آزاد کشمیر کے انتخابات میں کھلم کھلا دھاندلی ہوئی، ایک وزیر پیسے بانٹ رہا تھا اور فائرنگ کی گئی،بلاول بھٹو زرداری

عام انتخابات کسی بھی وقت ہوسکتے ہیں،پیپلز پارٹی کو اب سے تیاری شروع کرنی چاہیے،کراچی میں محنت سے حکومت کرنی ہے،ہمیں بڑی بڑی قوتوں کا مقابلہ کرنا ہے آپس کے اختلافات ایک طرف کرنے پڑیں گے،مجھے نظر آرہا ہے اگلی حکومت پیپلزپارٹی کی ہوگی، کراچی کے عوام جان چکے ہیں اگر ہم نے کراچی کو بچانا ہے تو پی ٹی آئی کو بھگانا ہے،ان دہشتگردوں کو بھگانا ہے،تقریب سے خطاب

جمعرات 29 جولائی 2021 23:28

آزاد کشمیر کے انتخابات میں کھلم کھلا دھاندلی ہوئی، ایک وزیر پیسے بانٹ ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 29 جولائی2021ء) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا ہے کہ کشمیر کے انتخابات میں کھلم کھلا دھاندلی ہوئی اور ایک وزیر پیسے بانٹ رہا تھا اور فائرنگ کی گئی،کسی بھی وقت عام انتخابات ہوسکتے ہیں، اس کیلئے پیپلز پارٹی کو اب سے تیاری شروع کرنی چاہیے،کراچی میں محنت سے حکومت کرنی ہے،ہمیں بڑی بڑی قوتوں کا مقابلہ کرنا ہے اس کیلئے آپس کے اختلافات ایک طرف کرنے پڑیں گے،مجھے نظر آرہا ہے کہ اگلی حکومت پیپلزپارٹی کی ہوگی، کراچی کے عوام جان چکے ہیں کہ اگر ہم نے کراچی کو بچانا ہے تو پی ٹی آئی کو بھگانا ہے،ان دہشت گردوں کو بھگانا ہے۔

وزیراعلی ہائوس کراچی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہماری حکمت عملی اب تک کامیاب ثابت ہوئی ہے، جس میں پی پی پی کا سیاسی فیصلہ تھا کہ ضمنی انتخابات میں جانا ہے اور ان کا مقابلہ کرنا ہے تو ان سارے انتخابات میں پی پی پی اور اپوزیشن جیتی اور عمران خان کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہاکہ ہم نے اس سوچ کو رد کرتے ہوئے تجویز دی تھی کہ جب گلگت میں انتخابات ہوں تو وہاں مداخلت نہ کریں اور کشمیر میں روایت ہے کہ کون سی جماعت اقتدار حاصل کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان تمام حالات کے باوجود میں گلگت، اسکردو اور کشمیر میں گیا اور پی پی پی کے جیالے پہاڑوں میں جدوجہد کر رہے ہیں اور نظریے کو آگے لے کر چل رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ کشمیر میں جس طرح کھلے عام اور جس تشدد سے دھاندلی ہو رہی تھی، سب نے دیکھا، پاکستان کا ایک وزیر وہاں پیسے بانٹ رہا تھا اور فائرنگ کر رہا تھا اور امیدواروں پر قاتلانہ حملے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ اسکے باوجود پیپلز پارٹی اپوزیشن کی بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے، ہم کشمیر میں ان کو مشکلات سے دوچار کر رہے ہیں اور یہاں کراچی میں بھی ان کو شکست دی ہے۔انہوں نے کارکنوں کو مخاطب کرکے کہا کہ جس طرح آپ نے کراچی میں بلوچ صاحب کے انتخاب میں پی ٹی آئی کو عبرت ناک شکست دی تھی اور قادر مندوخیل کے الیکشن میں بھی پی ٹی آئی اور دیگر کو عبرت ناک شکست دی تھی اسی طرح اب اس جدوجہد کو ہمارے ساتھ آگے لے کر چلنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے سامنے مقامی حکومتوں کے انتخابات ہیں، کسی بھی وقت عام انتخابات ہوسکتے ہیں، اس کے لیے پیپلز پارٹی کو اب سے تیاری شروع کرنی چاہیے۔انہوں نے کہاکہ ہمیں کراچی میں محنت سے حکومت کرنی ہے، وسائل کم ہیں، نہ این ایف سی دیا جاتا ہے اور نہ آپ کا حق دیا جاتا ہے، اوپر سے آپ جدوجہد کر رہے ہوتے ہیں تو ایم کیو ایم والے سامنے آجاتے ہیں لیکن آپ نے وفاق کا بھی مقابلہ کیا اور ان بدمعاشوں کا بھی مقابلہ کیا۔

بلاو ل بھٹو نے کہاکہ اب کراچی کے عوام جان چکے ہیں کہ اگر ہم نے کراچی کو بچانا ہے تو پی ٹی آئی کو بھگانا ہے اور ان دہشت گردوں کو بھگانا ہے، کراچی کو بچانے کے لیے ایک ہی جواب ہے، پاکستان پیپلز پارٹی ہے۔انہوں نے کہاکہ ابھی ہمارے پاس وقت کم ہے، آپس کے اختلافات بھلانے پڑیں گے، 6 سے 8 مہینوں کے لیے ذاتی پسند نا پسند اور آپس کے اختلافات ختم کریں، ہمیں بڑی بڑی قوتوں کا مقابلہ کرنا ہے اور ان کا مقابلہ کرنا ہے تو میں آپس کے اختلافات ایک طرف کرنے پڑیں گے اور مل کر ایک ہو کر جس طرح ضمنی انتخابات میں کیا ویسے ہی آگے بڑھنا ہے۔

انہوں نے کہاکہ جہاں انتظامی اور ترقیاتی کام ہیں، ان میں بہتری آئی ہے لیکن اس میں سیاسی اونر شپ، سیاسی نگرانی اور چیک اینڈ بیلنس شاید نہیں ہے، وزیراعلی کا خصوصی ٹاسک دیا ہے کہ خاص کر کراچی کے لیے ایسا حل نکالیں۔انہوں نے کہاکہ کراچی کے عوام کے مسائل حل کریں اور ہر ضلعے میں ایک ایسے سیاسی نمائندے کو چنا جائے جو وہاں کے عوام کے مسائل کو جان سکے، وہاں کی بیوروکریسی اور انتظامیہ پر ایک چیک رکھ سکے، اس کا تعلق عوام سے ہو اور اس کی رسائی وزیراعلی سندھ اور وزرا تک ہو اور عوام کے مسائل حل کروا سکیں۔

انہوں نے کہاکہ کراچی میں تین بڑے مسئلے ہیں، ان میں پہلے نمبر پر پانی کا مسئلہ ہے، وفاقی وزرا نے بھی تسلیم کیا کہ اس صوبے کے پانی کا حصہ کم مل رہا ہے لیکن عمران خان نے اب تک اس میں کوئی اضافہ نہیں کیا۔چیئر مین پیپلز پارٹی نے کہاکہ میں چاہتا ہوں کہ تنظیم کے ذریعے کراچی میں پانی کا مسئلہ حل کریں، کراچی میں اگر پانی کی چوری روکنا ہے تو پھر پی پی پی کے جیالوں کو اس حکومت کی آنکھ، کان اور ناک بننا پڑے گا تاکہ مل کر محنت کرکے کراچی کے عوام تک پانی پہنچا سکیں گے۔

انہوں نے کہاکہ دوسرا کچرا کا مسئلہ ہے، اس میں بہتری آئی ہے، جو اضلاع ایم کیو ایم کے پاس ہوتی تھیں وہ اب ان کے پاس نہیں ہیں اور وہاں سولڈ ویسٹ منیجمنٹ کام کر رہی ہے،وہاں بھی کامیاب ہونے کے لیے آپ کی سیاسی نگرانی اور چیک اینڈ بیلنس ضروری ہے تاکہ اس مسئلے میں بہتری آسکے۔انہوں نے کہاکہ ہماری کوشش ہے کہ ٹرانسپورٹ کے بڑے منصوبے شروع کرنے سے پہلے ہم کراچی کی سڑکوں پر ٹرانسپورٹ کے لیے بسیں پہنچانا شروع کریں اور میرے خیال میں اس سال کے آخر تک یہ سلسلہ شروع ہوجائے گا اور ہر مہینے اور دو مہینے بعد اس میں اضافہ ہوتا جائیگا۔

انہوں نے کارکنوں کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ان تین مسائل پر آپ نے محنت کرنی ہے اور حکومت سندھ نے بھی محنت کرنی ہے اور جہاں تک بڑے مسائل کی بات ہے تو حکومت کو مہنگائی، بے روزگاری اور پی ٹی آئی ایم ایف بجٹ کی وجہ سے عوام غربت میں جس طریقے سے ڈوب رہے ہیں اس پر مجبور کرنا ہے۔انہوں نے کہاکہ مجھے نظر آرہا ہے کہ اگلی حکومت پیپلزپارٹی کی ہوگی، اگر پی پی پی کی حکومت ہونی ہے تو اس حکومت کو کھڑا کرنے، منتخب کرنے کے لیے کراچی کی نشستوں کی ضرورت ہے اور کراچی کی اونرشپ کی ضرورت ہے اور اس کے لیے یہ اہم وقت ہے۔

انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے پاس اچھا موقع ہے کہ ایم کیو ایم کے دہشت گردوں کا راج ختم ہوچکا لیکن پی ٹی آئی کی شکل میں ایک نئی ایم کیو ایم سامنے آئی ہے، پی پی پی نے جیسے ان کا مقابلہ کیا تھا ویسے اس سلیکٹڈ حکومت کا مقابلہ کریں گے۔