منتخب احتساب کے بہت خطرناک نتائج ہوں گے، محمد شہباز شریف

قوم کے70ارب بچائے،اس وقت نیب کہاں تھا؟ چیلنجزسے نمٹنےکیلئےپارلیمنٹ،عدلیہ اوراسٹیبلشمنٹ کو ایک ہونا ہوگا،عدلیہ کےفیصلوں سےاتفاق کریں یا نہ کریں یہ آپ کی مرضی،احترام لازم ہے،سیاسی ڈائیلاگ وقت کی ضرورت ہے۔تقریب سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ جمعرات اپریل 19:00

منتخب احتساب کے بہت خطرناک نتائج ہوں گے، محمد شہباز شریف
لاہور(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔19 اپریل 2018ء) : وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے کہا ہے کہ منتخب احتساب کے بہت خطرناک نتائج ہوں گے،قوم کے 70ارب بچائے اس وقت نیب کہاں تھا؟ چیلنجزسے نمٹنے کیلئے پارلیمنٹ ،عدلیہ اوراسٹیبلشمنٹ کو ایک ہونا ہوگا، عدلیہ کے فیصلے سے اتفاق کریں یا نہ کریں یہ آپ کی مرضی ہے، لیکن اداروں کا احترام لازم ہے، سیاسی ڈائیلاگ وقت کی ضرورت ہے،،پنجاب حکومت نے 2008-09ء میں دانش سکولز کا جو پودا لگایا تھا آج یہ پودا ایک تن آور درخت بن چکا ہے۔

وہ دانش سکولز سے فارغ التحصیل ہوکراعلی تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلباء و طالبات سے خطاب کررہے تھے،جنہوں نے آج یہاں وزیراعلیٰ شہبازشریف سے ملاقات کی۔دانش سکولز سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد اعلی یونیورسٹیوں اورکالجوں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلباء و طالبات نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اوردانش سکولز کے قیام پروزیراعلیٰ شہبازشریف کے ویژن کی تعریف کی ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہاکہ جب پنجاب حکومت نے دانش سکولز کی بنیاد رکھی تو اس پر بے جا تنقید کی گئی کہ پیسہ فضول میں خرچ کیا جارہا ہے ۔وہ سیاسی لیڈر جنہوں نے قوم سے وعدہ کیا تھا کہ ہم تعلیم کے میدان میں اپنے صوبے میں علمی اقدامات کریں گے وہ ہاتھ ملتے رہ گئے ہیں،حالانکہ وہ تنقید کرنے میں سب سے آگے تھے ۔ان سیاسی لیڈرنے اپنے صوبوں میں دانش سکولز کیا بنانے تھے بلکہ تعلیم کے میدان میں ان کی کارکردگی انتہائی بری رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج دانش سکولز سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد ہزاروں سکالرز ،لمز،فاسٹ،زرعی یونیورسٹی ،گورنمنٹ کالج یونیورسٹی اور دیگر اعلی تعلیمی اداروں میں پڑھ رہے ہیں ۔اگر ان بچوں کو یہ مواقع نہ ملتیں تو یہ اپنے دیہات کی گلیوں کی دھول بن جاتے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا ہاتھ تھاما اورکم وسیلہ اوریتیم بچے اوربچیوں کیلئے دانش سکول سہارا بنا۔

دانش سکولز نے یتیم بچوں کیلئے والد اور والدہ کا کردارادا کیا ہے ۔دانش سکولز نے ان بچوں کے سرپر دست شفقت رکھا ہے ۔ان میں ان کے اساتذہ کی محنت بھی شامل ہیں جنہوں نے ان بچوں کو ہیرے کی طرح تراشا ہے ۔میں ناقدین کو کہنا چاہتا ہوں کہ تنقید کرنا بہت آسان ہیں لیکن یہ بچے اوربچیاں کم وسیلہ ہونے کے باوجود آج اعلی مقام کی جانب بڑھ رہے ہیں ۔اللہ تعالی کا بے پایاں فضل و کرم سے یہ قائد اوراقبال کے پاکستان کی تعبیر ہے ۔

اگر 70برس کے دوران صحت عامہ اورتعلیم میں اسی طرح محنت اورعزم کیساتھ کام کیا جاتا تو آج پاکستان عملی دنیا میں مشعل راہ ہوتا،بدقسمتی سے یہ نہیں ہوا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ دانش سکول کے بچوں اوربچیوں کو اس مقام پر لیجانے میں سب نے ملکر کردارادا کیا ہے ۔جس پر میں وزراء ،متعلقہ سیکرٹریز،،پنجاب ایجوکیشنل انڈومنٹ فنڈ اوردیگر متعلقہ محکموں کو مبارکباد دیتا ہوں ،ان کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔

انہوں نے کہاکہ قیام پاکستان کا بنیادی مقصدسب کیلئے یکساں مواقع فراہم کرناہے۔آج یہ بچے ایچی سن کالج اورگرائمرسکولزکے بچوں کاڈٹ کر مقابلہ کرنے کے قابل ہوچکے ہیں اورمجھے ان بچوں کا حوصلہ اوراعتماد دیکھ کر بے حد خوشی ہوئی ہے ۔انشاء اللہ یہ بچے پاکستان کو غربت سے نجات دلائیں گے اورپاکستان کو صحیح معنوں میں قائد کا پاکستان بنائیں گے۔

یہ عظیم بچے قوم کے معمار بنیں گے اور قوم کا قرض اتاریں گے۔جو ناقدین ناجائز الزامات لگاتے تھے وہ ہوش کے ناخن لیں اوران عظیم بچوں سے ملیں ان کا ہوش ٹھکانے آجائے گا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ تعلیم کے یکساں مواقع عام آدمی کے بچے کا حق ہے۔امیر اورغریب کے درمیان خلیج کو کم کرنا وقت کی ضرورت ہے ۔انشاء اللہ یہ بچے امیر اورغریب کے درمیان بڑھتی خلیج کو مٹائیں گے اورپاکستان عظیم ملک بنے گا۔

نیب کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ نیب کو اپنی ذمہ داری ہر صورت ادا کرنی چاہیے۔نیب اگر متحرک ہوا ہے تو ہمیں خوشی ہے اوراس کو خوش آمدید کہنا چاہیے۔ احتساب سب کا منصفانہ بے لاگ اور بلاامتیاز ہونا چاہیے،اسی سے معاشرہ توانا ہوتا ہے۔ چےئرمین نیب کی یہ ا پروچ ہے توکوئی اس سے اختلاف نہیں کرے گا۔ماضی قریب میں اربوں ،کھربوں روپے لوٹ لیے گئے ،نیب ان کا احتساب کرنے نکلا ہے تو قوم کو خوش آمدید کہنا چاہیے۔

نیب پنجاب میں بڑی تیزی کے ساتھ کارروائیاں کررہا ہے ۔ہم ان کو کاغذات اوردیگر چیزیں مہیا کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ صاف پانی کا سکینڈل ہم نے چھپایا نہیں کیونکہ ہم شفافیت پر یقین رکھتے ہیں اوراللہ تعالیٰ کیساتھ عوام کو بھی جوابدہ ہیں۔ہم نے اس بارے میں اپنی ناکامیاں کو قوم کو خود بتایا تھا کیونکہ اس منصوبے میں 70ارب روپے کا ڈاکہ ڈالاجارہا تھا جسے ہم نے عین موقع پر پکڑااور قوم کے 70ارب روپے بچائے ،ہم نے ایف آئی آر درج کروائیں اور کیس انٹی کرپشن کو دیا،اس وقت نیب کہاں تھا۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے مختلف منصوبوں میں شفافیت کے ذریعے اس غریب قوم کے کئی سو ارب روپے بچائے ہیں اورترقی کا پہیہ بہت تیزی سے گھمایا ہے ۔جن لوگوں نے خون پسینہ گرا کر ترقی و خوشحالی کیلئے کام کیا ہے پوری قوم کو ان کی بھر پور ستائش کرنی چاہیے تاکہ ایسے لوگوں کی حوصلہ افزائی ہو۔تاہم جہاں کرپشن ہوئی ہے اس کھوج لگانا اوراسے سامنے لانا نیب کی ذمہ داری ہے ۔

نیب کو اس شاندار اقدام کی بھی تعریف کرنی چاہیے جہاں قوم کے اربوں روپے بچائے گئے ہیں۔وزیراعلیٰ نے نندی پور پاور پراجیکٹ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 50،60ارب روپے کے اس منصوبے کیلئے کوئی بڈنگ نہیں کرائی گئی اوراس زمانے کی حکومت نے اس منصوبے کو بغیر بڈنگ کے آگے ایوارڈ کردیا۔عدالت نے یہ کیس نیب کو دیا اورجسٹس رحمت حسین جعفری نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ اس منصوبے میں تاخیر کے ذمہ دار بابر اعوان ہیں۔

اربوں روپے اس منصوبے میں بابر اعوان کی وجہ سے ضائع ہوئے اورکراچی پورٹ پر پلانٹ پڑا پڑا زنگ آلود ہوگیا۔اس سے بڑا اور کیا جرم ہوسکتا ہے ۔اسی طرح پیپلزپارٹی کے دور میں اسلام آباد میں سیف سٹی پراجیکٹ لگایا گیا،،سپریم کورٹ نے اس کا نوٹس لیا۔16ارب روپے کے اس منصوبے کے تحت صرف 2ہزار کیمرے لگائے گئے ہیں جبکہ پنجاب حکومت کا لاہورمیں لگنے والا سیف سٹی پراجیکٹ اسلام آباد کے مقابلے میں چار گنا بڑا ہے اوراس میں 8ہزار کیمرے لگائے گئے ہیں اوراس منصوبے کو 13ارب روپے میں مکمل کیاگیا ہے اوراربوں روپے بچائے بھی گئے ہیں۔

ایک اورسوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اربوں کھربوں ر وپے جو دب گئے ہیں، ان کو واپس لانا نیب کی قانونی اورآئینی ذمہ داری ہے ۔اگر یہ پیسے واپس آئیں گے تو سب نیب کی ستائش کریں گے تاہم منتخب احتساب کے بہت خطرناک نتائج ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ چنیوٹ میں لوہے کے ذخائر پر بھی اربو ں روپے کے ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کی گئی اور2010ء میں لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر یہ کیس نیب کو دیاگیا۔

نیب نے اس کو بند کردیا اورکلین چٹ دے دی ،اب اس کا دوبارہ نوٹس لیا گیا ہے جو کہ اچھی بات ہے۔اسی طرح این آئی سی ایل ،رینٹل پاورپراجیکٹس اورای او بی آئی میں اربوں کھربوں روپے کی کرپشن ہوئی اگر یہ اربوں کھربوں واپس آتے ہیں تو نیب کو دعائیں ملیں گی ۔ایک اورسوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ پنجاب کے سکولوں میں لاکھوں بچوں کو داخلے دےئے گئے ہیں اورمحکمہ سکولز نے تاریخی کام کیا ہے ۔

اینٹوں کے بھٹوں پر کام کرنے والے 90ہزار بچوں کو سکول داخل کرایاگیا ہے ۔ان بچوں کو فری کتابیں،یونیفارم اوروظیفہ بھی دیا جارہا ہے ۔ایسی مثال بھارت میں بھی موجود نہیں ہے ۔ پنجاب ایجوکیشنل انڈومنٹ فنڈکے تحت 3لاکھ50ہزار بچوں کووظیفے دےئے گئے ہیں ۔۔پنجاب ایجوکیشن فاوٴنڈیشن کی ووچر سکیم کے تحت 26لاکھ بچوں کو سکولوں میں داخل کرایا گیا ہے ،تاہم جہاں سونامی آنا تھا ،تبدیلی آنی تھی اورنیا پاکستان بننا تھا، انہوں نے اپنے صوبے میں تعلیم کو یکسر نظر انداز کیا ہے ۔

اسی طرح سندھ اوربلوچستان میں بھی تعلیم کے شعبے پر توجہ نہیں دی گئی ۔۔پنجاب حکومت کے تعلیمی شعبے میں اقدامات کا موازنہ خیبر پختونخواہ،،سندھ اوربلوچستان کے ساتھ نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ہم نے تعلیم کے میدان میں بہت کامیابیاں حاصل کی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے عوام کی ترقی اورخوشحالی کیلئے کام کیا ہے ان پر تنقید ی نشتر لگائیں گے تو مایوس ہوجائیں گے ۔

آپ کو ایسے لوگوں کی تعریف کرنی چاہیے تاہم جہاں خرابی ہو اس کو درست کرنا اورپکڑنا ضروری ہے ۔ ایک اورسوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ نوجوان بچے بلاول زرداری نے انکل عمران کو مخاطب کرتے ہوئے یہ کہا کہ آپ کس کو دھوکہ دے رہے ہیں ،آپ نے تو ہمیں ووٹ دےئے تھے ۔ایک اورسوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سیاسی ڈائیلاگ وقت کی ضرورت ہے ۔اداروں کے درمیان عدم تعاون نہیں بلکہ تعاون اوراشتراک ہونا چاہیے اوراسی کو پرموٹ کرنا چاہیے کیونکہ اسی میں ملک کی بقاء ہے ۔

پاکستان کو درپیش چیلنجز اورمسائل سے نمٹنے کیلئے پارلیمنٹ ،عدلیہ اوراسٹیبلشمنٹ کو ایک ہونا ہے کیونکہ ان چیلنجز سے نمٹنا کسی ایک ادارے کے بس کی بات نہیں۔مسائل کے حل کیلئے سب کو یکجان اوردوقالب ہونا ہوگااوراسی طرح ہم اپنے مسائل سے نمٹنے سکتے ہیں ۔ایک اورسوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ قصور میں انتہائی غلط اورغلیظ زبان استعمال کی گئی اورکوئی مذہب معاشرہ یہ برداشت نہیں کرسکتااورہم نے انصاف کے بے لاگ نظام کو مضبوط کرنا ہے ۔

عدل اورانصاف کے بول بالے کے لئے سب کو اکٹھا ہونا پڑے گا۔قصور میں جو کچھ ہوا وہ انتہائی غلط تھا جس پر میں نے فوراً ایکشن لیا۔میں نے پولیس کو ہدایت کی کہ جنہوں نے بھی یہ زبان استعمال کی ہے ان کیخلاف بلاامتیاز ایکشن لیا جائے ۔اس پر سمجھوتے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ اگر ہم آج اس پر سمجھوتہ کیا تو اس قوم کی بنیادیں ہل جائیں گی ۔انہوں نے کہا کہ عدلیہ کے کسی فیصلے سے اتفاق کریں یا نہ کریں یہ آپ کی مرضی ہیں لیکن اداروں کا احترام لازم ہے۔