مفادات کی جنگ

جمعہ مئی

Uneeb Hassan

انیب حسن

 میری نظر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹویٹر پر چلنے والے ایک ٹرینڈ #boycottUAE پر پڑی جس کو دیکھتے ہی خیال آیا کیوں نہ پس منظر پر نظر ڈالی جائے تاکہ ایک بھولی ہوئی بات ففتھ جنریشن وار کو دوبارہ سمجھانے کی ایک کوشش کی جائے اور وہ مفادات اور مقام جو انڈیا عرب ممالک میں اپنی انتہاء پسندانہ پالیسوں کی وجہ سے کھو چکا ہے اور کھو رہا ہے دوبارہ حاصل کرنے کی ایک کوشش میں جاری ہے پر بھی توجہ دلائی جائے۔

آج سے تقریبا ایک دہائی پہلے عرب بہار کے نام سے شروع ہونے والی تحریک جس میں ایک ہی طرح کی شدت نظر کم و بیش تمام ہی عرب ممالک میں نظر آئی۔ اس عرب بہار نے جہاں اقتدار کے برجوں کو الٹا وہیں بہت ہی پیچیدہ خانہ جنگیوں کو بھی جنم دیا۔آج سے تقریبا کچھ دہایوں پہلے تک یہ خطہ بہت ہی پر سکون اور روشنیوں سے چکا چوند تھا مگر اس خوں ریز بہار کی ایسی ہوا چلی کہ تمام روشنیاں سیاست کے گورکھ دہندے میں ایسی ماند ہوئیں کہ آج تک یہ خطہ ایک نہ ختم ہونے والی اور پیچیدہ آگ میں جھلس رہا ہے اور سیکڑوں زندگیاں روزانہ کی بناد پر لقمہ اجل بن رہی ہیں۔

(جاری ہے)


اس بہار کی ہوا جب ملک شام میں پہنچی تو ایک عام فہم رکھنے والے انسان کو نہ سمجھ آنے والی خانہ جنگی کا آغاز ہوا ایک طرف امریکہ اور اس کے خطے میں موجود اتحادی تھے اور دوسری طرف روس اور اس کے اتحادی۔جب بشارلاسد کو بھی ویسی ہی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا جیسا کہ باقی عرب ممالک کر رہے تھے یا کر چکے تھے تو اس وقت اسد کی مدد کے لیئے نہ متحدہ عرب عمارات اور نہ ہی سعودی عرب کھڑا تھا جو کہ اپنی روایت کے مطابق چند عرب ممالک کی پشت پر کھڑا تھا۔

اس خلا کو پر کرنے کے لیئے جگہ روس نے سنبھالی اور اس کا ساتھ خطے میں مو جود ایک اور طاقت ایران نے دیا۔
سعودی عرب اور عرب عمارات ترکی اور امریکہ کے ہمنوا تھے جنہوں نے سرحدی تقدس کو پامال کرتے ہوئے شام میں موجود اسد کے خلاف برسرے پیکار فری سیرین آرمی اور دیگر گروہوں کی کی مدد کی اور اس دوران ہمیں شام اور اسرائیل کی درحد پر موجود طبی مراکز میں حکومت مخالف گروہوں کے جنگجوں اور اسرایئلی ایجنٹس کی موجودگی ساتھ نظر آئی۔

دوسری جانب روس اپنی قوت کا مظاہرہ کرتے ہوئے شام میں اپنی فوجیں اتار کر مدد کو آیا وہیں ایران بھی اپنی ملشیا اور لبنان کی حزب اللہ کے ساتھ شام کی اس خانہ جنگی میں حصہ دار بنے۔ان حالات میں ڈرامائی موڑ تب آیا جب 2016 میں ترکی میں طیب اردوان کی حکومت کے خلاف ایک فوجی انقلاب لانے کی کوشش کی گئی جو کہ ناکام ثابت ہوا اور ترکی نے اس کے پیچھے امریکہ میں موجود فتح للہ گولن کو ٹھرایا۔

جب امریکہ سے طیب حکومت کی جانب سے گولن کی حوالگی کا مطالبہ کیا گیا تو وہ بے سود ثابت ہوا جس پر ترک حکومت بے اپنے عصے کا اظہار اپنی وفاداریوں کا رخ بدل روس کی جانب کر کے کیا۔
ترک حکومت جوکہ نیٹو کا ایک ممبر ہے اور امریکہ کا ایک اہم سٹریٹجک پارٹنر تھا اور دونوں ممالک کے مابین بہت سے عسکری معاہدوں پر کام بھی جاری تھا جن میں ایف-35 جنگی جہاذ کی تحقیق و تعامیر میں ترکی شراکت دار تھا۔

ترکی نے ان تمام کو نظر انداز کرتے ہوئے روس سے ایس-400 دفاعی نظام خریدا اور اس کے جواب میں امریکہ نے کم و بیش تمام دفاعی معاہدوں سے ترکی کو خارج کرتے ہوئے دونوں ممالک کے تعلقات کو ایک دو راہے پر لا کھڑا کیا۔
چونکہ عرب امارات اور سعودی عرب امریکہ کے دوست ممالک میں شامل ہیں دوستی اور مفادات کو مد نظر رکھتے ہوئے ترکی کی طرف سے سخت گیر رویہ اختیار کیا گیا جس کے جواب میں ترکی نے خیطے میں ان ممالک کے تمام مفادات کو نشانہ پر رکھتے ہوئے خطے میں ان ممالک کے لیئے مسائل پیدا کرنے شروع کر دیئے۔

پھر چاہے وہ قطر کی مدد کے لیئے بیجھے فوجی دستوں کی صورت میں ہو یا سعودی یمن جنگ میں ایران کے معقف کی تعید ہو۔ اسی سلسلہ کی ایک کڑی جمال کشوگی کے قتل سے بھی ملتی ہے جو کہ ترکی میں عارضی طور پر مقیم تھا اور سعودی حکومت کا ناقد تھا کو سعودی حکومت کی ایما پر ترکی میں سعودی کونسلیٹ میں بے دردی دے قتل کر دیا گیا۔
ایسا ہی کھیل ترکی اور ان عرب ممالک کے مابین لبیا میں بھی جاری ہے جہاں حکومت مخالف جنرل ہفتار کی ملشیا جو کہ امریکہ میں قیام پزیر تھا واپس لبیا آ کر معمر قذافی کی حکومت کو گرانے اور اس کے قتل کا باعث بنا ابھی بھی موجودہ حکومت کے لیئے درد سر کی حثیت سے موجود ہے۔

گزشتہ دنوں حکومتی فوج کی جانب سے باغی گروہوں کے ٹھکانوں پر حملوں میں شدت آئی اور ہفتار کی ملیشا جو کہ لبین دارلحکومت طرابلس پر قبضہ کنے کے بہت قریب تھے کلیدی حیثیت رکھنے والے فوجی اڈے اور جنگی ساز و سامان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
اس پر متحدہ عرب امارات کی جانب سے ترکی کے خلاف مذمتی بیان سامنے آیا جس پر ترکی کی جانب سے بھی اسی نویت کا بیان آیا اور ترکی سے ایک ٹرینڈ #boycottUAE شروع ہوا جس کو پاکستان میں بھی کچھ پذیرائی ملی لیکن اس کو زیادہ ہوا بھارتی حکومتی جماعت کا سوشل میڈیا سیل دے رہا ہے۔اب ہمیں سوچنا ہے کہ کیا ہم اس مفادات کی جنگ میں حصہ دار بنیں گے یا اپنا مصالحتی کردار ادا کرتے ہوئے امن کی کوشش کریں گے؟
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین کالمز :

Your Thoughts and Comments

Urdu Column Mafadaat Ki Jung Column By Uneeb Hassan, the column was published on 22 May 2020. Uneeb Hassan has written 1 columns on Urdu Point. Read all columns written by Uneeb Hassan on the site, related to politics, social issues and international affairs with in depth analysis and research.