ٹیکنالوجی کی صدی ٹچ موبائل تک

ویو ماسٹر کے لمبے سفر کو سمیٹے ہوئے ڈیجیٹل کیمروں نے مووی بنانے اور فوٹوگرافری میں انقلاب بر پا کر دیا جس سے انتہائی روشن تصاویر اور مووی بنوانے کو فروغ ملا اور فوٹو اورمووی فلم سے نجات مل گئی

Riaz Ahmad Shaheen ریاض احمد شاہین جمعرات جنوری

technology ki sadi touch mobile tak
نصف صدی قبل گاوٴں گاوٴں شہر شہر گلیوں محلوں میں ڈھگڈوگی ٹلیاں بجا بجا کر لنکا کا بندر دیکھو تاج محل دیکھو پانچ من کی عورت دیکھو کراچی کی بندر گاہ دیکھو وہیل مچھلی دیکھو کی آ وازیں گونجتی ان آوزوں پر بچوں کا رش دیسی ویو ماسٹر پرلگ جاتااور بوڑھاشخض دیسی ساخت کے بنے ہوئے ویوماسٹر پر باری باری بچے پائپ پر پیوست کر لیتے اور بوڑھا شخض اپنے ہاتھ سے چرخری کو گھومتا اور بولتا لنکا کا بندر دیکھو تاج محل دیکھو پانچ من کی عورت دیکھو کراچی کی بندر گاہ دیکھو وہیل مچھلی دیکھو جب ایک بچہ دیکھ لیتا اس کے بعد دوسرے پھر تیسرے کی باری آتی یہ سلسلہ گھنٹوں جاری رہتا اور یہ بچوں کی تفریح ہوتی بوڑھے کو بچے ٹکہ آنا دیتے جب سب بچے ویوماسٹرپر تصویروں کا نظارہ کر لیتے یہ شخض لکڑی کا بنا ہوا بھاری ویو ماسٹر اپنے کندھے پر اٹھا کر اگلی گلی میں چل پڑتا اور دن بھر اس سے روزی کمانے کا سلسلہ جاری رکھتا ۔

(جاری ہے)


اس کے بعد ٹین کی بنی ہوئی دور بین آ گئیں جن میں فلم پرنٹ کی پازیوٹیو ایک آنکھ سے نظارہ کرنے کا اہتمام کیا گیا تھا اس سے بھی لوگوں نے کمائی کی اور دیسی ویو ماسٹر کے وزن سے نجات مل گئی اس دوربین کا 100 grm سے زائد نہ تھا مگر اس سے تفریح زیادہ عرصہ نہ چل سکی اور اس سے چند سالوں بعڈگیوٹ فوٹو کمپنی نے پلاسٹک کا منی پوٹ ایبل متعارف کروایا جس کے ساتھ دنیا کے خوبصورت مقامات اور مقدس مقامات کی 8mmکی کلر ٹرانسپیرنسی کو تین انچ قطر کے گول فیتہ میں ہر تصویر کو دودو بار چسپاں کیا گیا تھا اس ویو ماسٹر کو آسانی کے ساتھ دونوں آنکھوں کے ساتھ لگا کر باری باری ایک تصاویر کو دیکھ کر دوسری کو کلیک کر کے نظارہ کیا جاتا اس ویو ماسٹر کا وزن 300grm کے قریب تھا ۔

اس ویوماسٹر کی دیمانڈ اس قدر بڑھ گئی دیگر فوٹو کمپنیوں نے ویو ماسڑ کلر ٹرانسپیرسی سے خوب کمائی گی اور حج اور عمرے کے موقع پر خانہ کعبہ اور روضہ رسول سمیت مقدس مقامات اور حج کرانے کے مناظر کو کیمروں میں کیپچر کر کے ہر سال لاکھوں حجاج کے ہاتھوں فروخت کرنے کاسلسلہ کئی سالوں جاری رکھادیگر مذاہیب کے مقدس مقامات تصاویر کی کٹ اور ویو ماسٹرسے خوب کمائی کی اور مقدس مقامات پر جانے والوں سے ان کے دوست احباب بھی ویوماسٹر اور مقدس مقاما ت کی کلر تصاویز لانے کی فرمائش کرتے جبکہ لوگوں نے گاوٴں گاوٴں گلی محلوں میں گھوم پھر کر بچوں کو ویو ماسٹر سے کلر تصاویز دیکھا کر اپنی روزی کماتے رہے اور چند سالون بعد ہی کوڈک فیوجی گیوٹ اگفا اور دیگر فلم کمپنیوں نے ایسے ویو ماسٹر مارکیٹ میں لے آئے لو گ اپنی بنائی ہوئی کلر تصاویز کی ٹرانسپیرنسی کو ویو ماسٹر سے پردہ سکرین پر دیکھ سکے مگر یہ ویوماسٹر عام لوگوں کی قوت خرید سے دور تھے۔

 اس کے ساتھ ہی پوٹ ابیل پرو جیکٹراورمووی کیمروں کا دور شروع ان مووی کیمروں میں کلر یا بلیک اینڈ وائیٹ فلم ڈال کر چند منٹ کی مووی بنا کر فلم کمپنی کو ڈویلپنگ پرنٹنگ کیلئے ارسال کی جاتی اس پر بھاری اخراجات اور کئی دن درکار ہوتے پھر جا کر چند منٹ کی مووی پروجیکٹر پر دیکھی جا سکتی تھی اس کو اس قدر پذیرآئی نہ مل سکی تو ایسے مووی کیمرے اور وی سی آر آ گئے جن میں فلم کے بجائے گیسٹ کا استعمال ہوا اس کے ساتھ ہی لو گ اپنی مووی بنوا کر وی سی آر کے ذریعے مووی دیکھنے کو فروغ ملا ویو ماسٹر کے لمبے سفر کو سمیٹے ہوئے ڈیجیٹل کیمروں نے مووی بنانے اور فوٹوگرافری میں انقلاب بر پا کر دیا جس سے انتہائی روشن تصاویر اور مووی بنوانے کو فروغ ملا اور فوٹو اورمووی فلم سے نجات مل گئی۔

 مرضی کی فوٹو بنوانے اور مووی کی سہولت ملی اور لوگ انجائے کرنے لگے چند سال بعد ہی ٹچ موبائل آگئے ان کے آنے سے مووی اور سٹیل فوٹو گرافر ی میں آنے والے انقلاب نے نئی جدت دی مووی بنانا اور فوٹوبنوانا آسان ہو گیا اور سلفیوں کو بھی رواج ملا ان کیمروں میں میموری کارڈ کے استعمال نے دنیا کو ایک کر دیا اور ویو ماسٹر سے مکمل نجات مل گئی ۔

اب صرف ویو ماسٹر مختلف محکموں کے سیمینار ہال تک محدود ہیں جہاں ڈیجیٹل کیمروں کے ساتھ منسلک کر کے کارکردگی کی بر یفینگ دی جاتی ہے اور نیگیٹیوکے بجائے تصاویر کا پوزو ٹیو دور نے انقلاب بر پا کر دیا ہے اپنی مووی بنائیں یا سٹیل فوٹو بنائیں پسند نہ آنے پر بار بار ڈیلیٹ کریں اور اپنے دوستوں رشتہ داروں کو شیئر کریں وٹ سب کریں اتنی کیمروں اور ٹچ موبائل میں سہولتیں کبھی پہلے نہ تھیں اس ٹیکنا لوجی نے دنیا کو ایک بنا دیا ہے نئی نسل کو گھر بیٹھے تفریح اور تعلیم بھی میسر ہے آگے چل کر اور انقلاب متوقع ہے ہولو گرافی تو آ چکی ہے۔

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

technology ki sadi touch mobile tak is a khaas article, and listed in the articles section of the site. It was published on 16 January 2020 and is famous in khaas category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.