اسرائیل کا وجود دنیا کے امن اور مذاہب میں ٹکرا کیلئے خطرناک ہے،سربراہ پاکستان سنی تحریک

او آئی سی کو خواب غفلت سے جاگنا ہوگا اور اسرائیل کے ظا لمانہ وغاصبانہ منصوبوں کے خلاف کلمہ حق بلند کرنا ہوگا،شاداب رضا نقشبندی

ہفتہ 19 جولائی 2025 21:50

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 19 جولائی2025ء)سربراہ پاکستان سنی تحریک محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہاہے کہ اسرائیل کا وجود دنیا کے امن اور مذاہب میں ٹکرا کیلئے خطرناک ہے،فلسطین وغزہ سے اسرائیلی ناجائز اور غاصبانہ قبضہ فوری ختم کرایا جائے،امریکا کا کردار موجودہ حالات میں مشکوک اور مسلم دشمن نظر آرہا ہے،شام میں اسرائیلی حملے کی مذمت کرتے ہیں اسرائیل بے لگام گھوڑا ہے جو جہاں چاہے حملہ کردیتا ہے اور اس کے خلاف کوئی کاروائی بھی عمل میں نہیں لائی جاتی،اقوام متحدہ اور عالمی عدالت آزاد نہیں امریکی شکنجے میں جکڑی ہوئی ہیں جسکی وجہ سے انصاف کی بالادستی قائم نہیں ہورہی،ظالم وغاصب اسرائیل طاقت کے نشے میں عالمی قوانیں کو پاں میں روندنے کے ساتھ انسانیت پر مظالم کی انتہا کردی ہے،اسرائیل اسلام دشمنی میں مسلم نسل کشی اور غاصبانہ قبضے اور دنیا پر حکمرانی کرنا چاہتا ہے،فلسطین وغزہ میں مسلم نسل کشی معمول بن گئی اسرائیل نے مظالم کی تمام حدیں پار کردیں،اسرائیل کے فلسطین وغزہ کے بعد شام اور ایران پر حملے دنیا پر تسلط قائم کرنے کی ناپاک جسارت ہے،اسرائیل اپنے ناپاک منصوبوں میں کسی طور بھی کامیاب نہیں ہوسکتا،او آئی سی کو خواب غفلت سے جاگنا ہوگا اور اسرائیل کے ظا لمانہ وغاصبانہ منصوبوں کے خلاف کلمہ حق بلند کرنا ہوگا،ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسرائیل کے فلسطین وغزہ میں نہ تھمنے والے حملوں کی شدید مذمت اور فلسطین وشام میں مسلمانوں کے جابحق ہونے پر گہرے دکھ وافسوس کا اظہار کرتے ہوئے کیا،محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ شام کے صوبے سویدامیں اہلسنت کا کھلے عام قتل عام کیا جارہا ہے،دمشق میں اسرائیل بمباری سے بھی سیکڑوں لوگ شہید ہوچکے ہیں،اسرائیل شام،فلسطین وغزہ اور دیگر مسلم ممالک پر حملے کررہا ہے اس کو کون روکے گا،نیتن یاہو عالمی دہشتگرد اور مسلمانوں کا دشمن ہے جو مسلمانوں پر ظالم وجبر کی تمام حدیں پار کرچکا ہے،اسرائیل کو عالمی قوانین کے تحت نہ روکا گیا تو پھر دوسرے ممالک بھی اقوام متحدہ کے قوانین کی دھجیاں بکھیرنے پر مجبور ہونگے،اقوام متحدہ امریکا کی لونڈی بن چکا ہے،سرائیلی کے خلاف اقوام متھدہ کی کاروائی نہ ہونا سوالیہ نشان ہے۔