Live Updates

پنجاب اسمبلی میںمولانا سمیع الحق کے قتل کیخلاف مذمتی قرارداد متفقہ طور منظور ،قاتلوں کو جلد از جلد گرفتار کیا جائیگا‘ وزیر قانون

اجلاس میں حکومتی اور اپوزیشن اراکین کے درمیان نوک جھونک اور مخالفانہ نعرے بازی ہوتی رہی ،اجلاس میںامن و امان پر بحث کی گئی رانا مشہود کو ان کی سرکاری رہائش گاہ جی او آر میں بطور وزیر لاکھوں روپے کے لفافے پہنچائے جاتے تھے ‘ وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان

جمعرات 8 نومبر 2018 20:49

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 08 نومبر2018ء) پنجاب اسمبلی نے جمعیت علمائے اسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق کے قتل کیخلاف مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی جبکہ صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت نے ایوان کو آگاہ کیا ہے کہ اس واقعہ کی تفتیش مثبت انداز میں آگے بڑھ رہی ہے،مولانا سمیع الحق کے قاتلوں کو جلد از جلد گرفتار کیا جائے گا،اجلاس میں حکومتی اور اپوزیشن اراکین کے درمیان نوک جھونک اور مخالفانہ نعرے بازی ہوتی رہی ۔

پنجاب اسمبلی کا اجلاس مقررہ وقت دس بجے کی بجائے ایک گھنٹہ پچاس منٹ کی تاخیر سے سپیکر چوہدری پرویز الٰہی کی صدارت میں شروع ہوا ۔ پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں وزیر قانون نے قواعد کی معطلی کی تحریک کی منظوری کے بعد مولانا سمیع الحق کے قتل کیخلاف مذمتی قرارداد پیش کی جس کو متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا۔

(جاری ہے)

قرارداد کے متن میں کہا گیا پنجاب کا یہ ایوان جید عالم دین مولانا سمیع الحق کے قتل کی شدیدالفاظ میں مذمت کرتا ہے،پاکستان ایک ممتاز عالم دین سے محروم ہو گا،مرحوم دو مرتبہ سینیٹر بھی رہے،مولانا کے قاتلوں کو جلد سامنے لایا جائے گا اور ان کو کیفرکردار تک پہنچانے کا اعادہ کرتا ہے۔

اس موقع پر حکومتی اتحادی مولانا معاویہ اعظم طارق نے مطالبہ کیا کہ حکومت 20 روز میں قتل کی تحقیقاتی رپورٹ ایوان میں پیش کرے،مولانا سمیع الحق کی سکیورٹی کا انتظام حکومت کی ذمہ داری تھی لیکن حکومت بری طرح ناکام ہوئی ہے،جس شخص نے سکیورٹی کی مخالفت کی وہ خود ہر جگہ ایک فورس لیکر گھوم پھر رہے ہوتے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ مولانا سمیع الحق کے قتل سے پاک افغان تعلقات بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

رانا مشہود احمد نے کہا مولانا سمیع الحق کے قتل پر ہائوس کی کمیٹی یا کمیشن بننا چاہیے تھا لیکن حکومت نے ایسا کوئی اقدام نہیں اٹھایا،یہ حکومت کی کھلی نااہلی ہے۔پیپلزپارٹی کے حسن مرتضی نے کہا کہ ہمیں قراردادوں سے آگے بڑھنا چاہیے،بھٹو کا بھی عدالتی قتل کیا گیا تھا جس کو آج عدالت بھی تسلیم کررہی ہے،پیپلزپارٹی نے ہمیشہ لاشیں اٹھائی ہیں،اب یہ سیاسی قتلوں کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔

وزیر قانون راجہ بشارت نے کہا کہ تفتیشی ٹیم سے مسلسل رابطے میں ہوں ،تفتیش مثبت انداز میں آگے بڑھ رہی ہے،مولانا سمیع الحق کے قاتلوں کو جلد از جلد گرفتار کیا جائے گا۔ انہوں نے گزشتہ دنوں پیش آنے والے واقعہ کے حوالے سے بتایا کہ 25مقدمات درج کیے گئے ہیں اور 100سے زائد شرپسندوں کو گرفتار کرلیا ہے جبکہ باقی 900سے زائد بے گناہوں کو رہا کردیا گیا ہے،دھرنے والوں سے مسلسل رابطے میں ہیں۔

ایوان میں باقی کارروائی کو معطل کر کے امن و امان پر عام بحث کا آغاز کیا گیا ۔اپوزیشن کی طرف سے (ن) لیگ کے سرداراویس لغاری نے کہا کہ شہباز شریف حکومت کے سیاسی قیدی ہیں ،ان کو بہت پہلے گرفتار کرنے کا منصوبہ تھا لیکن حکومت نے ضمنی انتخابات سے قبل اس لیے گرفتار کرایا کہ ضمنی الیکشن میں (ن) لیگ کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑے لیکن عوام نے جعلی مینڈیٹ والوں کو مسترد کردیا،سیاسی قیدی کسی بھی جمہوری حکومت کیلئے گالی کے مترادف ہوتے ہیں،شہباز شریف نے راجن پور سے لاہور تک کا نقشہ بدل دیا ہے،ایسے شخص کو جیل میں ڈالنا انتہائی افسوس ناک ہے،ڈی جی نیب اور عمران خان ایک ہی ایجنڈے پر کام کررہے ہیں،شیخ رشید جس کو گرفتار کرنے کی پیشگوئی کرتے ہیں اگلے دن نیب اس کو گرفتار کرلیتی ہے،اگر ہم نے نیب کے قانون میں ترمیم نہیں کی تو یہ ہماری غلطی تھی لیکن موجودہ حکومت کو نیب قانون میں ترمیم کرنی چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا وزیر اعظم چین میں جاکر کہتے ہیں کہ ہمیں وائٹ کالر سے خطرہ ہے اور ہمارے پاس وائٹ کالرز کو پکڑنے کیلئے تکنیکی ماہرین نہیں ہمیں وہ تکنیک دی جائے،حکومت اور اس کے وزراء ایوانوں کے اندر اور باہر تذبذب کا شکار ہیں،حکومت کو 100 دن میں اپنے پائوں پر کھڑے ہونا تھا لیکن یہ تو بیساکھیوں پر کھڑے ہیں اور بیساکھیوں پر کھڑا شخص زیادہ دیر تک کھڑے نہیں رہ سکتا،شہباز شریف کی گرفتاری سوچی سمجھی سازش ہے ،نیب کو برابری کی سطح پر احتساب کرنا چاہیے ،پنجاب اور وفاق میں نیب زدہ لوگ بیٹھے ہیں موجودہ حکومت میں سب سے بڑی لینڈ مافیا موجودہے۔

(ن) لیگ کے ملک محمد احمد خان نے کہا پنجاب میں امن و امان کی صورتحال پہلے دن سے خراب ہو چکی ہے،ناصر درانی کا استعفیٰ ،آئی جی پنجاب کا تبادلہ سب کے سامنے ہیں،ہم نے پورے پنجاب کو بند ہوتے دیکھ لیا ہے،(ن) لیگ نے مسجدوں اور درباروں میں ہونے والے دھماکوں کو کنٹرول کیا ،دہشتگردی کا خاتمہ کیا۔ انہوںنے کہا کہ نیب شہباز شریف کیخلاف ایک بھی ثبوت عدالت میں پیش نہیں کر سکا۔

میاں اسلم اقبال نے کہا کہ (ن) لیگ اپنی کرپشن چھپانے کیلئے شور مچا رہی ہے،میٹرو بس اور میٹرو اورنج لائن ٹرین منصوبوںمیں اربوں روپے کی کرپشن کی گئی ہے،چوہدری پرویز الٰہی کے دور کے منصوبوں کو التواء کا شکار کیا گیا ،نئے منصوبوں اس لیے شروع کیے تاکہ زیادہ زیادہ کمیشن حاصل کیا جا سکے۔صوبائی وزیر چوہدری ظہیر الدین نے کہا کہ شہباز شریف نے دس سال پنجاب کی عوام کو بیدردی سے لوٹا ،جنوبی پنجاب کا سارا بجٹ میٹرو ٹرین پر لگادیا،احتساب کو انتقام کا نام دینے والے عدالتوں میں اپنی بے گناہی کا ایک بھی ثبوت پیش نہیں کر سکے۔

آج ان کی جماعت وفاق اور پنجاب کی اسمبلی میں ہنگامے کررہی ہے تاکہ کسی طریقے سے خود کو چور ثابت ہونے سے بچایا جا سکے لیکن اب یہ لوگ چور ڈیکلیر ہو چکے ہیں۔وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان ،سردار شہاب الدین،بیگم عشرت اشرف،سمیع اللہ خان،مجتبیٰ شجاع الرحمن،مخدوم عثمان،ندیم قریشی،پیر اشرف رسول،میاں جلیل احمد شرقپوری ،طاہر خلیل سندھو نے بھی امن و امان پر بحث میں حصہ لیا ۔

ایجنڈے پر چار محکموں سے متعلق سوالات موجود تھے لیکن سپیکر نے ارکان کے متفقہ فیصلے سے سوالات کا سیشن ملتوی کردیا۔بعدازاں بحث مکمل ہونے پر سپیکر نے اجلاس غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردیا۔اجلاس میں حکومت اور اپوزیشن آمنے سامنے رہی، امن و امان پر بحث کے دووران حکومت اور اپوزیشن اراکین قیادت ایک دوسرے پر الفاظی گولہ باری کرتے رہے ۔

فیاض الحسن چوہان اپوزیشن پر خوب برسے اور ساتھ ہی رانا مشہور کے بارے میں انکشاف کیا کہ رانا مشہود کو ان کی سرکاری رہائش گاہ جی او آر میں بطور وزیر لاکھوں روپے کے لفافے پہنچائے جاتے تھے ۔جس سرکاری گھر میں وہ رہتے ہیں وہاں پہلے رانا مشہود رہتے تھے ۔وہاں کے سرکاری ملازمین نے بتایا ہے کہ صبح سے شام تک وہاں لاکھوں روپے کے لفافے آتے تھے ۔ اجلاس کے دوران حکومتی اور اپوزیشن اراکین مخالفانہ نعرے لگاتے رہے ۔
Live سانحہ سیالکوٹ سے متعلق تازہ ترین معلومات