بھارت مقبوضہ کشمیر میں نہتے اور معصوم شہریوں کو دہشت گرد ی کا نام دے کر شہید کرنے کا سلسلہ فوری بند کرے ، عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو بھارت کی ریاستی دہشت گردی کا فوری نوٹس لینا چاہیے،

وفاقی وزیر برائے اُمور کشمیر و گلگت بلتستان چوہدری محمدبرجیس طاہر کی مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیری نوجوانوں کو ماورائے عدالت قتل کے واقعات کی بھر پور مذمت

جمعرات اپریل 15:56

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 اپریل2018ء) وفاقی وزیر برائے اُمور کشمیر و گلگت بلتستان چوہدری محمدبرجیس طاہر نے مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیری نوجوانوں کو ماورائے عدالت قتل کے واقعات کی بھر پور الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں نہتے اور معصوم شہریوں کو دہشت گرد ی کا نام دے کر شہید کرنے کا سلسلہ فوری بند کرے ، انہوں نے اپنے ایک بیان میںکہا ہے کہ عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو بھارت کی اس ریاستی دہشت گردی کا فوری نوٹس لینا چاہیے جس کے تحت وہ ہر مہینے درجنوں کشمیری نوجوانوں کو شہید کر رہا ہے، انہوں نے کہا کہ بھارت ظلم و تشدد کے جس راستے پر چل رہا ہے اس پر نہ تو پچھلے 70 سال میں اسے کامیابی حاصل ہوئی ہے اور نہ ہی آئندہ کبھی حاصل ہو گی ۔

(جاری ہے)

چوہدری محمد برجیس طاہر نے کہا کہ بھارت کشمیری نوجوانوں کو ماورائے عدالت قتل کر کے اُن کو دہشت گرد کا نام دیتا ہے ، لیکن آج پوری دنیا دیکھ رہی ہے کہ ان شہد ا کے جنازوں میں ہزاروں کی تعداد میں مقبوضہ کشمیر کے عوام شرکت کرتے ہیں اور اِن نہتے نوجوانوں کی شہادت کے خلاف پوری مقبوضہ وادی میں ہڑتال اور احتجاج کیا جاتا ہے جو بھارت کے جھوٹے دعووں کی کھلی نفی کرتا ہے ، انہوں نے کہا کہ بھارت درحقیقت اِن پر تشدد کارروایوں کے ذریعے کشمیریوں کی نسل کشی کی سازش کر رہا ہے تاکہ مقبوضہ کشمیر میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی لائی جا سکے ۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ ہی وجہ ہے کہ بھارت آئے روز مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی تعداد میں اضافہ کر رہا ہے تاکہ ایک طرف مقبوضہ کشمیر میں جاری پرامن تحریک آزادی کو کچلا جا سکے اور دوسری جانب مقبوضہ کشمیر کی ڈیموگرافی تبدیل کی جا سکے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں اپنے مذموم مقاصد میں ہر گز کامیابی حاصل نہ ہو گی او رشکست اور ندامت بلاآخراُس کا مقدر بنے گی، انہوں نے کہا کہ بھارت کے اس متوقع انجام سے بھارت کے چند سابق اور موجودہ سفارتکار اور فوجی حکمران بھی باخبر ہیں اور اچھی طرح جانتے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر کا کوئی بھی حل فوجی طاقت کے ذریعے ممکن نہیں ہے ، اور اس درینہ مسئلے کو حل کرنے کے لیے باآخر مسئلہ کشمیر سے متعلق تمام فریقین سے مذاکرات کرنے پڑیں گے۔

انہوںنے کہا کہ ترقی و خوشحالی کے اعتبار سے آنے والا دور ایشیاء کا ہے جس میں جنوبی ایشیاء کو اپنے محل وقوع کے اعتبار سے ایک امتیازی مقام حاصل ہے، انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیاء کا خطہ ترقی و خوشحالی کے اس شاندار موقع سے اُسی وقت مستفید ہو سکے گا جب بھارت ایک بامقصد مذاکرات اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کو حل کرے گا، انہوں نے کہا کہ پاکستان ماضی کی طرح ہمیشہ اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے اور اُن کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق استصواب رائے کا حق دلوانے کے لیے دنیا کے تمام فورمز پر اپنی بھرپور آواز بلند کرتا رہے گا۔