امریکہ اورچین کے ساتھ کشیدہ تعلقات کے بعد بھارت عالمی تنہائی کا شکار ، امریکی جریدے کی رپورٹ
ہفتہ 9 اگست 2025 21:20
(جاری ہے)
نریندر مودی نے اپنی پہلی مدتِ حکومت میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اتنی دوستی بڑھائی کہ پروٹوکول توڑ کر ہیوسٹن میں ایک بھرے اسٹیڈیم میں ان کی انتخابی مہم میں شرکت کی۔سابق بائیڈن انتظامیہ نے بھی تعلقات کو وسعت دینا جاری رکھا کیونکہ بھارت کو چین کے خلاف ایک مضبوط اتحادی سمجھا جاتا ہے لیکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے حال ہی میں50فیصد کا بھاری ٹیرف لگانے کے اقدام نے نریندر مودی کو ذلت سے دوچار کر دیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کو روسی تیل کی خریداری کا حوالہ دیتے ہوئے 50فیصد کا بھاری ٹیرف لگا دیا اور بھارتی معیشت کو مردہ قرار دیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ رواں سال کے اوائل میں پاک۔بھارت تنازعہ حل کرنیکی کوشش کے دوران پاکستانی قیادت کو برابری کی حیثیت دے کر بھارت کو پہلے ہی ناراض کرچکے تھے۔اس سب نے بھارت کو ایک ایسی صورتحال سے دوچار کر دیاجہاں اسے اپنی طاقت کو دیکھنا پڑ رہا ہے۔ ایک وسیع اور بڑھتی ہوئی معیشت ہونے کے باوجود مودی نے رواں ہفتے اعتراف کیا کہ تجارتی تنازعے پر انہیں سیاسی قیمت ادا کرنی پڑ سکتی ہے۔بھارت بیجنگ کے ساتھ تعلقات کو دوبارہ بہتر کرنے کی کوشش کررہا ہے اور مودی گزشتہ 7برسوں میں پہلی بار رواں ماہ کے آخر میں چین کا دورہ کرنے والے ہیں، مگر تعلقات اب بھی سرحدی جھڑپ اور حالیہ دنوں میں پاکستان کے ساتھ کشیدگی کے دوران چین کی جانب سے پاکستان کی حمایت کی وجہ سے تنائو کا شکار ہیں۔ دوسری طرف مودی نے کہا کہ میں رواں سال کے آخر میں روسی صدر پیوٹن کی بھارت میں میزبانی کرنے کا منتظر ہوں۔مگر اس دوڑ دھوپ اور ضد سے ہٹ کر بھارت کی یہ خواہش کہ وہ ایک معاشی اور سفارتی طاقت کے طور پر اپنے عروج کو مستحکم کرے، غیر یقینی صورتحال سے ماند پڑتی دکھائی دیتی ہے۔بھارتی حکام اور ماہرین میں یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ ملک کو اپنی طویل آزمودہ اسٹریٹجک خود مختاری کی پالیسی پر واپس جانا ہوگا۔بیجنگ اور واشنگٹن میں بھارت کی سابق سفیر نیروپما را نے کہا کہ ٹرمپ کے سخت اقدامات نے انتہائی اہم شراکت داری کی اسٹریٹجک منطق کو تہ و بالا کر دیا ہے، جو 2 دہائیوں سے زیادہ عرصے میں بڑی محنت سے پروان چڑھائی گئی تھی۔ نئی دہلی کو اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے انتہائی عملی اسٹریٹجک ایڈجسٹمنٹس کرنا ہوں گی۔رواں ہفتے ٹرمپ کے بھاری ٹیرف کے اعلان کے بعد مودی نے ایک جلسے سے خطاب میں کہا تھا کہ بھارت کبھی اپنے کسانوں، ماہی گیروں کے مفاد پر سمجھوتہ نہیں کرے گا، مجھے معلوم ہے کہ مجھے ذاتی طور پر بھاری قیمت چکانی پڑے گی اور میں اس کے لیے تیار ہوں۔ امریکی جریدے کی رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ درحقیقت یہ تعلقات اس سے پہلے ہی بگڑنا شروع ہو گئے تھے، جب ٹرمپ نے روسی تیل پر توجہ مرکوز کی، حکام اور تجزیہ کاروں کے مطابق تعلقات کی خرابی کا تعلق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک ذاتی ناراضگی سے ہے۔رواں برس مئی میں پاک-بھارت کشیدگی جب سرحد پار جھڑپوں میں بدلی تو صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ انہوں نے دونوں فریقوں پر دبائو ڈال کر جنگ بندی کرائی۔جہاں پاکستانی حکام نے اس کا خیر مقدم کی اور ٹرمپ کا نام نوبل امن انعام کے لیے تجویز کیا ، وہیں بھارتی حکام نے امریکی صدر کے دعوے کی تردید کر دی اور ٹرمپ کے موقف کے خلاف موقف اپنایا، جسے وہ درجنوں بار دہرا چکے ہیں ۔ بھارتی حکام نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ مودی ایک طاقتور لیڈر ہیں جنہوں نے اپنی عسکری طاقت سے پاکستان کو جنگ بندی کی درخواست کرنے پر مجبور کیا تھا۔سابق بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ کے مشیر سنجایا بارو نے کہا کہ ہمارے پاس اب ایک ایسا امریکی صدر ہے جو انتہائی انا پرست ہے اور ذاتی اندازِ قیادت رکھتا ہے اور ایک بھارتی وزیرِاعظم بھی ہے جو اسی طرح انا پرست اور ذاتی اندازِ قیادت رکھنے والا ہے۔جب آپ کے پاس2 ایسے رہنما ہوں جو بنیادی طور پر ملکوں کے درمیان تعلق کو افراد کے درمیان تعلق میں بدل دیں، تو میرا خیال ہے کہ یہ وہ قیمت ہے جو ہم شاید ادا کر رہے ہیں۔مزید بین الاقوامی خبریں
-
بھارت میں سکھوں کی نسل کشی کی جارہی ہے، گرپتونت سنگھ
-
کیرولین لیویٹ وائٹ ہائوس پریس سیکریٹری کا عہدہ چھوڑ دیں گی
-
دنیا کے کئی ممالک میں مکمل اور جزوی سورج گرہن کا نظارہ
-
ایران تباہ ہوچکا، اللہ کا شکر ہے کہ وہ اب مشرق وسطی کا بدمعاش نہیں رہا، ٹرمپ
-
ٹرمپ انتظامیہ وائٹ ہائوس کی تعمیر پر 900 ملین ڈالر خرچ کرے گی
-
پیرس میں یومِ استحصالِ کشمیر کے حوالے سے تقریب
-
ایران کے حوالے سے صورتحال بہتر، امریکا کا آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول ہی: ٹرمپ
-
اوپن اے آئی نے سائبر سکیورٹی پروگرام ’’ڈے بریک‘‘ کو وسعت دے دی
-
چین کے مقامی ساختہ C919 طیارے کی پہلی بین الاقوامی تجارتی پرواز مکمل
-
طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے 24 لاکھ لڑکیاں ثانوی تعلیم سے محروم ہیں، یونیسکو
-
پاکستان کے ساتھ مضبوط تعلقات علاقائی سیکیورٹی میں اضافہ کا سبب بن سکتے ہیں، صدرایران
-
پرواز تبدیل کرنا سیکرٹ سروس کی ہدایات پر عمل تھا، ٹرمپ
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.