کیا ہم سچے عاشق رسول ہیں؟

جمعرات 21 اکتوبر 2021

Prof.Khurshid Akhtar

پروفیسرخورشید اختر

اسلام ایک مکمل دین ہے اور اخلاق اس کا جزو نہیں کل ہے، آج ھم کائنات کی سب سے بڑی ھستی کے ولادت کا دن مناتے ہیں  وہ  ہستی جب دنیا میں تشریف لائی تو کمزور، بے سہارا اور مسکین لوگوں کے لیے یہ اعلان تھا کہ تمھاری بات کرنے والا، ساتھ دینے والا دنیا میں آچکا ہے، جس کا بچپن، جوانی اور ساری عمر کا مرکز و محور اخلاق ہے، انسان، حیوان، چرند پرند اور کائنات کی ہر چیز کے لیے نرمی، تحفظ اور داعی اخلاق حسنہ کا مکمل نمونہ آیا ہے اس نے زندہ درگور ہونے والی بچیوں کے لیے آواز اٹھائی، خواتین کی عزت اور احترام کا درس دیا، بلکہ خطبہ حجتہ الوداع کے موقع پر یہ فرمایا کہ خواتین کے معاملے میں اللہ سے ڈرو، ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کے رشتے کی صفات، اہمیت اور ضرورت بیان کی، خود اس پر عمل کرکے بتایا، نبوت سے پہلے کی زندگی ہو یا بعد کی خلق، پاکیزہ گفتار اور پاکیزہ خو، ہی آپ کی شخصیت کا غالب نقظہ ھے، پورے کا پورا قرآن اور داعی قرآن اخلاق کے مضبوط ستون پر کھڑے ہیں، پھر کیا بات ہے کہ آج ھم اخلاق کو سرے سے بھول چکے ہیں،کائنات کی دوسری مخلوقات کو چھوڑیں، انسان کے ساتھ ھمارے رویے دیکھ لیں، اخلاقی اقدار کا نام و نشان تک نہیں ہے، پھر کیسے ھم تباہی سے بچ سکتے ہیں؟ اس کے لیے ھمیں اپنے گریبانوں میں جھانکنے کی ضرورت ہے،
"وفاداری بشرط استواری اصل ایماں ہے"
حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے وفاداری کا تقاضا ہے کہ ھم سیرت النبی کی پیروی کریں،بنیادی نکتہ اخلاق ھے، معاشرے میں رہنے والے ہر انسان چاہے وہ کسی بھی مذہب سے، کسی مسلک سے اور کسی گروہ سے تعلق رکھتا ہوں، احترام، رواداری اور برداشت کا مظاہرہ کریں، دعوت دیں تو اخلاقی پہلو کو نہ بھولیں، ایک صحابی کی والدہ غیر مسلم تھیں، انہوں نے حضور سے پوچھا کہ مجھے کیا کرنا چاہیے آپ نے فرمایا جاؤ اور اپنی والدہ کی خدمت کرو، انہوں نے کہا وہ مجھے مارتی اور تکلیف دیتی ہیں، آپ نے فرمایا جیسا بھی ھو خدمت میں کوئی کمی نہ لاو، یہ درس اخلاق ھے، ایک یہودی خاتون کا جنازہ قریب سے گزرا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے، صحابہ نے کہا حضور یہ یہودن کا جنازہ ہے، آپ نے فرمایا کیا وہ انسان نہیں ہے، ؟ دین اسلام تو جنگ میں بھی احترام انسانیت کا حکم دیتا ہے، بچوں، بڑوں، خواتین اور یہاں تک کہ جانوروں کے حقوق کا بھی۔

(جاری ہے)

اخلاقی قوانین کے ذریعے پابند بنایا، اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو رحمت العالمین کہا گیا ہے،
دعویٰ عشقِ رسول کا ہو اور وفاداری کسی اور کے ساتھ  کیسے عاشق رسول کہلائیں گے! مسلم معاشرے میں سب سے زیادہ جس چیز نے دعوت کو کمزور کیا یے، وہ اخلاقی زوال ہے، آج بداخلاقی کی وجہ سے مسلمانوں کی بات کوئی نہیں سنتا، ھم بات کرتے ہیں تو پتھر مارتے ہیں، یہاں تک کہ دعوت الہیٰ کا فروغ  کمزور پڑ گیا، کیونکہ اخلاقی قدریں ماند پڑ چکی ہیں، ذرا اپنے ذھین میں وہ نقشہ لائیے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی دعوت دی تو کس چیز کو بطور ثبوت پیش کیا، کیا کوئی معجزہ دکھایا، کیا دباؤ ڈالا، کیا تلوار نکال لی یہ سب کچھ نہیں ھوا، لوگو میں نے گزشتہ چالیس سال آپ کے درمیان گزارے ہیں، تو سب کا کیا جواب تھا، ھم گواہی دیتے ہیں کہ آپ امانت دار، سچے اور دیانتدار ہیں، کیا کسی نے اخلاقیات پر کوئی سوال اٹھایا ، ھر گز نہیں ، یہی نہیں آپ تیرہ سالہ مکہ کی زندگی، جدوجہد اور سخت حالات میں بھی ایک نکتہ بھی ایسا نہیں نکال سکتے جہاں اخلاق کا مظاہرہ نہ کیا ھو، یتیموں کے ساتھ سلوک ہو یا بے سہارا لوگوں کی بات،مشرک اور سخت مخالف سے رویہ ہو، ھمیشہ اخلاق کو نمونہ بنایا، حضرت خدیجہ کے ساتھ شادی، گھر میں قدر دانی کی مثال قائم کی ، یا ہجرت سے لے کر دس سالہ مدنی زندگی کو دیکھیں سخت معاشی، معاشرتی اور سماجی حالات میں بھی اخلاق کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا، جنگ میں ، معاہدوں میں پسندیدہ عمل اخلاق ہی تھا،
تیس سال جدوجہد کی اور وہ وقت بھی آیا جب فاتح بن کر مکہ میں داخل ہوئے، لبوں پر تسبیح، نظریں جھکا کر، عام معافی کا اعلان کر دیا، سب سے بڑ کر خطبہ حجتہ الوداع ایک ورلڈ آرڈر کی حیثیت رکھتا ہے جہاں تمام حقوق، ہر طبقے کی نمائندگی اور انسانیت کا چارٹر موجود ہے، آپ حضرت بلال حبشی، سلمان فارسی، اور صہیب الرومی کے ساتھ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے تعلق کو دیکھیں، ان کو کیا مقام دیا اور وفاداری کا صلہ کیا ملا، گویا آپ کی ساری زندگی اخلاق کا اعلیٰ نمونہ ھے، آج ھمارا زوال اخلاقی پستی کی وجہ سے ھے، ھم دوسرے کی بات نہیں سنتے، دعوت، دھشت سے دیتے ہیں، رویہ بدسلوکی پر مبنی ہے اور نعرہ عشق رسول کا، یہ وفاداری نہیں ہے، غور کریں گے تو سمجھ آئے گا کہ اخلاق دین کا جزو نہیں کل ھے، اس کو اختیار کریں گے تو دین و دنیا دونوں آپ کے ھاتھ میں اور منزل شاندار ھوگی۔


ادارہ اردوپوائنٹ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

تازہ ترین کالمز :

Your Thoughts and Comments

Urdu Column Kiya Hum Sache Ashiq Rasool Hein? Column By Prof.Khurshid Akhtar, the column was published on 21 October 2021. Prof.Khurshid Akhtar has written 183 columns on Urdu Point. Read all columns written by Prof.Khurshid Akhtar on the site, related to politics, social issues and international affairs with in depth analysis and research.