دھرابی جھیل و کلرکہار

واٹر سپورٹس و فیملی گالا، سیاحت کی ترقی کے لیئے حکومت پنجاب کا ایک بہترین قدم

Dr Syed Muhammad Azeem Shah Bukhari ڈاکٹر سید محمد عظیم شاہ بُخاری بدھ جون

Dharabi Lake
نئی حکومت کے ساتھ  ہی آغاز ہوا سیاحت کے میدان میں شاندار اقدامات کا۔ سیاحت کی انڈسٹری نے زور پکڑا اور پاکستان کو نمبر ون ٹورسٹ ڈیسٹینیشن قرار دیا جانے لگا۔  لیکن پھر دنیا کو کرونا کی عفریت نے آ لیا۔
آج ڈٰیڑھ سال بعد ہم نے کرونا کے ساتھ جنگ کافی حد تک جیت لی ہے۔ ویکسینیشن کے عمل کا آغاز ہو چکا ہے اور اس کے ساتھ ہی حکومت نے سیاحت کو بھی کھول دیا ہے۔

حکومت پنجاب نے بھی تمام ایس او پیز کے ساتھ سیاحت کو کھولنے کا فیصلہ کیا اور ضلع چکوال کے پوشیدہ اور خوبصورت مقامات کو سامنے لانے اور اس علاقے میں ماحول دوست سیاحت کو فروغ دینے کے لیئے دھرابی جھیل و کلرکہار میں دو دن کے واٹر سپورٹس و فیملی گالا کے ایونٹ کا انعقاد کیا۔
 یہ پروگرام حکومتِ پنجاب کے ادارے ٹورزم ڈیویلپمنٹ کارپوریشن پنجاب (ٹی ڈی سی پی)  کی میزبانی میں خصوصی طور پہ  میڈیا پرسنز، بلاگرز، ٹور آپریٹرز اور وی لاگرز کے لیئے رکھا گیا تھا جس میں ناچیز نے بھی بطور ٹریول رائٹر، شرکت کی اور حکومت کی میزبانی میں چکوال کی خوبصورت جگہوں کو سیاحتی نقطہ نظر سے دیکھا۔

(جاری ہے)


دو دن کے اس بہترین سفر میں دھرابی ڈیم اور جھیل ، کلرکہار، تخت بابری، کلرکہار جھیل اور میوزیم میں حکومتِ پنجاب کی طرف سے مختلف نوعیت کی سرگرمیاں کروائی گئیں جن میں وزیراعظم عمران خان کے ویژن کے تحت شجرکاری  سرفہرست تھی۔

سفر کا آغاز چیئرمین ڈاکٹر سہیل ظفر چیمہ کی تقریر سے ہوا۔ اس کے بعد تمام مہمانوں کو حکومت کی جانب سے ماسک اور سینیٹائزر دیئے گئے۔

تمام مہمان دو بسوں پر سوار ہو کہ لاہور سے براستہ بھیرہ، کلرکہار پہنچے۔ وہاں ٹی ڈی سی پی ریزارٹ میں ایک پرتکلف ظہرانے کے بعد ہمیں کچھ دور واقع دھرابی جھیل لے جایا گیا جہاں ایونٹ کی بہت سی سرگرمیوں کے انتظامات کیئے گئے تھے۔ ۔
ان سرگرمیوں کا محور ضلع چکوال تھا جو پنجاب اور پوٹھوہار کا اہم ضلع ہے جس کی پانچ تحصیلوں میں کلرکہار، تلہ گنگ، چواسیدن شاہ، لاوہ اور چکوال شامل ہیں۔


چکوال کو پنجاب کا ''لیک ڈسٹرکٹ'' یعنی ''جھیلوں کا ضلع'' بھی کہا جاتا ہے۔ یہاں کلرکہار، دھرابی، لکھوال ڈیم جھیل، ڈھوک تالیاں، تھرپال ڈیم جھیل، کٹاس مندر کی راما جھیل اور نیل واہن سمیت بہت سی چھوٹی بڑی جھیلیں اور پانی کے تالاب بکھرے ہوئے ہیں۔ حکومت پنجاب اس ضلع میں واٹر سپورٹس کو فروغ دینے کے لیئے کوشاں ہے تاکہ ان جھیلوں کو ایک بہترین پکنک سپاٹ بنایا جا سکے۔


دھرابی جھیل، دریائے دھراب پر زرعی بند باندھ کر بنائی گئی ایک خوبصورت جھیل ہے جو دھرابی نامی قصبے کے پاس موٹروے کے بلکسر انٹرچینج سے صرف چار کلومیٹر دور ہے۔ دریائے دھراب، دریائے سواں کا ایک چھوٹا معاون دریا ہے جو آگے جا کہ سواں کے ذریعے دریائے سندھ میں مل جاتا ہے۔
دھرابی ڈیم ریزروائر کو ضلع چکوال کا سب سے بڑا آبی ذخیرہ کہا جاتا ہے جو زرعی اراضی کو سیراب کرنے کے ساتھ ساتھ ماحولیات پر بھی خوشگوار اثرات مرتب کر رہا ہے۔

اس جھیل کے کنارے ٹی ڈی سی پی ریزارٹ بنایا گیا ہے جہاں تمام مہمانوں کے لیئے ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا۔ تقریب کا افتتاح وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے مشیر برائے سیاحت جناب آصف محمود نے پودا لگا کر کیا۔ باقی مہمانوں نے بھی اپنے اپنے حصے کے پودے لگائے جو محکمہ جنگلات  چکوال کی طرف سے فراہم کیئے گئے تھے۔ خوش قسمتی سے اس دن عالمی ماحولیات کا دن بھی تھا اور اسلام آباد میں ماحویات کی کانفرنس جاری تھی۔


پھر مہمانوں کو کشتیوں پر دھرابی جھیل کی سیر کروائی گئی جبکہ نئی قسم کی سائیکل بوٹس بھی یہاں موجود تھیں۔ ماحولیات اور ایکو ٹوارزم پر بریفنگ کے بعد محفل موسیقی شروع ہوئی جس میں مظہر راہی سمیت چکوال کے دیگر لوک فنکاروں نے اپنے فن کے جوہر دکھائے۔
ٹی ڈٰی سی پی کی جانب سے ایک بڑے پروجیکٹر پر نندنہ قلعے پر بنائی گئی بہترین ڈاکومینٹری دکھائی گئی اور ساتھ ہی چکوال و پنجاب کی سیاحت پر ایک کوئز مقابلہ بھی ہوا۔

پُرتکلف عشائیئے کے بعد آسمان میں مصنوعی لالٹین چھوڑے گئے جس سے آسمان جگمگا اٹھا۔ ایونٹ کے بعد مہمان تو واپس کلرکہار آگئے لیکن ٹی ڈی سی پی کے ٹوارزم آفیسر جناب اشفاق خان صاحب نے وہاں رک کر تمام کچرا صاف کیا اور ایک بہترین پاکستانی ہونے کا ثبوت دیا۔
اگلے دن ناشتے کے بعد مہمانوں کو کلرکہار میوزیم کا دورہ کروایا گیا۔ اتوار کے روز یہ میوزیم خصوصاً ہمارے لیئے کھلوایا گیا تھا جس پر میں عابد شوکت صاحب اور سعید صاحب کا شکرگزار ہوں۔


کلرکہار میوزیم سات سال کی تاخیر کے بعد اپریل 2021 میں عوام کے لیئے کھولا گیا تھا۔ یہ عجائب گھر اس علاقے کے لیئے انتہائی ضروری تھا کیونکہ ہزاروں سال پرانی تاریخ رکھنے والا پوٹھوہار و وادئ سون کا علاقہ کسی بھی سرکاری عجائب گھر سے محروم تھا۔ سالٹ رینج یعنی کوہِ نمک کا علاقہ جانوروں اور درختوں کے رکاز (فاسلز) کے بہترین ذخیرے کے طور پہ جانا جاتا ہے نیز ساتویں سے دسویں صدی عیسوی میں
تعمیر ہونے والے قدیم ہندو مندر بھی اس علاقے کا خاصہ ہیں جہاں سے ماہرین کو بہت سی نادر اشیاء ملی ہیں۔

کلرکہار میوزیم اس بارش کا پہلا قطرہ ثابت ہوا ہے جہاں تین مختلف گیلریاں بنائی گئی ہیں۔
پہلی گیلری رکاز یا فاسلز گیلری ہے جہاں چکوال کے علاقے بن امیر خاتون سے ملنے والے بھیڑ بکریوں سے لے کر ہاتھی جیسے قوی الجُثہ جانوروں کے رکاز نمائش کے لیئے رکھے گئے ہیں۔ ان کے علاوہ یہاں قدیم درختوں ، گھونگوں اور ارضیات سے متعلق دیگر فاسلز بھی ملتے ہیں۔


دوسری گیلری وادئ سندھ و گندھارا تہذیب سے متعلق ہے جہاں آپ سرخ تراشیدہ پتھر، برتن، سکے، سجاوٹی اشیاء، لکڑی کے کندہ دروازے اور گوتم بدھا کے مجسمے دیکھ سکتے ہیں۔
تیسری گیلری میں متفرق اشیاء رکھی گئی ہیں جن میں روایتی ہتھیار، آلاتِ موسیقی، بُت، برتن ، زیورات اور جوتے شامل ہیں۔
کلرکہار آنے والے یا وادئ سون جانے والے سیاحوں کو یہ میوزیم لازمی دیکھنا چاہیئے۔


اس کے بعد ہم نے تخت بابری کا رُخ کیا جو لوکاٹ کے باغات کے وسط میں موجود ایک چٹان پر بنا ہے۔ اس جگہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ شہنشاہ بابر جب کابل سے اپنی فوجیں لے کر دہلی فتح کرنے نکلا تو اس جگہ اس کی فوج نے ایک تخت بنایا جہاں کھڑے ہو کہ بابر نے اپنی فوج سے خطاب کیا۔
یہ ایک بڑی چٹان ہے جس کی اوپری سطح کو ہموار کیا گیا ہے اور اس تک پہنچنے کے لیئے سیڑھیاں بھی بنائی گئی ہیں۔

اس باغ میں میٹھے پانی کے علاوہ گندھک آمیز پانی کا چشمہ بھی ہے۔
اسی تخت سے کچھ اوپر اسسٹنٹ کمشنر کلرکہار کا گھر اور ایک خوبصورت ریسٹ ہاؤس بھی ہے۔
آخر میں ہم نے پہاڑی پر موجود حضرت آہو باہو سرکارؒ (کچھ لوگ اسے ہو باہو بھی کہتے ہیں) کے مزار پر حاظری دی جنہیں مقامی موراں والی سرکار کے نام سے جانتے ہیں۔
یہاں دو مزار واقع ہیں۔ بڑا مزار ہشت پہلو ہے جسے کوئی تیسری بار تعمیر کیا جا رہا ہے جس کی وجہ نہیں معلوم ہو سکی۔

کہتے ہیں کہ یہ مزار حضرت سخی محمد یعقوبؒ اور حضرت سخی محمد اسحٰقؒ کا ہے جو شہنشاہِ بغداد حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کے پوتے ہیں۔ اسی کے ساتھ ایک بہترین جامع مسجد زیرِ تعمیر ہے۔
مقامی روایات کے مطابق جب یہاں کفر کا غلبہ تھا تو ایک بی بی جن کا نام سکینہ تھا، کی دعا پر حضرت شیخؒ نے اپنے دونوں پوتوں کو ان کی مدد کے لیئے کلرکہار روانہ کیا۔

راستے میں آپ کے استاد حضرت سخی سید فاضل بغدادی حسنی حسینیؒ بھی آپ کے ہمراہ ہو لیئے جن کی بغل میں موروں کا ایک جوڑا تھا۔ انہی موروں کی نسل آج بھی مزار کے اطراف میں پائی جاتی ہے جس پر صاحبِ مزار کو ''موراں والی سرکار'' کہا جاتا ہے۔
کلرکہار پہنچنے پر مائی سکینہ سے مل کر آپ نے لنگر تقسیم کیا۔ ادھر کفار کے راجا  کو جب یہ پتہ چلا تو اس نے آُپ کے ساتھ جنگ کی جس میں دونوں شہزادوں نے جامِ شہادت نوش کیا اور ایک پہاڑی پر آپ دونوں کو سپردِ خاک کیا گیا۔

ایک ہفتے بعد آپ کے استادِ محترم نے بھی شہادت پائی اور بالکل سامنے والی پہاڑی پر دفن ہوئے۔
کہتے ہیں کہ کافی عرصے تک ان پہاڑوں پر کوئی نہیں پہنچا۔ پھر یہاں سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باہوؒ کے قدم مبارک پڑے تو آپ نے اس جگہ کو فیض بخشا۔ ان شہزادوں کو آہو باہو کا لقب دیا اور آگے چلے گئے۔ اس دن سے آج تک لوگوں کی آمد جاری ہے۔
 یہاں ایک غار بھی موجود ہے جسے حضرت سلطان باہوؒ کی چلہ گاہ کہا جاتا ہے لیکن تاریخی روایات کے مطابق اصل میں وہ ان کے ساتھ آئے ایک غلام فقیر کی قیام گاہ تھی۔


اس کے بعد ہم ایک ڈولی میں بیٹھے جو ایک طرح کی دیسی لفٹ تھی ۔ اس نے ہمیں دوسری پہاڑی پر موراں والی سرکار حضرت سید فاضل بغدادی ؒ کے مزار پر اتارا۔ یہاں پہاڑی سے کلرکہار شہر و جھیل کا حسین نظارہ دیکھنے کو ملا۔ فاتحہ کے بعد ہم نے کلرکہار کا مقامی بازار دیکھا اور واپس ریزورٹ کی راہ لی۔ دوپہر کے کھانے کے بعد ہم نے اپنے تاثرات قلم بند کیئے اور ٹی ڈی سی پی کا شکریہ ادا کیا۔ بے شک اس ادارے نے ایک بہترین ایونٹ کا انعقاد کیا تھا۔
ٹی ڈی سی پی برسوں سے پنجاب کی سیاحت میں نت نئے مقامات متعارف کروا رہا ہے اور اس ادارے نے یہ ثابت کر دکھایا ہے کہ پنجاب بھی باقی صوبوں کی طرح سیاحت کی بھرپور استطاعت رکھتا ہے۔

ادارہ اردوپوائنٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

Dharabi Lake is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 09 June 2021 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.