پلوامہ حملے اور مودی کی کرپشن کو بے نقاب کرنے والے ستیہ پال کی پراسرار موت واقع‘سوال اٹھ کھڑے ہوئے

جمعرات 7 اگست 2025 23:35

y سرینگر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 07 اگست2025ء) مقبوضہ کشمیر کے سابق گورنر ستیہ پال ملک کی پراسرار موت نے ملک بھر میں ہلچل مچا دی ہے۔ ستیہ پال وہ واحد اعلیٰ عہدیدار تھے جنہوں نے کھل کر پلوامہ حملے کے پس پردہ حقائق پر روشنی ڈالی اور نریندر مودی کی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کی موت کو محض ایک اتفاق یا قدرتی سانحہ قرار دینا مشکل ہو رہا ہے، کیونکہ ان کے حالیہ بیانات اور سوشل میڈیا پر کیے گئے انکشافات سنگین سوالات کو جنم دے رہے ہیں۔

ستیہ پال نے اپنی آخری ٹویٹ میں کہا تھا کہ چاہے وہ زندہ رہیں یا نہ رہیں، وہ ہمیشہ سچ بولیں گے۔ انہوں نے واضح طور پر بتایا کہ حکومت کی طرف سے ان پر بے پناہ دباؤ ہے اور انہیں مسلسل خاموش رہنے کے لیے دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔

(جاری ہے)

کشمیر کی پالیسیوں پر تنقید کرنے والے ستیہ پال کئی ماہ سے مودی حکومت کے نشانے پر تھے۔راہول گاندھی سے گفتگو کے دوران ستیہ پال نے انکشاف کیا تھا کہ پلوامہ حملے سے قبل سیکیورٹی ایجنسیاں پانچ ایئرکرافٹ طلب کر رہی تھیں تاکہ سی آر پی ایف کے قافلے کو فضائی تحفظ فراہم کیا جا سکے، مگر یہ سہولت جان بوجھ کر فراہم نہیں کی گئی۔

حملے کے فوراً بعد انہوں نے خود وزیراعظم کو اطلاع دی کہ یہ واقعہ ہماری سنگین کوتاہی کا نتیجہ ہے اور اگر حفاظتی اقدامات کیے جاتے تو یہ سانحہ نہ ہوتا۔ ستیہ پال نے کرن تھاپر کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ مودی کو کرپشن سے کوئی نفرت نہیں اور وہ اقتدار میں رہنے کے لیے ہر قسم کی اخلاقی یا آئینی حد پار کرنے کو تیار ہیں۔ ان کا مؤقف تھا کہ اگر حکومت ان کے بیانات سے ناراض ہوتی ہے تو ہو، لیکن وہ سچ بولنے سے باز نہیں آئیں گے۔

اب ان کی موت کو ایک سازش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا، صحافتی حلقوں اور انسانی حقوق کے کارکنان نے اس واقعے پر شدید ردعمل دیا ہے اور خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ستیہ پال کی زندگی ختم کی گئی تاکہ مودی حکومت پر اٹھنے والے سنگین سوالات کو ہمیشہ کے لیے دفن کیا جا سکے۔ یہ پہلا موقع نہیں جب بھارت میں حکومت مخالف آواز کو خاموش کیا گیا ہو۔

اس سے قبل بھی کئی صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں، اور سابق افسران کو یا تو جیل میں ڈالا گیا یا پراسرار حالات میں مارا گیا۔ ستیہ پال کی موت اسی تسلسل کی ایک کڑی محسوس ہو رہی ہے۔ ستیہ پال ملک اب دنیا میں نہیں رہے، مگر ان کی زبان سے نکلے سچ آج بھی مودی حکومت کے چہرے سے نقاب ہٹاتے ہیں۔ ان کی موت بھارتی جمہوریت، شفافیت اور اظہارِ رائے کے لیے ایک کڑا سوال ہے جس کا جواب دینا اب بھارتی ریاست پر فرض ہی-