Live Updates
کے ایم سی الیکٹرک بائیکس کا گرین فلیٹ شروع کرنے والی پاکستان کی پہلی میونسپلٹی بن گئی
ہفتہ 30 اگست 2025
03:15
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 30 اگست2025ء) میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے بلدیہ عظمیٰ کراچی میں بجلی سے چلنے والی بائیکس کے ماحول دوست منصوبے کا افتتاح کردیا۔ پہلے مرحلے میں کے ایم سی کے مختلف محکموں میں کام کرنے والے ڈسپیچ رائیڈرز میں 20 بائیکس تقسیم کی جارہی ہیں۔ اس سلسلے میں جمعہ کے روز صدر دفتر بلدیہ عظمیٰ کراچی میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے میئر کراچی نے کہاکہ ایک ذمہ دار شہری حکومت کے طور پر اخراجات کو کم کرنے کے لئے یہ اقدام اٹھایا ہے، ماحولیاتی تبدیلی اور کاربن کے اخراج میں کمی کے لئے یہ مؤثر حکمت عملی ہے ، کے ایم سی پاکستان کی واحد کونسل ہے جو اپنے ملازمین کو بجلی سے چلنے والی بائیکس دے رہی ہے۔
ادارے کی سولرسسٹم پر منتقلی کا فیصلہ چند ما ہ قبل کیا گیا تھا جس کے تحت کے ایم سی ہیڈ آفس کی عمارت ، پارکس اور اہم شاہراہوں کو شمسی توانائی سے بجلی کی فراہمی کا عمل شروع ہوا اور اب سرکاری کام کرنے والے ملازمین کے لئے یہ بائیکس دینے کا فیصلہ کیا گیا،دو لاکھ پندرہ ہزار کی ایک بائیک خریدی ہے، الیکٹرک بائیکس کو چارج کرنے کے لئے کے ایم سی ہیڈ آفس میں چارجنگ اسٹیشن بھی بنایاہے، شہر کے مختلف مقامات پر بھی چارجنگ اسٹیشن لگائیں گے ، کے ایم سی میں پہلے مرحلے میں ڈیلیوری بوائز کو بائیکس دی جارہی ہیںجبکہ پنک بائیکس خواتین افسران کو دی جائیں گی تاکہ انہیں آمدورفت میں آسانی رہے، آئندہ کے ایم سی میں کوئی بھی پیٹرول بائیک نہیں خریدی جائے گی ، تقریب کے دوران میئر کراچی نے کے ایم سی ملازمین کو بائیکس کی چابی دی، اس موقع پرڈپٹی میئر کراچی سلمان عبداللہ مراد، میونسپل کمشنر ایس ایم افضل زیدی، مشیر مالیات گلزار ابڑو، سٹی کونسل میں ڈپٹی پارلیمانی لیڈر دل محمد ، جمن دروان اور دیگر بھی موجود تھے ۔
(جاری ہے)
میئرکراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہاکہ اب سے چند ماہ قبل فیصلہ کیا تھا جہاں جہاں سولر پینل کو استعمال کرنا تھا ،کریں گے،کے ایم سی ملازمین جو موٹر سائیکل استعمال کرتے ہیں ، اس پر ہونے والے پیٹرول کا خرچہ اور ماحول کو مد نظر رکھنا پڑتا ہے اسی لئے بلدیہ عظمیٰ کراچی کی موٹر سائیکلوں کو پیٹرول سے ای وی موٹر سائیکل کی طرف منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ،گلوبل وارمنگ کے مسئلے سے نمٹنے کے لئے ایسے اقدامات سے بہتری آئے گی ، وفاقی حکومت سے چاہوں گا کہ آسان اقساط پر غریبوں کے لئے کوئی اسکیم لائیں ، غریب افراد اس طرح پیسے بچاکر اپنی فیملی پرخرچ کرسکیںگے، انہوں نے کہاکہ کراچی کی تین بڑی شاہراہوں کو سولر پر منتقل کررہے ہیں جن میں شارع فیصل،شاہراہ ایران اور شاہراہ غالب شامل ہے، اسٹریٹ لائٹس کی تین سال تک مینٹی ننس بھی کمپنی کے ذمے ہوگی اور یہ منصوبہ 30 ستمبر تک مکمل ہوجائے گا، چند روز میں آپ کو کام ہوتا ہوا دکھائی دے گا ، میئر کراچی نے کہاکہ اسی حکمت عملی کے تحت کڈنی ہل میں سولر پارک بنایا اور ملیر میں پمپنگ اسٹیشن کو سولرسسٹم پرمنتقل کیاہے، ہمارا ٹارگٹ ہے کہ کے ایم سی کے 14 میں سے پانچ اسپتال سولر سسٹم پر منتقل کرسکیں، ای بائیکس کے لئے بلدیہ عظمیٰ کراچی کی مرکزی عمارت میں چارجنگ اسٹیشن بھی بنا دیا گیا ہے جس کے لئے کراؤن کمپنی کو مبارکباد دینا چاہوں گا ، اس طرح کے چارجنگ پوائنٹس دیگر مقامات پر بھی بنائیں گے ، انہوں نے کہاکہ ان موٹر سائیکلوں کی وارنٹی تین سال کی ہے ، اگر ہم الیکٹرک موٹر سائیکل کا استعمال کرینگے تو کافی حد تک مسائل حل ہوں گے اور اس طرح ہم تمام ملازمین کو ای وی بائیکس کی طرف لا سکتے ہیں ، اگر پرائیوٹ سیکٹر بھی یہ قدم اٹھائے تو شہر کے لئے مفید اور مثبت ثابت ہوگا ، میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہاکہ سیلاب کی صورتحال کے باعث پنجاب کی عوام کے ساتھ دلی ہمدردی ہے ، اللہ ہمارے لوگوں پر رحم کرے ، اس وقت دریائے راوی پرخاصا دباؤہے البتہ سندھ میں اس وقت صورتحال بہتر ہے اور سندھ حکومت نے ہر ممکن انتظامات کئے ہوئے ہیں ، وزیر اعلیٰ سندھ نے حکومتی مشینری کو ضروری احکامات جاری کردیئے ہیں جبکہ تمام اراکین اسمبلی اور وزراء کی بھی ڈیوٹیاں سندھ میں لگادی گئی ہیں ، وزیر آبپاشی خود گراؤنڈ پر موجود ہیں اور تمام صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں ،صبح میری وزیر اعلیٰ سندھ سے بات ہوئی ٹریفک پولیس اور وارڈنز کسی بھی ہنگامی صورتحال میں سڑکوں پر موجود ہونگے ،ہم نے بھی شہر میں بارش کے حوالے سے انتظامات کئے ہوئے ہیں ، تمام نالوں کے چوکنگ پوائنٹس کلیئر کردیے ہیں ، میونسپل سروسز کا بارشوں میں جہاں کردار ہے وہیں سٹی وارڈن کا بھی کردار ہے اور وہ بارشوں میں ٹریفک پولیس کے ساتھ سڑکوں پر موجود ہوں گے ، اس کے علاوہ لوگوں کی سہولت کے لئے اہم شاہراہوں پر کیمپس بھی لگائیں گے ، شہریوں سے کہوں گا کہ بارش میں غیرضروری طورپر باہرنہ نکلیں، ایک سوال پر میئر کراچی نے کہاکہ سرکاری نوکر کو سرکار کی بات ماننا ہوتی ہے ، ہڑتال کرکے کام کرنا حل نہیں، جو کام نہیں کرے گا اسے شوکاز دیں گے، اس کے بعد بھی کام نہیں کرے گا تو نوکری ختم کردیں گے،جو لوگ ملازمت کرتے ہیں ان کا سرکار کے ساتھ تنخواہ کا ایگریمنٹ ہوتا ہے، عباسی شہید اسپتال کو پیروں پر کھڑا کرنا شروع کیا ہے، ڈاکٹرز اور نرسز فرشتہ ہوتے ہیں بائیکاٹ درست نہیں،جائز تنخواہ کسی کی نہیں رکنی چاہیے ، اگر کوئی دوسرا مسئلہ ہے تو میرے پاس آئیں ، پریشر میں آکر تنخواہیںنہیںبڑھانسکتے، انہوں نے کہاکہ شارع فیصل سے ہٹائے جانے والے درخت برنس گارڈن میں موجود ہیں ، ہم سب درخت دوست لوگ ہیں اور ہمیں یہ اچھے لگتے ہیں، میئر کراچی نے کہاکہ کریم آباد انڈر پاس سے پانی نکل چکا ہے ، وہاںگیس اور بجلی کی ایک لائن نکل آئی ہے ، مسائل کی وجہ سے دس بارہ دن اوپر نیچے ہوسکتے ہیں تاہم پوری کوشش ہے کہ 30 ستمبر کو انڈرپاس کاافتتاح کردیں۔
سیلاب کی تباہ کاریاں سے متعلق تازہ ترین معلومات