سب سے زیادہ تکلیف دہ ہے نہ صرف شادی کرنے والے فریقین کے لیے بلکہ دو گھرانوں کے لیے بھی اور وہ ہے ''بروکری سسٹم''یا ''دلالی نظام''. ایک ایسا نظام جو آج کل ایک اچھے خاصے مُنا فع بخش کاروبار کی شکل اختیار کر چُکا ہے۔

شادی وہ مُخلص بندھن ہوتا ہے جو ہر طرح کے لالچ و طمع اور شرطوں سے آزاد ہوناچاہیے مگر بد قسمتی سے یہ اب کاروبار بن چُکی ہے اور کاروبارمیں تو شرطیں بھی ہوتی ہیں، لین دین کا سودا بھی طے کیا جاتا ہے۔
پسند کی شادی کا بھی یہی معیار بنتا چلا جارہا ہے تاہم فرق صرف اتنا ہے کہ پسند کی شادی میں پھر کہیں سمجھوتے کی گنجائش نکل آتی ہے۔ اُونچ نیچ قابلِ قبول بن جاتی ہے۔

ایسے اشخاص جن کی شادی نہیں ہو رہی یا ہو پا رہی وہ یا ان کے والدین نا چاہتے ہوئے بھی اس بروکری سسٹم کا سہارا لینے پر مجبورہوگئے ہیں۔ ایسا نظام جس میں ایک عورت دونوں گھرانوں کے درمیان رشتے کی بات کُچھ شرطوں کی بُنیاد پر کرتی ہے۔ یعنی دونوں جانب سے کُچھ نہ کُچھ وصول کیا جاتا ہے۔ گویا مجبوری کابھرپور فائدہ اُٹھایا جاتا ہے۔
 پہلے پہل یہ سلسلہ صرف ایک عورت تک محدود تھا مگر اب یہ ایک مُکمل نیٹ ورک بن چکا ہے۔

اب ایک عورت نہیں بلکہ عورتوں کا گروہ ایک رشتہ کرانے میں شامل ہوتاہے۔ سب کے الگ مزاج سب کے الگ تقاضے۔ والدین کو ہر اک کے مُنہ لگنا پڑتا ہے۔ سب کی منّت سماجت کرنی پڑتی ہے۔ مُنہ ما نگی لالچ پوری کرنی پڑتی ہے۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ شادی سُکھ کی ضمانت نہیں۔ لڑکا لاکھ قابل ہو، لڑکی چاہے کتنی ہی سُگھر کیوں نہ ہو یہ مسئلہ سبھی کو درپیش ہے۔

فائدہ صرف ان درمیان کی عورتوں کو پہنچتا ہے۔ دونوں طرف سے خوب بٹورتی ہیں۔ 100 میں سے 90 کیس ایسے ہوتے ہیں با قی 10 فیصد ایسی عورتیں بھی ہوتی ہیں جنکا مقصد صرف اور صرف رضائے الٰہی ہوتا ہے مگر ایسی عورتیں آٹے میں نمک برابر پائی جاتی ہیں۔
بروکری سسٹم میں ایسا عجب قصّہ بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔ خود کے گھر میں غیر شادی شدہ بہن، بیٹی، بھائی یا بیٹا موجود ہوتا ہیاور چلتے بنتے ہیں اوروں کی شادیاں نمٹا نے۔

روزانہ شام ڈھلے سُرخی پاؤڈر لگا کر کسی نہ کسی کے گھر شام کی چائے پینا یا پھر لوگوں کو اپنے گھر کے چکّر لگوانا تو جیسے ان کا پسندیدہ مشغلہ ہو۔ عمررسیدہ توعمر رسیدہ اب دیگر خواتین بھی اس کاروبا ر کا حصّہ بنتی جارہی ہیں۔ با قاعدہ نظام الاوقات کے تحت کام کیا جاتا ہے۔ شرطیں اور ضا بطے وقواعد ایسے کہ خدا کی پناہ۔ پریشان والدین کواگر اتنی خبر ہوجائے کہ فلاں جگہ فلاں بندی رشتے کرواتی ہے بس پھر وہ اولاد کی خاطر ایڑی چوٹی کا زور لگا دیتے ہیں۔

در بدر کی خاک چھانتے ہیں۔ بھانٹ بھانٹ کے لوگوں کے مُنہ لگتے ہیں یہاں تک کہ اپنی عزّتِ نفس تک نیلام کردیتے ہیں صرف ایک رشتہ کے لیے۔رشتہ ہونے سے پہلے کی اذیت الگ اور پھر بعد کے غم الگ برداشت کرنے پڑتے ہیں گویا یہ طے ہے کہ ماں باب کو مرتے دم تک اولادکی خوشیوں پر قُربان ہونا ہی ہے۔ اتنے پر بھی معاشرہ یہ کہ اُٹھتا ہے کہ اسے تو اولاد کی شادی کی پڑی ہی نہیں۔

بیٹھے بیٹھے اولاد کی کمائی کھانے کی عادت ہوگئی ہے اسی لیے اولاد کو بوڑھا کر رکھاہے۔اس کاروبا ر کا انداز ہی نرالا ہے۔ 
کسی کو رشتے کروانے کے لیے زیور چاہیے تو کسی کو کپڑے لتھے اور کسی کو مخصوص رقم۔ رشتے کا معیا ر رقم پر مقرّر کیا گیا ہے۔ جتنا پیسہ دیا جائے گااُتنا ہی اچھا رشتہ تلاش کیا جائے گا۔ پیسہ پھینک تماشہ دیکھ والامعاملہ ہوتا ہے۔

یہ کاروبا ر نہیں تو اور کیا ہے۔۔۔۔؟؟؟ جہا ں جتنا مُنافع چاہیے ہو اتنا ہی زیادہ سرمایہ لگایا جائے۔ اصل کاروبار میں پھر بھی نقصا ن کی ضمانت دی جا تی ہے جبکہ اس میں قیمتی اثاثہ بھی جا تا ہے اور کسی قسم کی کوئی ضمانت بھی نہیں ملتی۔
آج کل والدین کی فکروں کا یہ عالم ہے کہ دورانِ تعلیم ہی اپنے بچّے پچیوں کے لیے رشتے کروانے والیوں سے رابطے قائم کرنا شروع کردیے جاتے ہیں تاکہ بعد میں پریشانی نہ ہو۔

کچھ تو بچوں کی تعلیم تک بیچ میں چھوڑوا دیتے ہیں۔ میری تمام والدین سے گُزارش ہے کہ سمجھداری کا مظاہرہ کریں ایسا ہرگز نہ کریں۔ اپنے فریضہ کی ادائیگی آپ پر لازم ہے مگر اس کی خاطر اولاد کو انُ کے بُنیادی حقوق سے محروم نہ کریں۔ شادی ہونا یا نہ ہونا نصیب کی بات ہے۔اُمید کا دامن تھامیں رکھیں۔ معاشرہ کے ڈر اور دباؤ میں آکر اولاد کوبوجھ نہ سمجھیں۔

انہیں اذیت نہ پہنچائیں۔ اپنی عزت نفس اور خود داری کا سودا نہ کریں۔ شادی کے معاملے میں بے جا جلدبازی سے گُریز کریں۔ رشتے والیوں پر مُکمل اور اندھا اعتماد نہ کریں نہ ہی ان کی ہر فرمائش پوری کریں۔ نہ خود پریشان ہوں نہ ہی اولاد کو ڈپریشن کا شکا ر بنایے بلکہ انہیں خود اعتمادی اور خود مُختاری دے کر اس قابل بنایے کہ وہ خود کو ہر طرح کے حالات کے سانچھے میں ڈھال سکے حتیٰ کہ خدا کی ذات کے علاوہ کسی کی مُحتاج نہ رہے۔

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

shadi 2002 ka munafa bakhsh karobar is a social article, and listed in the articles section of the site. It was published on 15 February 2020 and is famous in social category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.