دہشت گرد کا کسی بھی مذہب ‘ نسل اور قوم سے کوئی تعلق نہیں ، بلوچستان کی سیاسی و مذہبی جماعتوں کی کوئٹہ واقعہ کی شدید مذمت

بلوچستان کی عوام نے دہشت گردی کے خلاف بہت بڑی قربانیاں دی ہیں اب وقت آگیا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف موثر کارروائی کی جائیں جب تک نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد نہیں کیا جاتا اس وقت تک دہشت گردی کے واقعات میں کمی نہیں آتی ، مشترکہ بیان

منگل اپریل 22:03

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 اپریل2018ء) بلوچستان کی سیاسی و مذہبی جماعتوں کے رہنمائوں نے کوئٹہ میں ہونے والے سیکورٹی فورسز اور پولیس اہلکاروں پر خودکش حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گرد کا کسی بھی مذہب ‘ نسل اور قوم سے کوئی تعلق نہیں فورسز اور بلوچستان کی عوام نے دہشت گردی کے خلاف بہت بڑی قربانیاں دی ہیں اب وقت آگیا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف موثر کارروائی کی جائیں جب تک نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد نہیں کیا جاتا اس وقت تک دہشت گردی کے واقعات میں کمی نہیں آتی ان خیالات کا اظہار بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عبدالرحیم زیارتوال ‘جمعیت علماء اسلام کے پارلیمانی لیڈر مولانا عبدالواسع ‘ عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر انجینئرزمرک خان اچکزئی ‘ پیپلزپارٹی کے صوبائی صدر میر علی مدد جتک ‘ مسلم لیگ (ق) کے صوبائی جنرل سیکرٹری اور صوبائی وزیر شیخ جعفرخان مندوخیل ‘ بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر ملک عبدالولی کاکڑ ‘ ملک مجید خان کاکڑ صوبائی وزراء طاہر محمود ‘میرضیاء اللہ لانگو ‘ غلام دستگیر بادینی ‘ عاصم کرد گیلو ‘ منظور احمد کاکڑ ‘ سابق صوبائی وزیر حاجی محمد خان طوراوتمانخیل ‘ سحرگل خان خلجی ‘ موسیٰ جان خلجی ‘ ملک خان ولی ناصر اوردیگر نے کوئٹہ کے مختلف علاقوں میں سیکورٹی فورسز اور پولیس اہلکاروں پر ہونے والے خودکش حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ میں خودکش حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بم دھماکے ملک کے خلاف گہری سازش کا تسلسل ہیںانہوں نے کہا کہ پاکستان کے خلاف سازشوں کے تانے بانے افغانستان اور بھارت سے ملتے ہیں فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں ہونے والے خود کش حملوں کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ حملے میں ملوث عناصر کو فوری طور پر کیفر کردار تک پہنچایا جائے انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان پر اس کی اصل روح کے مطابق عملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ ملک سے انتہا پسندی اور دہشت گردی کاخاتمہ یقینی بناتے ہوئے عوام کو جان و مال کا تحفظ فراہم کیا جاسکے میاں غنڈی اور ایئر پورٹ روڈ پر پیش آنے والے واقعات کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پارٹی ان واقعات میں شہید و زخمی ہونے والے تمام افراد کے اہلخانہ سے دلی تعزیت کااظہار کرتی ہے قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ایک بہت بڑا لمحہ فکریہ ہے جو ہمارے حکمرانوں کی توجہ چاہتا ہے اگر سیاسی و عسکری قیادت کی جانب سے متفقہ طور پر تشکیل دیئے گئے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد یقینی بنایا جاتا توشاید آج ا س طرح کے حالات پیش نہ آتے اب بھی وقت ہے انہوں نے کہا کہ دہشت گرد کا کسی بھی مذہب ‘ نسل اور قوم سے کوئی تعلق نہیں فورسز اور بلوچستان کی عوام نے دہشت گردی کے خلاف بہت بڑی قربانیاں دی ہیں اب وقت آگیا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف موثر کارروائی کی جائیں جب تک نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد نہیں کیا جاتا اس وقت تک دہشت گردی کے واقعات میں کمی نہیں آتی۔