جب باقی ادارے اپنے آپکو طاقت ور بنا سکتے ہیں تو پارلیمان کیوں ایسا نہیں کرسکتی،

عوام کے فیصلوں کا حق صرف عوامی نمائندوں کو حاصل ہے،بلاول بھٹوزرداری پارلیمان کو بے توقیر نہیں ہونے دیں گے، 18ویں آئینی ترمیم کے خاتمے کے لئے چاروں طرف سے حملے ہورہے ہیں اس پر کسی صورت آنچ نہیں آنے دوں گا اگر ضرورت پڑی تو سڑکوں پر نکلوں گا اور لانگ مارچ بھی کروں گا، خان کی نیا پاکستان کی مہم سمجھ سے باہر ہے ،منی بجٹ امیروں کا بجٹ ہے حج پر سبسڈی ختم کرنا ہے ، غریبوں کی سبسڈی ختم کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ منی بجٹ میں آنٹی علیمہ اور جہانگیر ترین کو تو ریلیف مل گیا غریب کا ریلیف کدھر گیا، کراچی پریس کلب میں میٹ دی پریس سے خطاب

ہفتہ فروری 21:32

جب باقی ادارے اپنے آپکو طاقت ور بنا سکتے ہیں تو پارلیمان کیوں ایسا نہیں ..
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 فروری2019ء) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ جب باقی ادارے اپنے آپکو طاقت ور بنا سکتے ہیں تو پارلیمان کیوں ایسا نہیں کرسکتی،جوڈیشل ایکٹوازم کے ساتھ ساتھ پارلمینٹری ایکٹیو ازم بھی بہت ضروری ہے۔ عوام کے فیصلوں کا حق صرف عوامی نمائندوں کو حاصل ہے،پارلیمان کو بے توقیر نہیں ہونے دیں گے، 18ویں آئینی ترمیم کے خاتمے کے لئے چاروں طرف سے حملے ہورہے ہیں اس پر کسی صورت آنچ نہیں آنے دوں گا اگر ضرورت پڑی تو سڑکوں پر نکلوں گا اور لانگ مارچ بھی کروں گا۔

انہوں نے کہا کہ اب یہ بھی طے ہوجانا چاہیئے کہ پہلے انسان بنو پھر حکمران بنو اورپہلے انسان بنو پھر جج بنو۔بلاول بھٹو نے ان خیالات کا اظہار ہفتہ کی شام کراچی پریس کلب کے پروگرام میٹ دی پریس سے خطاب اور بعد ازاں صحافیوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کیا۔

(جاری ہے)

کراچی پریس کلب آمد پر ان کا استقبال کراچی پریس کلب کے صدر امتیاز خان فاران، سکریٹری ارمان صابر اور گورنر باڈی کے ارکان نے کیا جبکہ چیئرمین پیپلز پارٹی کے ہمراہ پریس کلب آنے والوں میں وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ، صوبائی مشیر اطلاعات سندھ مرتضی وہاب، وزیر بلدیات سعید غنی ، وقارمہدی اور راشد ربانی بھی تھے۔

بلاول بھٹو کو میٹ دی پریس کے موقع پر کراچی پریس کلب کی تاحیات ممبر شپ ، کلب کا نشان اور دیگر تحائف بھی پیش کئے گئے۔اس موقع پر انہوں نے کراچی پریس کی سالانہ گرانٹ کی مد میں سوا کروڑ کا چیک کلب کے عہدیداروں کو پیش کیا۔بلاول بھٹو نے میٹ دی پریس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پریس کلبوں نے ہمیشہ جمہوریت کی مضبوطی کے لئے کام کیا جس میں کراچی پریس کلب سرفہرست ہے ۔

انہوں نے کہا کہ اگر پریس کلب نہ ہوتے تو آے آر ڈی اور ایم آر ڈی کی تحریکوں کا کیا ہوتا،ہم نے پریس کلبوں کو مضبوط کرنا ہے میں خود ملک بھر کے پریس کلبوں میں جاں گا ، اس وقت آزادی اظہار رائے پر حملے ہورہے ہیں ،میری کوشش ہوگی کہ تمام پریس کلبوں کو سیاست کا مرکز بناونگا ۔انہوں نے کہا کہ ہمیں مل کر آزادی اظہار رائے کی جدوجہد کرنا ہوگی پیپلزپارٹی میڈیا کے ساتھ کھڑی۔

انہوں نے کہا کہ میڈیا کے دوست قدم بڑھائیں بلاول بھٹو آپکے ساتھ ہے ، ان کا کہنا تھا کہ ہم پر تنقید کریں ہم آپکی تنقید سے طاقت حاصل کرنا چاہتے ہیں،شہید بے نظیر بھٹو کی پہلی حکومت میں جب میڈیا نے ان پر تنقید کی تو ان سے پوچھا گیا کہ آپ کیسے برداشت کرتی ہیںتو انہوں نے کہا کہ ہم اظہار رائے پر یقین رکھتے ہیں۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم شاید تھوڑا سافٹ ٹارگٹ ہیں۔

میڈیا ہم پر بے شک تنقید کرے لیکن ہمیں یہ بتائے کہ ہمارے وزرااور سی ایم اپنا طرز حکمرانی کیسے ٹھیک کرسکتے ہیں۔ہمیں پارلیمانی نظام کو مضبوط کرنا ہوگا،ہمیں لڑنا ہوگا،صحافیوں کو تحفظ فراہم کرنے کا سندھ اسمبلی سے قانون منظور کرائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم پر حملے ہورہے ہیںیہ بہت خطرناک عمل ہے ۔بی بی شہید کی سیاسی جدوجہد آئین کے استحکام کے لئے تھی ،ہم نے تمام پارلیمانی اور سیاسی جماعتوں کے ساتھ ملکر اٹھارویں ترمیم منظور کرائی تھی ،اس ترمیم نے ملک کے تمام فالٹ لائن کو کور کیا ۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم اٹھارویں ترمیم کے تحفظ کے لئے ہر فورم استعمال کرینگے، اگر ضرورت پڑی تو پھر میں لانگ مارچ بھی کرونگا لیکن آئین پر آنچ نہیں آنے دونگا، اٹھارویں ترمیم کو بچانے کے لئے ہر حد تک جاو نگا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ قانون کتنا اہم ہے میڈیا کو بھی اس ضمن میں ساتھ دینا ہوگا،ہم کیسے برداشت کریں کہ صحت کے ادارے انکو دے دیں۔ادارہ امراض کلب جب وفاق کے تحت تھا تو یہ چندے پر چلتا تھا لیکن اب سب سے زیادہ دل کے کامیاب آپریشن وہاں ہوتے ہیں اور کراچی میں ہم نے دل کے آپریش ن کے لئے سائبرنائف ٹیکنالوجی استعمال کی جارہی ہے امریکہ اور دوسرے ترقی یافتہ ممالک میں اس ٹیکنالوجی کے ذریعے علاج پر 60ہزار ڈالر خرچہ آتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم اپنے ادارے کسی کو نہیں چھیننے دیں گے اگر نظر ثانی میں جانا پڑا تو وہاں بھی جائیں گے۔ا نہوں نے کہا کہ ہم صوبے میں کینسر ریسرچ سینٹرز بنانا چاہتے ہیں ۔بلاول بھٹو نے اپنے خطاب میں کہا کہ اٹھارویں ترمیم پر یہ جھگڑا کیوں ہے سلیکٹڈ حکومت کے سلیکٹڈ وزیر بھی اس پر بات کرتے ہیں۔ بلاول بھٹو نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ کورٹس کی جانب سے اس وقت عجیب فیصلے آرہے ہیں،نہ جانے کیوںقانونی معاملات میں متضاد باتیں سامنے آرہی ہیں۔

ایک مختصر عدالتی فیصلہ میں امن و امان کو صوبائی معاملہ کہا گیا لیکن جب تفصیلی فیصلہ آیا تو اسے وفاقی سبجیکٹ کہہ دیا گیا انہوں نے سوال کیا کہ اتنا بڑا یو ٹرن کیوں کیا اس دوران آئین تبدیل ہوگیا یا پھر آپ پر کوئی دبا تھا بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم پارلیمنٹ کی توقیر بحال کرنا چاہتے ہیں،موجودہ وزیر اعظم ہمارا سیاسی مخالف ہے لیکن ملک کے انتظامی معاملات کا اختیار اس کے پاس ہے، سلیکٹیڈ وزیر اعظم کو بھی یہ بات خود سمجھنی چاہیئے۔

انہوں نے کہا کہ اگر یہ حکومت اگر عوامی مفاد میں کام کرے تو یہ بھی کامیاب ہوسکتی ہے کیونکہ اگر وہ لوگوں کی بہتری کے لئے کوئی قانون پارلیمنٹ میں لیکر آئیں گے تو کیا ہمارے لئے یہ ممکن ہوسکے گا کہ ہم اس کی مخالفت کرسکیں۔انہوں نے اس بات پر دکھ کا اظہار کیا کہ پچھلے ایک سال میں پارلیمان نے اپنی جگہ بالکل پیچھے چھوڑ دی ہے انہوں نے سوال کیا کہ پارلیمان نے کسی اور کی مداخلت کو کیسے برداشت کرلیا اس پر بھی اسمبلی میں بحث کی ضرورت ہے جب باقی ادارے اپنے آپکو طاقت ور بنا سکتے ہیں تو پارلیمان کیوں ایسا نہیں کرسکتی۔

جوڈیشل ایکٹوازم کے ساتھ ساتھ پارلمینٹری ایکٹیو ازم بھی بہت ضروری ہے۔ارکان پارلیمنٹ اور جمہوری قوتوں کو یہ طے کرنا پڑے گا کہ اس ملک کے فیصلے صرف منتخب نمائندے لیں گے اور کوئی نہیں لیکن شایداس بات کو سمجھنا سلیکٹد وزیر اعظم کے لیے مشکل ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ یہ کیا بزدلی اور بچکانہ حرکت ہے کے آپ منی بجٹ پیش کرتے ہو اوراس کے بعد سیشن ختم کرکے بھاگ جاتے ہو۔

چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا کہ یہ ملک کی معیشت کوئی مذاق کا معاملہ نہیں ،عوام مہنگائی کے سونامی میں واقعی ڈوب رہی ہے ۔موجودہ حکمراں جماعت نے وعدہ کیا تھا کہ ہمارے پاس پلان ہے اور دو سو ایکسپرٹس کی ٹیم ہے ،مگر پھر اس کے بعد یوٹرن کیوں لیتے ہو کسی بھی مہذب ملک میں سال میں تین بار بجٹ پیش کرنے کا کیا جواز ہے۔حکومت نے پہلا بجٹ پیش کیا تو فیصلے کیوں نہیں کیی انہوں نے کہا کہ ان کا کوئی معاشی پلان موجود ہی نہیں ہے ۔

خان کی نیا پاکستان کی مہم سمجھ سے باہر ہے ،منی بجٹ امیروں کا بجٹ ہے حج پر سبسڈی ختم کرنا ہے ، غریبوں کی سبسڈی ختم کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ منی بجٹ میں آنٹی علیمہ اور جہانگیر ترین کو تو ریلیف مل گیا غریب کا ریلیف کدھر گیا،کسان ، مزدور اور نوجوانوں کے لیے کہاں ریلیف ہی انہوں نے کہا کہ میں سیاسی بنیاد پر عوام کو مہنگائی میں ڈوبنے کی بات نہیںکرتا۔

عوام واقعی مہنگائی کی چکی میں پس گئے ہیں۔بلاول بھٹو نے کہا کہ پلاننگ کے بغیر کوئی کام نہیں کیا جاسکتا ،ملک کی معیشت بہت برے حال میں ہے حکومت نے ایک کروڑ نوکری اور پچاس لاکھ گھر کا وعدہ کیا تھا وہ کہاں گیاحکومت ملتے ہے خان صاحب نے لوگوں کے سر سے چھت چھین لی ،منی بجٹ سے امیروں کو فائدہ ہوا۔بلاول بھٹو نے کہا کہ اب اس بارے میں سنجیدگی سے غور ہونا چاہیئے کہ پہلے انسان بنو پھر حکمران بنو اورپہلے انسان بنو پھر جج بنو۔

انہوں نے کہا کہ ہم انسانیت پر یقین رکھتے ہیں ۔پیپلز پارٹی عوامی جماعت ہیں ،ہم عوام ہر ظلم نہیں برداشت کرسکتے ۔انہوں نے کہا کہ میں بہت د کھی ہوتا ہوں جب میرے وزیر گھر گراتے ہیں ،ہمارے پاس عوام کا مینڈیٹ ہے ۔عوام کے ریلیف ملنا چاہئے ،ہم نہیں چاہتے کہ لوگ تجاوزات قائم کریں مگر ایسے بے دخلی برداشت نہیں کریں گے ،ہمیں ٹائم دیا جائے ہم انہیںریگولرائز کرنا چاہیے ،مانتا ہوں ماسٹر پلان پر فوکس کرنا چاہئیے مگر 1950کے ماسٹر پلان کا کیا جائے۔

کراچی کے مستقبل کے ماسٹر پلان پر کام کرنا چاہئیے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم تجاوزات کے عدالتی فیصلے پر ریویو میں جائیں گے ،عوامی جماعت کو عوامی فیصلے کرنے دئیے جائیں جوسسٹم کے لئے بھی بہتر ہے۔ مسنگ پرسنز سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ مسنگ پرسنز کو بازیاب کروایا جائے، اور اس قسم کے واقعات نہیں ہونے چاہئیں؛پاکستان اپنے پڑوسیوں کو تبدیل کر سکتا ، ہمیں اپنا پڑوسیوں کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنے چاہیی؛جہاں گفت و شنید کی ضرورت ہو وہاں پر بات چیت کرنی چاہیے بین الاقوامی پریشرز کے تحت ڈو ڈو مور کے مطالبات ہوتے رہیں گے ۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان کے مسئلے کے حل کے لیے افغان لیڈ ، افغان اون سولوشن کی حمایت کرنی چاہیے ؛ہم کسی ایسی قوت کو برداشت نہیں کرسکتے جو پاکستان کی آئین، قانون، اور حیثیت کو نہ مانے۔