”امن منصوبے“کے نام پر اسرائیل کا مشرق وسطیٰ پر شب خون

دریائے نیل سے فرات تک کے علاقے پر تسلط کیلئے بیشتر ممالک کو خانہ جنگی کی بھینٹ چڑھا دیا گیا

جمعہ فروری

Amaan Mansoobe Ke Naam Per Israel Ka Mashriq Vusta Par Shaab Khoon
محبوب احمد
عرب ممالک اور صیہونی حکومت کے مابین تعلقات کو معمول پر لانے کی کوششوں کا اصل مقصد فلسطین کے مسئلے کو ہمیشہ کیلئے ختم کرنا ہے۔ عرب اسرائیل جنگ کے بعد امریکی سرپرستی میں عربوں اور صیہونی حکومت کے مابین دسیوں مرتبہ مذاکرات کروائے گئے اور ان مذاکرات سے فلسطین کی مظلوم عوام کیلئے کچھ حاصل نہیں ہوا بلکہ الٹا اس کے نقصانات سامنے آئے انہی مذاکرات کے نتیجے میں صیہونی حکومت نے فلسطینی سرزمین پر یہودی بستیوں کی تعمیر کا سلسلہ بڑھایا،مراعات حاصل کیں اور آخر کار فلسطین سے آگے نکل کر اب ایک ”گریٹر اسرائیل“ کا خواب دیکھا جا رہا ہے۔

اسرائیل کی حمایت کرنے والے بعض عرب ممالک نے اگرچہ فلسطین سے خیانت کی ہے لیکن یہاں دیکھا جائے تو شاطر امریکہ نے ایک بڑا فعال کردار ادا کیا ہے۔

(جاری ہے)

واشنگٹن مشرق وسطیٰ میں اپنے مفادات کے تحفظ کی خاطر تمام عرب ممالک کو ایک آلہ کار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔صیہونی حکومت کے ظلم و ستم کی فہرست بڑی طویل ہے لہٰذا وہ عرب حکمران جنہوں نے اسرائیل کو تسلیم کرنے میں بڑی سرعت کا مظاہرہ کیا ہے آج کے بعد ہونے والے جرائم میں وہ بھی برابر کے حصہ دار ہوں گے۔

عرب اسرائیل امن معاہدوں اور سفارتی تعلقات کی بحالی کا اصل سرپرست امریکہ ہے اور اب خلیجی ممالک کے ساتھ جدید اسلحے کی فروخت کے نئے معاہدے منظر عام پر آرہے ہیں۔
امریکہ عرب حکمرانوں پر خوف اور دباؤ کی فضا قائم رکھنے کے ساتھ ساتھ خطے کو بدامنی میں مبتلا کرنے اور اسلحہ بیچنے کی غرض سے کئی مسائل کے خلاف بیان بازی سے آگے بڑھ کر ٹھوس اقدامات نہیں چاہتا۔

اسرائیل کے ساتھ،متحدہ عرب امارات اور بحرین کا باضابطہ سفارتی تعلق پوری دنیا اور بالخصوص عالم اسلام میں زیر بحث ہے،گزشتہ کئی دہائیوں سے اسرائیل کا بائیکاٹ کرتے ہوئے بیشتر عرب ممالک کا یہ موٴقف رہا تھا کہ اسے صرف اسی صورت تسلیم کریں گے جب فلسطین سے متعلق تنازع کا کوئی مستقل حل نکلے گا۔ اسرائیل نے آج تک عرب حکمرانوں کی کسی شرط کو تسلیم نہیں کیا اور نہ ہی فلسطینیوں کو کوئی رعایت مل سکی یہی وجہ ہے کہ خلیجی ریاستوں کی طرف سے صیہونی حکومت کو غیر مشروط طور پر تسلیم کر لینے کی خبر دنیا بھر کے مسلمانوں کیلئے سخت تشویش اور مایوسی کا باعث بنی ہوئی ہے۔

”سنچری ڈیل“ میں امریکہ نے پیشکش کی تھی کہ فلسطین کے سودے پر راضی ہونے والے خلیجی ممالک کے بادشاہوں کو آئندہ 50 برس تک بادشاہت پر براجمان رہنے کی ضمانت دی جائے گی لہٰذا حالیہ”امن معاہدے“ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہیں۔امریکہ کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ عرب اسرائیل تعلقات قائم کروانے کے بعد یورپی ممالک کو بھی اس بات پر مجبور کیا جا سکے کہ وہ اپنے سفارتخانے بیت المقدس منتقل کریں۔

اسرائیل کے حوالے سے مشرق وسطیٰ کے رویوں میں آنے والی حالیہ سیاسی تبدیلیوں کی چند بڑی وجوہات میں تیل کی قیمتوں میں کمی،خلیجی ممالک میں حکومتوں کے خلاف بغاوت کے خطرات‘امریکی حمایت کے خاتمے کا خدشہ اور ترکی و ایران کی بڑھتی ہوئی طاقت کا خوف ہے۔
اسرائیل کو ایران کے خلاف مضبوط اتحادیوں کی تلاش ہے یہی وجہ ہے کہ وہ عرب ممالک کے قریب آرہا ہے۔

یو اے ای بھی ایک عرصے سے خطے میں بڑی سر گرم خارجہ پالیسی اختیار کئے ہوئے ہے اور کئی علاقائی تنازعات میں بڑھ چڑھ کر اور خفیہ طور پر کردار ادا کر رہا ہے۔ ایران کے اثر و رسوخ کو بڑھنے سے روکنے کیلئے یہ لیبیا اور یمن میں بھی سرگرم عمل ہے۔متحدہ عرب امارات نے 13 اگست 2020ء کو اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار کرنے کا سرکاری اعلان کیا تھا لیکن دونوں ممالک کے قریب آنے کے اشارے بہت عرصے سے مل رہے تھے۔

ٹرمپ کا یہ دعویٰ بھی تھا کہ خلیجی ممالک اسرائیل کے ساتھ تعلقات کیلئے قطار بنائے کھڑے ہیں۔یو اے ای کا یہ موٴقف تھا کہ اس معاہدے کی وجہ سے اسرائیل نے گولان کی پہاڑیوں میں مقبوضہ علاقوں کو اسرائیل میں ضم کرنے کے ارادے کو ترک کر دیا ہے جبکہ اسرائیلی وزیراعظم اس کے بعد کئی بار برملا کہہ چکے ہیں کہ مزید فلسطینی علاقے ضم کرنے کا پروگرام ملتوی ہوا ہے منسوخ نہیں۔

اس میں کوئی دورائے نہیں ہیں کہ جن خلیجی ممالک نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کئے ہیں ان میں سامراج کے مسلط کردہ مطلق العنان حکمران جو امریکہ اور اسرائیل کو اپنے اقتدار کا محافظ سمجھتے ہیں نے سفارتی تعلقات قائم کرتے وقت نہ تو عوام سے رائے لی اور نہ ہی ان ریاستوں کی پارلیمان نے اس موضوع پر کوئی قرارداد منظور کی یا کوئی بحث نمٹاتے ہوئے باقاعدہ طور پر منظوری دی۔


سعودی عرب سمیت بعض عرب ممالک ترکی کے بڑھتے ہوئے علاقائی اثر و رسوخ کو بھی خلافت عثمانیہ کے احیاء کے طور پر دیکھتے ہوئے اسے اپنی بادشاہت کے خلاف خطرہ سمجھ رہے ہیں۔شام،یمن اور لیبیا سمیت کئی علاقائی امور کے حوالے سے ترکی اور عرب امارات کے تعلقات تناؤ کا شکار ہیں،یہاں یہ قابل غور امر ہے کہ اسرائیل اور بحیرہ روم کے اردگرد کے کچھ یورپی ممالک بھی ترکی سے خائف ہیں اور یہی مشترکہ خوف ان کو ایک دوسرے کے قریب لا رہا ہے۔

فرانس بھی مختلف بین الاقوامی کانفرنسز میں ترکی سے خوف کا موضوع زیر بحث لا چکا ہے،حقیقت تو یہ ہے کہ یورپی یونین کی رکنیت نہ ملنے کے بعد ترک صدر اردگان کو اب کسی کی ناراضگی کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ترکی کسی بھی وقت شام اور عرب ممالک کے لاکھوں تارکین وطن کو جب چاہے یورپ کی طرف دھکیل کر ان ممالک کو مشکل میں ڈال سکتا ہے لہٰذا ایسے حالات میں عرب ریاستوں کا یورپ اور امریکہ کی ایماء پر اسرائیل سے تعلقات قائم کرنا ایران اور ترکی کا مقابلہ کرنے کی مشترکہ تیاری ہی ہے۔


ایران نے شام میں صدر بشار الاسد اور لبنان میں حزب اللہ کا ساتھ دے کر کچھ ایسی کامیابیاں حاصل کیں جن سے ایران کو بحیرہ روم تک راہداری حاصل ہونے کے امکانات پیدا ہوئے اور اسے عرب ممالک نے ایران کی دخل اندازی تصور کیا۔صدام حسین کے اقتدار کے خاتمے کے بعد عرب دنیا میں اسٹریٹجک توازن ایران کے حق میں چلا گیا تھا۔اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان تعلقات کا ایک جواز یہ بھی ہے کہ دونوں کی خواہش ہے کہ ایران کو جوہری طاقت کے حصول کی اجازت نہ مل سکے۔

اسرائیل اور خلیجی حکمران،لبنان میں حزب اللہ کی بڑھتی ہوئی طاقت اور ایران کی جوہری سرگرمیوں کو خطے میں عدم استحکام کے طور پر دیکھتے ہیں۔امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے 24 اگست 2020ء کو اپنے دورئہ اسرائیل کے دوران یروشلم میں مطالبہ کیا تھا کہ متحدہ عرب امارات کے بعد اب دیگر عرب ممالک بھی اسرائیل کو ایک یہودی ریاست کے طور پر تسلیم کریں اسی طرح متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ عبداللہ بن زید،بحرین کے وزیر خارجہ عبدالطیف الزینی اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے 15 ستمبر کو واشنگٹن میں سابق امریکی صدر ٹرمپ کی موجودگی میں معمول کے تعلقات قائم کرنے کے معاہدوں پر دستخط کئے جن کو ”ابراہیم معاہدے“ کا نام دیا جاتا ہے۔


عرب ریاستوں کے حکمران،امریکہ اور اسرائیل پر تکیہ کرکے امن معاہدات اور ”صدی کی ڈیل“ کی شکل میں صدی کا سب سے بڑا دھوکہ کھا رہے ہیں۔کیا امریکہ اور اسرائیل جیسے غاصب اور جارح ممالک پر تکیہ کرکے عرب دنیا کے حکمران اپنی بقاء کو یقینی رکھ پائیں گے؟یہ ناممکن ہے کیونکہ اسرائیل عرب ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات کو صرف اپنے مفادات کی نظر سے دیکھتا ہے جس کا متعدد بار اس کے جارحانہ رویوں سے اعادہ بھی ہو چکا ہے۔

امریکہ اسرائیل تسلط پسندانہ منصوبوں میں عراق اور افغانستان پر براہ راست حملے،لبنان،غزہ کے شہریوں پر بمباری اور خطے میں لاکھوں بے گناہ افراد کا قتل عام شامل ہے،ماضی کے مذاکرات کی طرح حالیہ معاہدات سے بھی امریکہ، اسرائیل اور ان کے اتحادیوں کے دہشت گردانہ اقدامات پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔چین کے مشرقی ایشیاء اور افریقہ میں بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ نے امریکی مفادات کیلئے سنگین خطرات پیدا کئے ہوئے ہیں لہٰذا بگڑتی صورتحال کو کنٹرول کرنے کیلئے نومنتخب امریکی صدر نے اقتدار سنبھالنے کے بعد ایران کے ساتھ کچھ شرائط پر جوہری معاہدہ بحال کرنے کو ترجیح دینے کے حوالے سے ایک بیان دیا تھا لیکن اسرائیل کی مخالفت اور تنقید کے بعد جوبائیڈن نے اب مجبوراً یوٹرن لیا ہے۔


افغانستان میں سالہا سال سے پھنسے امریکہ کو بخوبی علم ہے کہ ایران کا جغرافیہ پہاڑوں پر مشتمل ہے جس کو سر کرنے کیلئے واشنگٹن کو ٹریلین ڈالرز کا خرچہ برداشت کرنا پڑے گا۔قبل ازیں بھی اس حوالے سے تحریر کیا جا چکا ہے کہ ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان ہونے والے جوہری معاہدے سے امریکہ کی دستبرداری اور ایران کے خلاف دوبارہ سخت پابندیاں عائد کرنا یہ دو ایسے اقدامات تھے کہ جس سے خطے میں برسہا برس سے جاری کشیدگی کو مزید تقویت ملی۔

ٹرمپ کے قلم کی ایک جنبش مشرق وسطیٰ میں ایک تباہ کن علاقائی جنگ کو مزید قریب لے آئی تھی۔سابق امریکی صدر کے بیانات جلتی پر تیل کا کام دیتے رہے ہیں،ٹرمپ انتظامیہ کی جارحانہ اور دباؤ کی حکمت عملی بالکل ناکام ثابت ہوئی۔ امریکہ نے جوہری معاہدے سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے دباؤ کی جو پالیسی اختیار کی تھی اگرچہ اس نے ایرانی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا لیکن اس کے باوجود تہران اپنے موٴقف پر قائم رہا ہے۔

امریکہ اور اسرائیل کی مذموم پالیسی سے اسلامی دنیا میں تقسیم مزید بڑھنے سے خطے میں نئے بلاکس وجود میں آرہے ہیں۔جوبائیڈن کو اس حوالے سے بھی شدید تحفظات ہیں کہ چین اور ایران کے درمیان اسلحے کی تجارت کے لئے یہ معاہدے کئے جا رہے ہیں چین ایران کو اسلحہ فروخت کرکے عسکری سسٹم خریدے گا اور یہ عمل اس کے لئے بڑا منافع بخش ہو گا۔ایران ایک نیو کلیئر اسٹیٹ بن کر امریکہ،سعودی عرب اور اسرائیل کو عذاب میں مبتلا کرنے کے درپے ہے جس کے لئے وہ مغرب کے بجائے مشرق کی طرف دیکھنے کی حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے اپنی علاقائی اور عسکری طاقت کو فروغ دینے کی پالیسیوں پر کاربند ہے۔

ایران اور چین کے درمیان ہونے والے نئے معاہدوں نے جہاں امریکی مفادات کو نقصان پہنچایا وہیں بیجنگ کیلئے مشرق وسطیٰ میں وسیع تر کردار ادا کرنے کی راہ بھی ہموار ہوئی ہے۔

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

Amaan Mansoobe Ke Naam Per Israel Ka Mashriq Vusta Par Shaab Khoon is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 26 February 2021 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.