میانمار میں کریک ڈاؤن

پولیس اہلکاروں کا فوج کے احکامات ماننے سے انکار سوالیہ نشان ہے

جمعہ مارچ

Myanmar Main CrackDown
رمضان اصغر
میانمار میں گزشتہ ماہ فوجی بغاوت کے نتیجے میں اقتدار سے ہٹائی جانے والی رہنما آنگ سان سوچی پر ملک کی فوج نے غیر قانونی طور پر چھ لاکھ ڈالرز اور 11 کلو سونا وصول کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔فروری میں آنگ سان سوچی کے اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد سے یہ ان کے خلاف فوج کی جانب سے لگایا گیا سب سے سنگین الزام ہے۔

تاہم فوج نے اپنے ان الزامات کے ساتھ کسی قسم کے شواہد پیش نہیں کیے ہیں۔دریں اثنا اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے تفتیشی افسر نے میانمار کی فوج پر انسانیت کے خلاف جرائم کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ میانمار میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر نظر رکھنے والے اقوام متحدہ کے خصوصی تفتیشی افسر تھامس اینڈ ریوز نے جینیوا میں انسانی حقوق کونسل کو بتایا کہ میانمار پر اس وقت ایک غیر قانونی اور تشدد پسند حاکمین کا قبضہ ہے جو یقینا وسیع پیمانے پر اور منظم انداز میں قاتلانہ،اذیت آمیز اور ظالمانہ رویہ اپنائے ہوئے ہے۔

(جاری ہے)

تھامس اینڈ ریوز کے ان دعوؤں کی انسانی حقوق پر کام کرنے والے گروپ ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے بھی تائید کی ہے۔ایمنیسٹی انٹرنیشنل کی جوئین میرینر نے کہا ہے کہ یہ کسی سکیورٹی اہلکار کی طرف سے وقتی طور پر جذبات کا شکار ہو کر کیے گئے کام نہیں ہیں۔ان کمانڈروں کا کوئی پچھتاوا نہیں ہوتا جو فوج کو کھلے عام قتل و غارت کے طریقے استعمال کرنے کی چھوٹ دے کر انسانیت کے خلاف جرائم میں ملوث ہیں۔


بریگیڈیئر جنرل زامن تون نے صدر ون نیتت اور کابینہ کے دیگر وزرا ء کے خلاف بھی کرپشن کے الزامات عائد کیے ہے۔اسی دوران آج ملک میں سکیورٹی اہلکاروں کے ہاتھوں کم از کم مزید سات افراد کے ہلاک ہونے کے بعد ہلاکتوں کی کل تعداد ساٹھ تک پہنچ گئی ہے۔چند مظاہرین کو سر پر گولی مار کر ہلاک کیا گیا۔ان میں سے چھ ہلاکتیں میانگ شہر میں ہوئیں۔اس کے علاوہ داگوں ضلع میں ایک 25 سالہ شخص کو سر پر گولی لگنے سے موت واقع ہوئی۔

اس شخص کی والدہ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے کہا جب تک حالات بہتر نہیں ہو جاتے کوئی سکون میں نہیں رہ سکے گا۔انھوں نے میرے بیٹے پر کتنا ظلم کیا۔وہاں موجود طبی عملے کے ایک رکن نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ہم پر امن احتجاج کر رہے تھے۔مجھے یقین نہیں آرہا کہ انھوں نے یہ انتہائی اقدام اٹھایا ہے۔گزشتہ برس آنگ سان سوچی کی پارٹی نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی نے انتخابات میں اکثریت حاصل کی تھی،تاہم فوج کا الزام ہے کہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی تھی۔

حالانکہ آزادانہ طور پر کام کرنے والے بین الاقوامی نگراں اداروں نے فوج کے ان الزامات پر سوالات اٹھائے ہیں اور کہا ہے کہ انتخابات میں کوئی غیر مناسب عمل دیکھنے میں نہیں آیا۔گزشتہ پانچ ہفتوں سے فوج نے سوچی کو کہاں رکھا ہے یہ کسی کو معلوم نہیں۔متعدد دیگر الزامات کے ساتھ ان پر خوف و ہراس کو فروغ دینے،ریڈیو آلات کے غیر قانونی استعمال اور کووڈ 19 کے دوران پابندیوں کی خلاف ورزی کے الزامات لگائے گئے ہیں۔


فوج کے ہاتھوں آنگ سان سوچی کو اقتدار سے ہٹائے جانے اور ملک کا نظام اپنے ہاتھ میں لینے کے بعد سے میانمار میں سڑکوں پر احتجاج جاری ہیں۔مظاہرین سوچی کی تصویر کے ساتھ احتجاج کر رہے ہیں۔میانمار میں حکومت کے خلاف فوج کی کارروائی کی مخالفت میں مظاہرہ کرنے والوں کی ہلاکت کی اقوام متحدہ،امریکہ اور متعدد دیگر ممالک کے رہنماؤں نے مذمت کی ہے اور اہلکاروں سے تشدد روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

فوج نے اس کارروائی پر ہونے والی مذمت کو مسترد کرتے ہوئے آنگ سان سوچی کو ملک میں جاری تشدد کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ فوج کی جانب سے میانمار کی سیاسی رہنما آنگ سان سوچی کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد ان پر لاکھوں ڈالر اور سونا غیر قانونی طور پر وصول کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق میانمار کی کونسلر (وزیراعظم) آنگ سان سوچی نئی پریشانی میں مبتلا ہو گئیں،بغاوت کرنے والی فوجی قیادت نے سیاسی رہنما پر سنگین الزامات کی بوچھاڑ کر دی۔

آنگ سان سوچی کو حکومت سے بے دخل کرنے کے بعد فوج ان پر 6 لاکھ ڈالر اور 11 کلو سونا غیر قانونی طور پر لینے کا الزام لگایا ہے تاہم الزامات کے ثبوت نہیں پیش کیے۔فوجی بغاوت کے خلاف ملک بھر میں عوامی احتجاجی تحریک جاری ہے اور اس احتجاجی تحریک کے خلاف فوج کی جانب سے کریک ڈاؤن میں بھی تیزی آتی جا رہی ہے۔
میڈیا ذرائع کا کہنا ہے کہ پرامن مظاہرین پر فوج کی فائرنگ کے نتیجے میں مزید 7 شہری ہلاک ہو گئے جس کے بعد احتجاج کے دوران مرنے والوں کی تعداد 60 ہو گئی۔

یکم فروری کو میانمار میں فوج نے بغاوت کرتے ہوئے حکومت کا تختہ الٹ کر مملکت کی کونسلر (وزیراعظم) آنگ سان سوچی کو گرفتار کر لیا تھا اور 28 فروری کو پہلی مرتبہ ویڈیو لنک کے ذریعے سوچی کو عدالت میں پیش کیا گیا۔میانمار کے پولیس افسران نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وہ فوج کے احکامات پر عمل کرنے سے انکار کرنے کے بعد سرحد پار انڈیا فرار ہو گئے تھے۔

میانمار کی فوج نے گزشتہ ماہ بغاوت کے بعد اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا اور مقتدر جماعت کی رہنما آنگ سان سوچی کو حراست میں لے لیا تھا۔اس طرح کے کچھ انٹرویوز میں وہاں سے فرار ہونے والے درجن بھر سے زائد اہلکاروں نے میڈیا کو بتایا کہ وہ اس خوف سے فرار ہو گئے کہ فوج کے حکم پر وہ شہریوں کو مارنے یا نقصان پہنچانے پر مجبور ہو جائیں گے۔مجھے مظاہرین پر گولی چلانے کے احکامات دیے گئے تھے۔

میں نے ان سے کہا کہ میں ایسا نہیں کر سکتا۔اقوام متحدہ، امریکہ اور دیگر ممالک نے میانمار میں بغاوت مخالف مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن میں عام شہریوں کے قتل کی مذمت کی ہے اور حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس پر قابو پائیں۔فوج نے اپنے اقدامات پر تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اقتدار میں آنے کے بعد عالمی پابندیوں کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہے۔

مقامی حکام کے مطابق فوجی بغاوت کے بعد سے 100 سے زیادہ افراد میانمار سے میز ورم فرار ہو گئے ہیں۔جس رات فوج نے حکومت کا تختہ پلٹا اس رات انٹرنیٹ بند کر دیا گیا تھا۔
پولیس اہلکار نے ان میڈیا کو بتایا کہ فوجی افسر نے ہمیں پانچ سے زیادہ گروہوں میں آنے والے لوگوں کو گولی مارنے کا حکم دیا۔میں جانتا ہوں کہ لوگوں کو مارا پیٹا گیا۔جب میں نے بے قصور لوگوں کے ساتھ مار پیٹ دیکھی،انھیں لہو لہان دیکھا تو میرے ضمیر نے مجھے اس کارروائی میں شریک ہونے کی اجازت نہیں دی۔

ہنٹ کا کہنا ہے کہ اپنے تھانے کے وہ واحد اہلکار ہیں جو فرار ہوئے اور موٹر سائیکل پر سفر کرتے ہوئے یہاں تک پہنچے۔ان کا کہنا ہے کہ وہ انڈیاآتے وقت جب سرحد کے قریب مختلف گاؤں سے گزر رہے تھے تو انھیں بہت ڈر لگ رہا تھا۔میانمار میں حکام نے انڈیا سے دوستانہ تعلقات کو برقرار رکھنے‘کے لئے فرار ہونے والے ان پولیس اہلکاروں کی واپسی کا مطالبہ کیا ہے۔

میز ورم کے وزیر اعلیٰ زورم تھنگا نے کہا کہ جو لوگ انڈیا آئے ہیں ان کو عارضی طور پر پناہ دی جانی چاہیے،آگے کیا کرنا ہے اس کا فیصلہ مرکزی حکومت کرے گی۔
میانمار میں حال ہی میں حکومت کا تختہ الٹنے والی فوج کے حصے میں ملک کے بجٹ کا ایک بڑا حصہ آتا ہے۔مگر ملک کی مسلح افواج کو ایک وسیع اور خفیہ کاروباری سلطنت کے ذریعے بے تحاشہ دولت بھی حاصل ہوتی ہے۔

یانگون کے انتہائی مقبول ان ڈور سکائی ڈائیونگ سینٹر میں آپ فضا میں گئے بغیر طیارے سے چھلانگ لگانے کا لطف اٹھا سکتے ہیں۔مگر یہاں اس مصنوعی سکائی ڈائیونگ سے لطف اندوز ہوتے چند ہی لوگوں کو پتا ہو گا کہ یہ ملک کی فوج کی بزنس سلطنت کا حصہ ہے،ایک ایسی سلطنت جس کے حصے آپ کو عام زندگی کے ہر کونے میں نظر آئیں گے۔ناقدین کا کہنا ہے کہ یہی بزنس نیٹ ورک ہے جو کہ فوجی بغاوت کو ممکن بناتا ہے اور فوج کے احتساب کو کامیاب نہیں ہونے دیتا۔

عام کاروباری افراد ملک کے کاروباری ماحول کو’مافیا کے زیر اثر سسلی‘سے تشبیہ دیتے ہیں جبکہ کارکنان کا کہنا ہے کہ ’جمہوری اصلاحات تب ہی ممکن ہوں گی جب فوج بیرکس میں لوٹے گی۔ملک کی افواج نے کاروباری دنیا میں 1962ء کی سوشلسٹ بغاوت کے بعد قدم رکھا تھا۔ کئی برسوں تک فوجی بیٹا لیئز پر لازم تھا کہ وہ خود کفیل ہوں اور ان کی حوصلہ افزائی کی گئی کہ وہ مقامی کاروباروں میں حصہ ڈالیں اور اپنے آپریشنز کی مالی فنڈنگ خود کریں۔


اگرچہ اب یہ رجحان ختم ہو چکا ہے تاہم 1990ء کی دہائی میں فوج نے ایک ایسی وقت پر دو کمپنیاں بنائیں جب حکومت ریاستی صنعتوں کی نجکاری کر رہی تھی۔یہ دونوں کمپنیاں میانمار اکانومک کار و پریشن اور میانمار اکانومک ہولڈنگز لمیٹڈ اب فوج کے لئے دولت کا ایک اہم ذریعہ بن گئی ہیں اور ان کے بینکاری اور کان کنی سے لے کر تمباکو اور سیاحت سب میں حصہ ہے۔

میانمار اکانومک ہولڈنگز لمیٹڈ فوج کا پینشن فنڈ بھی چلاتی ہے۔متعدد فوجی لیڈر ان اور ان کے خاندان والوں کے اپنے کاروباری مفادات ہیں اور ماضی میں ان پر پابندیاں بھی لگائی جا چکی ہیں۔فوجی بغاوت کی قیادت کرنے والے جنرل من آنگ ہلینگ کے بیٹے آنگ پائے سونے متعدد کمپنیوں کے مالک ہیں جن میں ایک ساحلی ہوٹل کے علاوہ قومی ٹیلی کام کمپنی’مائی ٹیل‘میں نصف سے زیادہ شیئرز بھی شامل ہیں۔

تاہم ان تمام کاروباری مفادات کا مکمل اندازہ لگانا مشکل ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ فوج کا کاروباری اثر و رسوخ کافی زیادہ ہے حالانکہ ملک میں جمہوری اصلاحات کی جا چکی ہیں،اور ہو سکتا ہے کہ حالیہ بغاوت ان مفادات کے تحفظ کے لئے کی گئی ہو۔میانمار میں روہنگیا برادری کے خلاف مظالم کے بعد اقوام متحدہ کی روہنگیا برادری کے حوالے سے 2019ء کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ یہ کاروباری وسائل فوج کو بغیر کسی پکڑ کے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کرنے کے قابل بناتے ہیں۔


اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اپنے خود کے کاروباری وسائل اور مفادات کے ذریعے فوج خود کو نگرانی اور احتساب سے دور رکھنے میں کامیاب رہی ہے۔میانمار اکانومک ہولڈنگز لمیٹڈ کے داخلی ڈھانچے اور مالی معاملات کے بارے میں دو رپورٹیں بھی منظر عام پر آچکی ہیں،ایک تو جنوری 2020 ء میں کمپنی نے خود شائع کی اور دوسری ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ’جسٹس فاربرما‘نامی گروہ نے لیک کی تھی۔

یہ کمپنیاں فوج کے اعلیٰ حکام جن میں سے کچھ موجودہ بغاوت میں بھی ملوث ہیں،چلاتے ہیں۔اس کمپنی کے تقریباً ایک تہائی شیئر فوجی نٹس کے پاس ہیں اور باقی موجودہ اور سابق فوجی حکام کے پاس ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 1990ء اور 2011ء کے درمیان میانمار اکانومک ہولڈنگز لمیٹڈ نے اپنے شیئر ہولڈرز کو 108 ارب کا یاٹ جو کہ تقریباً 16.6 ارب ڈالر بنتے ہیں،ادا کیے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ فوج اپنے لوگوں کو نوازنے یا سزا دینے کے لئے میانمار اکانومک ہولڈنگز لمیٹڈ کے شیئرز استعمال کرتی ہے۔مثلاً 35 افراد کے منافعے اس لئے ہمیشہ کے لئے روک دیے گئے کیونکہ انھوں نے کوئی فوجی جرم کیا تھا۔میانمار اکانومک ہولڈنگز لمیٹڈ نے اب تک اس رپورٹ کے بارے میں کوئی بیان نہیں دیا ہے۔حالیہ فوجی بغاوت کے بعد لوگوں کا کہنا ہے کہ فوج اور اس کے عالمی مالیاتی نظام تک رسائی پر پابندی لگائی جائے۔

بہت سے لوگ یہ بھی چاہتے ہیں کہ ان فوجی کمپنیوں کو ختم کر دیا جائے۔بی بی سی کو دیے گئے ایک بیان میں جسٹس فار میانمار نامی تنظیم نے الزام لگایا کہ فوج غیر قانونی مفادات کے تصادم میں ملوث ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ فوج اور اس کے کاروباروں نے جو دولت لوٹی ہے وہ میانمار کے لوگوں کی ہے اور اسے لوٹایا جانا چاہیے۔امریکہ نے میانمار کے اعلیٰ فوجی حکام اور چند حکومتی افراد سمیت کان کنی کی تین کمپنیوں کے خلاف نئی پابندیاں لگا دی ہیں۔

کینیڈا،نیوزی لینڈ اور برطانیہ نے بھی اپنی جانب سے اقدامات کیے ہیں تاہم کسی بھی ملک نے ان دو کمپنیوں کو براہ راست نشانہ نہیں بنایا ہے۔مظاہرین کا کہنا ہے کہ تاریخی طور پرنے کمزور پابندیوں کی وجہ سے فوج بغاوتیں کر سکی ہے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بھی کرتی رہی ہے۔ایکسز ایشیا نامی رسک مینجمنٹ کمپنی کے مینجنگ ڈائریکٹر جارج مکلوئڈ کا کہنا ہے کہ‘اس وقت دیگر ممالک یہ دیکھ رہے ہیں کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔

ادھر مقامی کاروباروں میں ان کمپنیوں کی بے پناہ طاقت کے حوالے سے ناراضی پائی جاتی ہے۔مشروبات بنانے والی جاپانی کمپنی کرن نے میانمار اکانومک ہولڈ لمیٹڈ کے ساتھ دو معاہدے ختم کیے ہیں جن کی مدد سے وہ میانمار کی بیئر کی مارکیٹ پر حاوی تھے۔سنگاپور کے کاروباری شخصیت لم کالنگ نے میانمار کی تمباکو کی ایک کمپنی میں سرمایہ کاری روک دی ہے۔ادھر مقامی مظاہرین فوجی حکومت کے زیر کنٹرول کمپنیوں کی اشیاء کا بائیکاٹ کر رہے ہیں جن میں جیولری کی دکانوں سے لے کر سگریٹ کے برانڈ تک شامل ہیں۔

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

Myanmar Main CrackDown is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 26 March 2021 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.