قومی لطائف اور سو دن

اتوار دسمبر

Hussain Jan

حُسین جان

لطیفے ہمارا قومی کھیل ہیں ۔ ستر سالوں سے ہم لوگ کبھی پٹھانوں کبھی سکھوں اور کبھی بنگالیوں پر لطیفے بناتے رہے ہیں۔ اس کے بھیانک نتائج ہمارے سامنے ہیں۔ پٹھانوں کی زیادہ تعداد دہشت گردی کی نظر ہوگئی۔ سکھ اپنا الگ پنجاب لے بیٹھے۔ اور بنگالیوں نے ملک کے دو حصے کر دیے۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ ہم آج بھی اپنی اس روش پر قائم ہیں۔

صوبائیت کی ایک بڑی وجہ ایک دوسرئے کو حقارت سے دیکھنا اور الزامات لگانا ہے۔ ہم آج بھی پنجابی اور مہاجروں کے لطائف مزے لے لے کر سنتے اور سناتے ہیں۔
لطائف کی بات اس لیے کر رہا ہوں کہ ہمارے ملک کے موجودہ وزیرآعظم جناب عمران خان صاحب نے حکومت کے سو دن پورے ہونے پر ایک تقریب سے خطاب فرماتے ہوئے ایسی باتیں کیں جن سے ملک میں غربت کو کم کیا جاسکتا ہے۔

(جاری ہے)

اگر ہم غیر جانبداری سے ان باتوں کا تجزیہ کریں تو اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ یہ تمام باتیں حقیقت پر مبنی ہے۔ مگر اپوزیشن طوفان بدتمیزی مچایا ہوا ہے۔ کوئی کہتا کیا ملک اب کٹوں سے چلے گا۔ کیا قوم انڈے بیجے گی۔ کیا کیکٹرے بکے گیں۔ اور تو اور ان باتوں کو لے کر سوشل میڈیا پر بیشمار لطائف چل رہے ہیں۔ ہمارے ملک کی اکثریت دیہاتوں سے تعلق رکھتی ہے۔

اور غربت بھی انہی علاقوں میں زیادہ ہے۔ ان علاقوں کے لوگوں کازریعہ معاش زراعت اور لائیوسٹاک سے وابستہ ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ان علاقوں میں تعلیم اور صحت کی سہولیات بھی ناہونے کے برابر ہیں۔ اگر حکومتیں ان علاقوں کی طرف دھیان دیں تو ملک میں بیروزگاری اور غربت کو کافی حد تک کم کیا جاسکتا ہے۔
اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ موجودہ حکومت کے سو دن کی کارکردگی پر بہت سے سوالات کیے جاسکتے ہیں۔

مگر ایک بات ذہن میں رکھنے کی ہے کہ حکومت ٹھیک سمت پر چل رہی ہے۔ حکومت کی پوری کوشش ہے کہ عام آدمی کا معیار زندگی بہتر بنایا جائے۔ ایسے میں اپوزیشن کو چاہیے کہ حکومتی اقدامات کو سراہے نا کہ ماضی کی طرح ٹانگیں کھینچنے بیٹھ جائے۔ کسی ملک کو ترقی کی شارع پر ڈالنے کے لیے ستر سال کا عرصہ کافی ہوتا ہے۔ مگر بدقسمتی سے سابقہ حکومتوں نے کوئی خاطر خواہ کام نہیں کیے۔

ملک میں کرپشن کی وجہ سے بدامنی نے جنم لیا۔ دوسری طرف ہماری زیادہ تر توجہ دہشت گردی سے نپٹنے پر تھی۔ پوری دُنیا میں جتنی قیمت دہشت گردی کی ہم نے چکائی ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ لیکن اس کے باوجود آخر کیا وجہ ہے کہ دُنیا ہماری قربانیوں کو یکسر بھلا بیٹھی ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ ہمارے سابقہ حکمرانوں کی نااہلی ہے۔ دُنیا میں ہمارا امیج بہت خراب ہے۔

لوگ سمجھتے ہیں ہم جھوٹے اور ڈبل کراس کرتے ہیں۔ اگر سابقہ ادوار میں حکومتوں نے عالمی سطح پر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہماری قربانیوں کی اچھی طرح تشہیر کی ہوتی تو آج حالات کچھ اور ہوتے۔
خیر واپس آتے ہیں کہ موجودہ حکومت کس طرح ملک کے لیے بہتر پرفارم کرسکتی ہے۔ پہلی بات تو جناب وزیر آعظم صاحب کو یاد رکھنی چاہیے کہ اب باتیں بہت ہوچکی۔

اب عمل کرنے کا وقت ہے۔ ہم یہ کردیں گے وہ کردیں گے سے نکل کر ہم نے یہ کردیا وہ کردیا کی طرف آنا پڑئے گا۔ عمران خان صاحب نے چین کا حوالہ دیا تھا کہ اُنہو ں نے کئی کروڑ لوگوں کو غربت سے نکالا۔ تو سیدھی سی بات ہے آپ چین کے اس تجربے سے فائدہ اُٹھاسکتے ہیں۔ ہمارے ایک اُستاد محترم ہمیں بتایا کرتے تھے کہ چین کی تیزی سے ترقی کرنے کی وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ اُنہوں نے جدید شہری سہولتوں کو دیہاتوں تک پنچایا۔

سکول ، کالج، یونیورسٹیاں، پارک ، شاپنگ سنٹر اور سینما جیسی چیزیں دیہایتو ں تک جب گئی تو لوگوں نے شہروں کی طرف نکل مکانی ترک کر دی۔ یہ بات ایک تحقیق سے بھی ثابت ہو گئی ہے کہ اگر ملک کے اندر نکل مکانی کو کم کر دیاجائے تو غربت کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔ لیکن اُس کے لیے مندرجہ بالا سہولیات ہر چھوٹے شہر تک پہنچائی جائیں۔ لوگوں کو روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع اُنہی کے علاقوں میں ملنے سے وہ لوگ شہروں کا رُخ نہیں کریں گے ۔

جس سے ملک کی معشیت بہتر ہو گی۔
انڈے مرغیوں سے مراد یہ ہے کہ لوگ زیادہ سے زیادہ کاروبار کی طرف دھیان دیں۔ ہمارے ملک میں کاروبار کو اچھا تو سمجھا جاتا ہے لیکن بہت سے لوگ صرف یہ سوچ کر کاروبار شروع نہیں کرتے کہ اس کے لیے سرمایا بہت زیادہ درکار ہوتا ہے۔ جبکہ درحقیقت ایسا نہیں اگر آپ چند مرغیوں سے کام بھی شروع کریں تو اُسے اپنی محنت سے وسعت دے سکتے ہیں۔

اسی طرح جب آپ کیلے اور امرود بیچتے ہیں تو وقت کے ساتھ ساتھ اُس کاروبار میں بھی بہتری کی گنجائش پیدا ہوجاتی ہے۔ اور تو اور لوگ تو نان چنے بیچ کر کروڑوں کما چکے ہیں۔ ایسے ہمیں حکومت کوچاہیے کہ لوگوں کو آگاہی دے کہ نوکریوں کے پیچھے بھاگنے سے بہتر ہے اپنا چھوٹا موٹا کاروبار شروع کریں۔
اس کے علاوہ چین کی ترقی کا سب سے بڑا راز یہ ہے کہ اُس نے صنعتوں کو بڑی بڑی فیکٹریوں سے نکال کر گھروں تک پہنچا دیا۔

وہاں ہر گھر میں کوئی نا کوئی چیز تیار ہو رہی ہے۔جس سے چین کی برآمداد میں بہت اصافہ ہوا۔ حکومتوں نے لوگوں کو سستی گیس اور بجلی مہیا کی۔ لوگوں نے گھروں میں ہی چھوٹی چھوٹی فیکٹریاں کھول لیں اور اس کے نتائج آج دُنیا کے سامنے ہیں۔ حکومت پاکستان کوچاہیے کہ وہ ملک میں تکنیکی تعلیم کو جتنا عام کرسکتی ہے کرے۔ اور پھر فارغ التحصیل طلباء کو سستی شرائط پر قرضہ دیا جائے کہ وہ اپنا کاروبار شروع کریں۔

آج بھی بڑی بڑی صنعتوں پر صرف بڑے سرمایا کاروں کی اجاراہ داری ہے۔ اگر حکومت چھوٹے چھوٹے پلانٹ امپورٹ کر کے لوگوں کو دے تاکہ وہ گھروں میں بیٹھ کر پروڈکشن کریں۔ اس سے خواتین بھی اپنے مردوں کے شانہ بشانہ چلیں گی اور ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کریں گی۔
اگر حکومت اُوپر دی گئی تجاویز پر عمل درآمد کر لیتی ہے تو یقین کریں پانچ سال میں ہی ملک کی تقدیر بدل جائے گی۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین کالمز :

Your Thoughts and Comments

Urdu Column Qoumi Lataif Or 100 Din Column By Hussain Jan, the column was published on 02 December 2018. Hussain Jan has written 109 columns on Urdu Point. Read all columns written by Hussain Jan on the site, related to politics, social issues and international affairs with in depth analysis and research.