دھرناکامیاب،مولاناناکام

پیر نومبر

Umer Khan Jozvi

عمر خان جوزوی

مانا کہ مولانافضل الرحمن جیسادوراندیش اورزیرک سیاستدان کوئی نہیں۔یہ بھی حقیقت کہ مولانانے سیاست کی منڈی میں آ ج تک گھاٹے کا کوئی سودانہیں کیا۔مسنداقتدارنوازشریف کے پاس ہو یا پرویز مشرف اورآصف علی زرداری جیسے طاقتور لوگ وقت اورملک کے حکمران رہے ہوں مولانا فضل الرحمن سالن میں نمک کی طرح ہردوراورموسم میں ہرکسی کی ضرورت یاپھرمجبوری ضرور رہے۔

اسی وجہ سے کچھ لوگ مولاناکومقناطیس اورکچھ کامیاب سیاسی سوداگرکانام دیتے ہیں۔مولاناواقعی نہ صرف ایک کامیاب سیاسی سوداگرہیں بلکہ ہردوراورموسم میں سیاسی منڈی کے بھاؤتاؤسے واقفیت بھی اچھی طرح رکھتے ہیں۔حکومت کے خلا ف اپوزیشن جماعتوں کے حالیہ آزادی مارچ اوردھرنے کے پرامن اورحکومت کوکوئی نقصان پہنچائے بغیراختتام عام سوداگرکے بس کی بات نہیں تھی۔

(جاری ہے)

سامنے ہزاروں اورلاکھوں کامجمع ہو۔ہرذہن پرحکومت گرانے اوروزیراعظم ہاؤس پردھاوابولنے کابھوت سوارہو۔ایسے میں پھرمجمعے اورہجوم کولیڈکرنے والے کے لئے کوئی سوداکرکے پتلی گلی سے نکلناہرگزآسان نہیں۔ مگرمولانایہ کام،گراورطریقہ علاج بھی اچھی طرح جانتے ہیں۔کس کوکس وقت کونسی ڈوزدینی ہے یہ مولاناسے بہترکون جانے۔۔؟مولاناکی انہی خوبیوں ،قابلیت اورسیاسی بصیرت کی روشنی میں کہاجارہاہے کہ آزادی مارچ ودھرنے کے بدلے مولانانے کوئی معمولی اورسستاسودانہیں کیاہوگا۔

کہنے والے کہتے ہیں کہ جس طرح بلی اللہ کی رضاء کے لئے کوئی چوہانہیں مارتی۔اسی طرح مولانابھی کچھ لئے یاپائے بغیر کبھی کوئی قدم نہیں اٹھاتے۔یہ توہم بھی کہتے ہیں کہ مولانانے کچھ لئے یاپائے بغیرپشاورموڑسے اچانک بوریابسترگول نہیں کیا۔شائدکہ وزیراعظم کے استعفے کے بدلے مولاناکوہماری امیدوں سے بھی کچھ زیادہ بلکہ حدسے بھی کچھ زیادہ ملاہولیکن اس سب کے باوجود رات کے اندھیرے اورپردوں کے پیچھے ہونے والے اس سودے کو سیاسی طورپرمولاناکی کامیابی کانام ہرگزنہیں دیاجاسکتا۔

سیاست کی منڈی میں کامیاب بولی اورسوداگری کی وجہ سے مولانافضل الرحمن سیاست میں ہمیشہ ،،خالص منافع،،کے قائل ہوں گے لیکن ہمارے نزدیک سیاست میں منافع کے ساتھ نقصان کاایک خانہ بھی ہمیشہ منافع والے خانے کے ساتھ ہوتاہے۔کیونکہ سیاست میں بسانہیں بلکہ اکثراوقات منافع کی بجائے بھاری نقصان کاکھیل بھی کھیلناپڑتاہے۔اسلام آباددھرنے کاپرامن اختتام شائدکہ مولاناکی ذات یامفادتک گھاٹے کاسودانہ ہولیکن حقیقت میں شیرکے منہ میں ہاتھ ڈالنے کے بعدشیرپرہاتھ پھیرکرالٹے پاؤں اسلام آبادسے واپسی نے مولاناکی پارٹی اورتحریک کوسیاسی طورپرجونقصان پہنچایاہے سالوں بعدبھی اب اس نقصان کاازالہ ممکن نہیں ہوسکے گا۔

جوگرجتے ہیں وہ برستے نہیں یہ سناتوہم نے ہزاربارتھالیکن پہلی باردیکھ بھی لیا۔پشاورموڑکاعلاقہ یاموسم اگرچیک کرناتھاتوپھرجے یوآئی کے ساتھ مسلم لیگ ن،پیپلزپارٹی،اے این پی اوردیگراپوزیشن جماعتوں کے بھولے بھالے کارکنوں کوحکومت گرانے اوروزیراعظم کااستعفیٰ لے کرآنے کالالی پاپ کیوں دیاگیا۔۔؟اپنی ہی میموری اگراس طرح کچھ دنوں میں ڈیڈہونی تھی توپھروزیراعظم کے استعفے کے لئے ڈیڈلائن کیوں دی گئی۔

۔؟مولانااوردیگرسیاستدانوں میں یہی فرق توتھاکہ مولانایوٹرن نہیں لیتے مگرافسوس اس تاریخی دھرنے میں وزیراعظم کے استعفے والی چوک سے مولانانے جس طرح یوٹرن لیکراپنے قافلے میں شامل دیگرچھوٹی موٹی گاڑیوں کواسلام آبادسے نکل کرشہراقتدارسے کوسوں دورعلاقائی شاہراہوں کی طرف رخ موڑنے کے جواحکامات دےئے اس نے مولاناکے سیاسی مریدوں کے سرشرم سے جھکادےئے ہیں۔

اگلے محاذاورمورچوں سے ڈرپوک ہی پیچھے کی طرف بھاگتے ہیں۔حکمرانوں کے سامنے سے بھاگ کرغریبوں کے آگے سینہ تان کرکھڑے ہونایہ کوئی بہادری تونہیں۔اسلام آباددھرنے سے مولانانے کچھ پایایانہیں لیکن جوکھویاہے اس کاحساب ہی نہیں۔مہنگائی ،غربت ،بیروزگاری اورحکومتی مظالم کے شکارجولوگ کل تک مولانافضل الرحمن کوایک مسیحااورامیدکی ایک کرن سمجھ رہے تھے اب وہ نہ صرف مولانابلکہ مولاناکے سیاسی مریدوں کوبھی مشکوک نظروں سے دیکھنے لگے ہیں۔

مولانافضل الرحمن تواپنوں اوربیگانوں کے کچھ تلخ سوالات پرپہلے سے بڑھ کراسلام آبادپریلغارکرنے کاعندیہ دے رہے ہیں مگرایسااب شائدکہ مولاناکے بس کی بات بھی نہ ہو۔وزیراعظم کے استعفے کے بغیراسلام آبادسے منہ اٹھاکرواپس آنے والے دوبارہ کس منہ سے شہراقتدارکارخ کریں گے۔۔؟ماناکہ کچھ لے ،کچھ دے،ڈیل اورڈھیل یہ سیاست کے بنیادی ارکان میں شامل ہیں اوراکثرمواقعوں پران ارکان کااستعمال کھل کرہوتابھی ہے مگرانتہائی معذرت کے ساتھ آج کل کے لوگ جدیدسائنس کی روشنی میں اس طرح کے اقدامات کومک مکااورسوداگری کے طورپرلیتے ہیں اورسیاسی سوداگر۔

۔؟ایسے لوگوں کے بارے میں اکثرعوام کے عزائم اورخیالات پہلے سے ہی اچھے نہیں۔مولانانے حکمرانوں کوڈھیل دے کرجوڈیل کرائی ہے اس سے اب نہیں لگتاکہ آئندہ مولاناکی آوازپرکبھی اتنے لوگ پھراکٹھے ہوجائیں۔مولاناکے سیاسی مریددھرنے میں مثال توقائم کرگئے مگرافسوس مولاناخودکوئی مثال قائم نہیں کرسکے۔شہراقتدارپردھاوابولناکوئی بڑی بات نہیں لیکن حکومت گرانے اوروزیراعظم کے استعفے کی ڈیمانڈلے کرشہراقتدارسے پھرخالی ہاتھ واپس آنابڑی بے شرمی والی بات کہلائی جاتی ہے جومولاناجیسے دوراندیش اورمنجھے ہوئے سیاسی استادوں کے شایان شان ہرگزنہیں۔

پردوں کے پیچھے شائدکہ مولانانے کوئی بہت بڑاسوداکیاہولیکن بظاہرمولانانے اپنے لاؤلشکرکارخ حکومتی ایوانوں سے بیابانوں کی طرف موڑکرایک سیاسی شکست اپنے نام کرلی ہے۔مولاناکادھرنایقینناًکامیاب رہا۔کراچی سے اسلام آبادتک آزادی مارچ میں کوئی ایک گھملابھی نہیں ٹوٹا۔پھربارہ تیرہ دن دھرنے میں کوئی جلاؤگھیراؤاورماردھاڑبھی نہیں ہوئی۔

اس لئے اس دھرنے کواگرکامیاب سے کامیاب ترکانام دیاجائے توغلط نہیں ہوگامگراس کامیاب دھرنے کے باوجودمولاناخودسیاسی طورپربری طرح ناکام رہے۔جس طرح ایک مجاہداورفوجی کی محاذسے پسپائی کوکامیابی اورفتح کانام نہیں دیاجاتااسی طرح ایک سیاستدان اورلیڈرکے بھی سیاست کے اگلے محاذسے پسپائی اورناکام واپسی کوجیت کاچغہ نہیں پہنایاجاسکتا۔

مولاناکاشہراقتدارسے خالی ہاتھ نکل کراضلاع تک محدودہونایہ سیاسی شکست اورناکامی نہیں تواورکیاہے۔۔؟مولاناکی لڑائی وقت کے حکمرانوں سے ہے غریب عوام سے نہیں۔جس سے انسان کی لڑائی ہوتی ہے راستے انہی کے بندکئے جاتے ہیں مگرمولاناتوحکمرانوں کوعیش وعشرت میں چھوڑکرعام لوگوں کے راستے بندکرنے پرلگ گئے ہیں۔علاقائی اورقومی شاہراہیں اورعام لوگوں کے راستے بندکرکے اس سے مولاناکوعوامی نفرت،سیاسی مخالفت اوربددعاؤں کے سواکچھ نہیں ملے گا۔

عام لوگوں میں جوکل تک مولاناکی حمایت کرتے تھے اب عام شاہراہوں کی بندش کے باعث وہ لوگ بھی مولاناکی مخالفت کرنے لگیں گے۔مولانانے پلان اے میں جس طرح عوام کودرد،تکلیف اورپریشانی سے محفوظ رکھااسی طرح مولاناکوپلان بی بھی حکمرانوں کواذیت دینے تک محدودکرناچاہےئے تھا۔مولانااورمولاناکے سیاسی مریدگلگت،چترال،پشاور،کوئٹہ،بٹگرام،سوات ،کراچی،مانسہرہ اورمردان میں شاہراہیں بندکریں تواس سے حکمرانوں کوکیاتکلیف۔

۔؟خیبرپختونخوامیں ڈیڑھ ماہ تک سرکاری ہسپتالوں میں ہڑتال رہی اس ہڑتال سے کسی حکومتی وزیراورمشیر کی صحت پرکوئی فرق نہیں پڑا۔اب راستے بندکرنے سے ان پرکیااثرپڑے گا۔۔؟ہسپتال بندہونے سے بھی عوام رلتے رہے اب سڑکیں بلاک کرنے سے بھی عوام کاکباڑہ اورخانہ خراب ہوگا۔اس لئے مولاناعوام کوکسی نئی مصیبت اورتکلیف میں ڈالنے کی بجائے عوامی مسائل ،مصائب اورمشکلات کاباعث بننے والے اسباب کے خاتمے کی کوئی تدبیرسوچیں۔

شاہراہیں بند،جلاؤگھیراؤ،ماردھاڑاورعلامتی احتجاج کے ڈرامے اس قوم نے بہت دیکھے ۔مولانااب پرامن اورکامیاب دھرنے کی طرح کوئی ایسانیاکام کریں جومولاناکے فائدے کے ساتھ ملک اورقوم کے مفادمیں بھی ہو۔ورنہ روایتی سیاست کے پتے کھیلنے پرکل قوم دیگرسیاستدانوں اورلیڈروں کے ساتھ مولاناکوبھی پھرکبھی معاف نہیں کرے گی۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین کالمز :

Your Thoughts and Comments

Urdu Column Dharna Kamyab Molana Nakam Column By Umer Khan Jozvi, the column was published on 18 November 2019. Umer Khan Jozvi has written 354 columns on Urdu Point. Read all columns written by Umer Khan Jozvi on the site, related to politics, social issues and international affairs with in depth analysis and research.