2018کے الیکشن میں بھی ہمارا مینڈیٹ چرایا گیا کہ ہم اکثریت حاصل نہ کرسکیں اور حکومت نہ بناسکیں،سردا ر اختر مینگل

3کے الیکشن میں بھی ہمارے ساتھ یہی ہوا تھا ،ہمار امینڈیٹ چرایا گیا ،ہم نے میدان خالی نہیں چھوڑا ،سیاست میں بات چیت کے دروازے کبھی بھی بند نہیں کئے جاتے ہیں ،حکومت بنانا ہر سیاسی جماعت کابنیادی حق ہے اور وہ کسی بھی طرح اس سے کوئی نہیں چھین سکتا ہے ،پریس کانفرنس سے خطاب

منگل جولائی 17:36

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 31 جولائی2018ء) بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سابق وزیراعلی بلوچستان اور نومنتخب رکن قومی وصوبائی اسمبلی سردار اختر جان مینگل نے کہاہے کہ 2018کے الیکشن میں بھی ہمارا مینڈیٹ چرایا گیا تاکہ ہم اکثریت حاصل نہ کرسکے اور صوبے میں حکومت نہ بناسکے،2013کے الیکشن میں بھی ہمارے ساتھ یہی ہوا تھا ،ہمار امینڈیٹ چرایا گیا مگر ہم نے میدان خالی نہیں چھوڑا سیاست میں بات چیت کے دروازے کبھی بھی بند نہیں کئے جاتے ہیں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی بلوچستان عوامی پارٹی (باپ ) کے وفد کے ہمراہ میرے پاس آئے تھے اور حکومت سازی میں تعاون چاہتے تھے ہم انہیں کہہ دیا ہے کہ ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے ہمارے ساتھ بہت سی سیاسی جماعتوں کے رابطے ہیں ،جو فیصلہ بھی کریں گے سب کے سامنے ہوں گے ،ہر سیاست اور ہر سیاسی جماعت کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ حکومت بنائے یا حکومت کا حصہ بن جائے ورنہ اپوزیشن میں تو بیٹھنے کی گنجائش ہوتی ہے ،اس وقت ارکان اسمبلی میں ہمارے ارکان کی تعداد 7سے مخصوص اور خواتین کے نشستوں پر انتخابات کے بعد ہماری پارٹی کے ارکان کی تعداد زیادہ ہوجائے گی ،اس وقت ہم 7ہے ،سات سے 14بھی ہوسکتے ہیں ،انہوں نے یہ بات منگل کے روز سریاب روڈ پر اپنی رہائش گاہ خاران ہائوس میں پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی ،اس موقع پر بلوچستان نیشنل پارٹی کے نومنتخب رکن قومی اسمبلی اور مرکز ی سیکرٹری اطلاعات آغا حسن بلوچ ،رکن صوبائی اسمبلی ثناء بلوچ ،احمد نواز بلوچ ،ملک نسیم شاہوانی ،پارٹی کے سینئر نائب صدر ملک عبدالولی کاکڑ ،جاوید احمد اور پارٹی کے مرکزی وصوبائی عہدیدار بھی موجود تھے ،سردار اختر جان مینگل نے کہاکہ 2018کے الیکشن میں بلوچستان کے عوام نے حب سے لیکر جیونی ،جیونی سے دالبندین ،دالبندین سے لیکر چمن اور دیگر علاقوں میں جس طرح ہمارے قومی وصوبائی اسمبلی کے امیدواروںکو ووٹ دیئے تھے میں انکا شکریہ ادا کرتاہوں کہ انہوں نے ہمارے امیدواروں کو ایمانداری سے ووٹ دیئے مگر اس دفعہ پھر ہمارا مینڈیٹ چوری کیا گیا ہے تاکہ ہمارے ارکان کی تعداد اسمبلی میں کم ہو اور ہم حکومت نہ بناسکے مگر ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ہم حکومت سازی سے باہر نہیں رہیں گے اور حکومت بنانا ہر سیاسی جماعت جو منتخب ہوکر اسمبلی آتی ہے اسکا بنیادی حق ہے اور وہ کسی بھی طرح اس سے کوئی نہیں چھین سکتا ہے ،انہوں نے کہاکہ 2018کے الیکشن میری زندگی کا پہلا الیکشن ہے جو میری سمجھ سے بالاتر ہے ،کیونکہ پولنگ کے بعد تین دن تک ہمارے ایم این ایز اور ایم پی ایز کے نتائج کا اعلان نہیں کیا گیا اور نہ ہی آر او نے 45نمبر فارم نہیں دیا گیا صرف سادھے کاغذ پر جیت اور ہار لیکر دے دیا گیا ،ہمیں جان بوجھ کر ہرانے کیلئے حکمت عملی تیار کی گئی تھی جن میں این اے 264،265،276،271،حلقہ پی بی 46،45،71،76،77اور کئی ایسے حلقے ہیں جن میں ہمارے امیدواروں کو ایک منصوبہ بندی کے تحت ہروایا گیا ،انہوں نے کہاکہ حکومت سازی کرنا ہر سیاسی جماعت کا حق ہے ،جس کیلئے ہم نے صف بندی کرلی ہے ،ابھی تک کئی حلقوں کے نتائج آنا باقی ہے اور مخصوص خواتین واقلیت کے سیٹوں کے امیدواروں کی کامیابی ابھی آنی ہے ،ہم جلد بازی نہیں کرتے اور نہ ہی ہمیں کوئی جلدی ہے ہم بہت تحمل سے کام کرتے ہیں ،انہوں نے کہاکہ سی پیک کے بارے میں ہمارے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے اس کے علاوہ لاپتہ افراد کی بازیابی بلوچستان کے سائل وساحل پر ،بلوچستان کے عوام کی حقوق تسلیم کران ،گڈانی حب ،اوتھل ،لسبیلہ اور دیگر علاقوں میں جو بھی معدنیات چاہیے سمندری یا پہاڑوں سے نکلتے ہوں اس پر ہمارا حق ہے ،جو بھی سیاسی جماعت ہمارے اس مطالبے پر ہمارا ساتھ دیں گے اور ان مسئلوں کو حل کرانے کی یقین دہانی کرائیں گے ہم اس کا ساتھ دینے کیلئے تیار ہے ،انہوں نے کہاکہ ابھی بھی کسی جماعت سے بات چیت اور سیٹ ٹو سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے بارے میں بات چیت ہوسکتی ہے ،اے این پی نے بلوچستان عوامی پارٹی سے اتحاد کرنے کی بات کی ہے انکی مرکزی قیادت نے مخالفت کی ہے اسی طرح اور بھی سیاسی جماعتوں جنہوں نے کسی سے بھی اتحاد کیا ہو شاہد وہ اتحاد ختم ہوجائیگا اور انکا اتحاد ہمارے ساتھ ہوگا کیونکہ سیاست ایک ایسی چیز ہے جہاں پر بات چیت کے دروازے بند نہیں کئے جاسکتے ہیں ،یہ بلوچستان اور قبائلی صوبہ ہے یہاں پر بھائی چارہ ہے ہمارے ممبران کی تعداد فل الحال 7ہیں اور 7سے 7سے کیا ہوسکتی ہے یہ آپ کو بھی معلوم ہے ،ہمارے مسائل جو حل کرے گا وہ ہمارے ساتھ ہوگا ،انہوں نے کہاکہ ہم نے اے پی سی میں بھی یہ مطالبات رکھے تھے اور تمام سیاسی جماعتوں نے ڈکلیشن پر دستخط کئے تھے اور ہمارے ساتھ نبھانے کا وعدہ بھی کیا ،انہوں نے کہاکہ تحریک انصاف کا سربراہ عمران خان نے ملاقات کی دعوت دی ہے ان سے ملاقات کیلئے بدھ کے روز اسلام آباد جارہے ہیں ان سے ملاقات کریں گے اور اپنے بلوچستان کے مسائل کے بارے میں ان سے بات چیت بھی کریں گے ،دیکھیں گے وہ ہمارے مسائل کہاں تک حل کرسکتے ہیں ،انہوں نے کہاکہ پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنماء خورشید شاہ ،تحریک انصاف کے جہانگیر ترین سمیت کئی سیاسی جماعتوں نے ہم سے بات چیت اور مذاکرات کی خواہش کا اظہار کیا ہے ہم نے اس سلسلے میں بلوچستان نیشنل پارٹی دو کمیٹیاں تشکیل دے دی ہے ،ایک مرکزی کمیٹی جو مرکزسے مذاکرات کرے گی اور دوسری کمیٹی صوبائی ہوگی جو صوبے میں حکومت سازی کیلئے بات چیت کرے گی ،انہوں نے کہاکہ ہم بلوچستان میں ایک کینسر ہسپتال چاہتے ہیں کہ بنایا جائے سابقہ وزیراعلی بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے بھی کینسر ہسپتال بنانے کا یقین دلایا تھا امید ہے کہ وہ اپنا وعدہ پور اکریںگے ،سردار اختر جان مینگل نے دعوی کیا ہے کہ 2018کے الیکشن میں ہمارے ووٹوں کو مسترد کیا ہے جب ان سے پوچھا گیا کہ بلوچستان عوامی پارٹی کے بارے انتخابات سے پہلے آپ کی سخت رائے تھی وہ رائے ابھی بھی قائم ہے یا تبدیلی آگئی ہے تو انہوں نے کہاکہ سیاست میں سب کچھ ہوتاہے ہم کسی کے ذات کیخلاف نہیں تھے بلکہ ابھی بھی ہم اپنے اصولوں پر قائم ہے ،انہوں نے کہاکہ سب سے اہم مسئلہ بلوچستان میں کرپشن کا خاتمے کا ہے ،انہوں نے کہاکہ ہم بڑا دعوی نہیں کرتے ہیں کہ ہم برسراقتدا ر آنے کے بعد کرپشن کو ختم کریں گے عوام کو یقین دلائیں گے کہ اس میں کمی ضرور لائیں گے ،صوبے میں امن وامان کو بہتر بنانے کیلئے ہماری سب سے پہلے اولین کوشش ہوگی کہ صوبے میں امن وامان کو بہتر بنایا جائے ،کیونکہ جب تک صوبے میں امن وامان نہیں ہوگا تو ترقیاتی کام نہیں ہوسکیں گے ،سردار اختر جان مینگل نے مزید کہاکہ حکومت سازی کا مرحلہ تسلی اور آرام سے ہوتاہے ہمیں کوئی جلدی نہیں ہے دونوں طرف سے رابطوں کا سلسلہ جاری ہے اسلام آباد جاکر دیکھیں گے کہ وہاں کا کیا ماحول ہے اور کیا ہونے والا ہے اسکے بعد ہم اپنے دیگراتحادیوں سے بھی جو ہمارے قریب ہے ان سے مشورہ کرنے کے بعد ہم فیصلہ کرلیں گے کہ ہم نے حکومت بنانے یا حکومت کا ساتھ دینا ہے یا اپوزیشن میں بیٹھنا ہے ۔