ْیونین کونسل بھیڈی کے مسائل اور مشکلات کے حل کے لیے ہزاروں افراد کا احتجاجی مارچ اور ریلی

پیر جون 15:52

باغ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 جون2018ء) بھیڈی کی 70سالہ محرومیوں کا ازالہ کرو یا ضلع باغ کے ساتھ شامل کرو درہ حاجی پیر یوتھ فورم کی کال پر یونین کونسل بھیڈی کے سلگتے مسائل اور مشکلات کے حل کے لیے ہزاروں افراد کا تعلیم ،صحت،ٹیلی فون،،بجلی،،،سڑک ،پوسٹ آفس ،،بنک برانچ کے قیام اور علاقہ کو درہ حاجی پیر ویلی کا نام دینے کے مطالبات کے حق میں احتجاجی مارچ اور ریلی،احتجاجی ریلی کا آغاز سیز فائر لائن کے ملحقہ علاقہ خواجہ بانڈی سے ہوا مظاہرین نے 5کلو میٹر دور موٹاں والی تک احتجاجی مارچ وریلی نکالی مظاہرین نے اپنے مطالبات پر مشتمل عبارات والے بینرز پلے کارڈ اور سیاہ جھنڈے اٹھا رکھے تھے مظاہرین جب موٹاں والی بازار پہنچے تومشتعل مظاہرین نے ٹائر جلا کر بھیڈی کو دیگر علاقوں سے ملانے والی سڑک کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کردیا مظاہرین اپنے مطالبات کے حق میں پرجوش انداز میں نصف گھنٹے تک فلک شگاف نعرہ بازی کرتے رہے اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر اور ڈی ایس پی ضلع حویلی پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ موقع پر موجود رہے مظاہرین نے دھمکی دی ہے کہ 15دن میں ہمارے مطالبات حل نہ ہوئے تو مظفرآباد تک لانگ مارچ اور اسمبلی سیکٹریٹ کے سامنے احتجاجی دھرنا دیں گے موٹاں والی میں منعقد ہونے والے اپنی نوعیت کے پہلے منفرد اور تاریخی احتجاجی جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے مظاہرین نے کہا کہ آج کی جدید دنیا میں بھی آزاد کشمیر کی جنت نظیر وادی یونین کونسل بھیڈی کی 40ہزار سے زائد آبادی پتھر کے عہد میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے آزادی کی70سال بعد بھی بھارتی مقبوضہ کشمیر کی تحصیل اوڑی سے محض تین کلو میٹر کے فاصلے پر سیز فائر لائن کے اس پار واقع یہ علاقہ صحت،،تعلیم،،،بجلی،،ٹیلی فون ،،سڑک اور دیگر بنیادی سہولیات سے مکمل محروم ہے بھیڈی نالہ پر پل نہ ہونے کی وجہ سے ہر موسمی برسات میں کئی قیمتی جانیں اس نالہ کی خونی موجوں کی نذر ہو جاتی ہیں اتنی بڑی آبادی کے لیے برائے نام ایک ڈسپنسری تو موجود ہے مگر ڈاکٹر اور لیڈی ڈاکٹر نے اس علاقہ کا کبھی رخ کیا نہ حکومت نے ادویات مہیا کیں دسپنسری میں عوام کی سہولیت کے لیے ڈسپرین کی ایک گولی تک موجود نہیں علاقہ میں کہنے کو تو دو ہائی سکول اور دو مڈل سکول موجود ہیں جبکہ ایک خواجہ بانڈی ہائی سکول قائم کر کے موجودہ حکومت نے ختم کردیا ایک سکول میں خانہ پری کے لیے 26کے سٹاف 6اور دوسرے میں 7 اساتذہ کبھی کبھی حاضری اور تنخواہ کے لیے چکر لگاتے ہیں اور سارا نظام معمولی پڑھے لکھے نوجوانوں کو 5سی6ہزار تنخواہ پر ٹھیکہ پر دے رکھا ہے ستم بالا ستم یہ کہ کسی ادارے میں صدر معلم یا سنیئر ٹیچر اور سائنس ٹیچر سرے سے موجود ہی نہیں ان اداروں میں کاغذات میں تعینات اساتذہ کہوٹہ یا باغ شہر میں اپنے کاروبار چلاتے ہیں اور محکمہ تعلیم کے ضلعی آفیسران کو خوش کر کے گھر بیٹھے بھاری تنخوائیںوصول کر رہے ہیں آج جب انفارمیشن ٹیکنالوجی کی بدولت دنیا گلوبل وویلج بن چکی ہے اس علاقہ کے عوام کو موبائل تو کجا لینڈ لائن فون کی سہولت بھی میسر نہیں لوگ آج بھی پیغام رسانی کے لیے کبوتر اور دیگر قدیمی زرائع استعمال کرنے پر مجبور ہیں علاقے میں پوسٹ آفس اور کسی بنک کی کوئی برانچ موجود نہیں درہ حاجی پیر کے اس پار واقع آزاد کشمیر کی یہ خوبصورت وادی حکمرانوں کی مسلسل عدم توجہی سے احساس محرومی کا شکار ہے اور سہولیات کی عدم فراہمی کی وجہ سے یہاں کی آبادی نقل مکانی کرنے پر مجبور ہے اس علاقہ کی آبادی کو بجلی کی سہولت آج تک مہیا نہیں کی گئی درہ حاجی پیر سے بھیڈی کو ملانے والی واحد سڑک کو 70سال میں پہلی مرتبہ 2012 میں پختہ کیا گیا مگر ناقص تعمیر کی وجہ سے یہ سڑک آج کھنڈرات کا منظر پیش کر رہی ہے اس سڑک پر 4 بائی4 گاڑی کے علاوہ سفر نہایت مشکل ہے عوام اپنی زندگیوں کو خطرے میں ڈال کر ان سنگلاخ علاقوں میں چلنے والی گاڑیوں پر سفر کرنے پر مجبور ہیںجس کی وجہ سے اس علاقہ میں حادثات کی شرح بہت زیادہ ہیں سیز فائر لائن کے بالکل قریب ہونے کی وجہ سے پاک فوج کی ان علاقوں میں موجودگی کی وجہ سے عوام کو مشکلات وقدرتی آفات کے دوران فوج کی ہی مدد اور ریلیف حاصل ہوتی ہے سول حکومتیں اس علاقہ کو محض ووٹ لینے اور بعد ازاں علاقہ کے نام پر فنڈز اور آسامیوں کی بندربانٹ اور لوٹ کھسوٹ کے لیے استعمال کرتی ہے حکومت مستحقین کی دو سال کی زکواة بھی کھا گئی احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے عبدالرشید اعوان،سدھیر خان،عبدالرحمن اعوان،صدام بخاری،یوتھ فورم کے جنرل سیکرٹری ملک محمدعلی اعوان ،رفیع انجم،راجہ عاطف،فیاض اعوان،جاوید اعوان،خواجہ زاہد اقبال،ثاقب اعوان،صادق اعوان،نذر دین،غلام رسول،پریس کلب باغ کے سیکرٹری جنرل محمود راتھر،طاہر گردیزی،فریاد کاظمی،پرویز مغل،عامر گردیزی،چوہدری عمر دین،کیپٹن صادق،غلام رسول ایڈووکیٹ،اصغر اعوان،غلام حسین،نوید گل،چوہدری صدیق،،سرور خان،،توصیف خان،چوہدری حنیف،دانش نذیر کیانی،چوہدری سلیمان،قاری عزیز،مولوی عامر رشید،چوہدری فیاض،چوہدری مصری،صوبیدار صدیق،خالد فاروقی،ملک فیاض اعوان،ملک ناصر،خواجہ شفیق،تنویر مرچیال،چوہدری خالد،زیشان،دلشاد اعوان،شکور اعوان،حافظ صداقت اور دیگر نے خطاب کیا مقررین نے حکومت آزاد کشمیر کو 15دن کی مہلت دی ہے کہ یونین کونسل بھیڈی میں فوری طور پر ٹیلی فون ایکس چینج اور موبائل فون سروس مہیا کی جائے علاقہ میں رورل ہیلتھ سنٹر قائم کر کے ڈاکٹر،،لیڈی ڈاکٹر اور ادویات مہیا کی جائیں یونین کونسل بھیڈی کی12دیہات پر مشتمل 40ہزار آبادی کو بلا تخصیص و بلا تعطل بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جائے ہائی سکول موہری میدان اور ڈوبہ بھیڈی میں صدر معلمین سنیئر وسائنس ٹیچرز مہیا کیے جائیں ہائی سکول خواجہ بانڈی اور پرائمری سکول سرجیوارڈ کی منسوخی کا نوٹیفکیشن ختم کر کے دونوں ادارے بحال کیے جائیں حکومت کے لیے شرم کا مقام ہے کہ اس نے سیز فائر لائن پر واقع گائوں خواجہ بانڈی اور سرجیوارڈ میں تعلیمی ادارے دینے کے بجائے پہلے سے موجود ادارے ختم کر دئیے درہ حاجی پیر تا بھیڈی مین سڑک سمیت تمام رابطہ سڑکیں پختہ کی جائیں انہوں نے کہا کہ بھیڈی ہائیڈرل پراجیکٹ کی ناقص تعمیر اور واٹر چینل کا حجم 12انچ سے کم کر کی6انچ کرنے کا نوٹس لیا جائے اور پراجیکٹ میں تخلیق ہونے والی 27آسامیوں پر بھیڈی کے لوگوں کو ملازمتیں فراہم کی جائیں اور متاثرین اراضی کو فوری طور پر معاوضہ جات کی ادائیگی کی جائے علاقہ میں فوری طور پر پوسٹ آفس اور نیشنل بنک کی برانچز کھولی جائیںیونین کونسل بھیڈی کا نام تبدیل کر کے درہ حاجی پیر ویلی رکھاجائے انہوں نے کہا کہ اگر 15دن کے اندر ہمارے تمام مطالبات حل نہ ہوئے تو 10جولائی کو بھیڈی سے مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کریں گے اور وزیر اعظم سیکٹریٹ کے باہر احتجاجی دھرنا دیں گیانہوں نے کہا کہ حکومت ہمارے مطالبات حل کرے یا پھر ہمیں ضلع باغ کے ساتھ شامل کر دے مقررین نے کہا کہ ضلع حویلی کہوٹہ کے تمام محکمے اور حکومتی نمائندے بھیڈی کے عوام کا استحصال اور تذلیل کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں دریں اثناء مظاہرے کی کوریج کے لیے جانے والے صحافیوں نے جب یونین کونسل بھیڈی کی پسماندگی سڑکوں اور تعلیمی ادروں کی تباہ حالی کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تو دل خون کے آنسوں رو پڑا تعلیمی ادارے اصطبل اور ڈسپنسری کی عمارت ادویات کے بغیر نظر آئی علاقہ میں رسل ورسائل نہ ہونے کے برابر ہیں عوام جدید دنیا سے سینکڑوں سال پیچھے کے عہد میں زندگی گزار رہے ہیں