/ فلسطینی اسرائیل کی دہشت گردی کے ہاتھوں اپنی ہی سر زمین پر قیدیوں جیسی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، مولانا عبدالقادر لونی

ہفتہ 30 اگست 2025 20:45

ؔکوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 30 اگست2025ء) جمعیت علما اسلام نظریاتی پاکستان کے امیر مولانا عبدالقادر لونی مرکزی جنرل سیکرٹری مفتی شفیع الدین مرکزی جوائنٹ سیکرٹری مولانامحمودالحسن قاسمی مرکزی سیکرٹری اطلاعات سید حاجی عبدالستار شاہ چشتی مرکزی سیکرٹری مالیات حاجی حیات اللہ کاکڑ صوبائی امیر خیبر پختونخوا قاضی گل الرحمن نکیال صوبائی امیر پنجاب مولانا ثنااللہ صوبائی امیر سندھ مولانا عزیزاحمد شاہ امروٹی ودیگر نیکہا کہ غزہ میں جاری خوفناک قحط وبحران کیعلاوہ اسرائیل کیجانب ابادیوں کوبلڈوزکرنے پر عالمی اداروں واقوام متحدہ کیخاموشی و کردار شرمناک ہے ہزاروں بچوں اور خواتین نے خوراک کی تلاش میں صہیونی حملوں کا نشانہ بن کر اپنی جانیں گنوا چکے ہیں گزشتہ دو سال سے غزہ نے بدترین انسانی بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے۔

(جاری ہے)

محاصرے نے غزہ کے باسیوں کو مکمل طور پر بے بس کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی آج بھی اسرائیل کی دہشت گردی کے ہاتھوں اپنی ہی سر زمین پر قیدیوں جیسی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اسرائیل نے غزہ کے باسیوں وقت ایک مشکل ترین دور اور ناگفتہ بہہ حالات سے دوچار کیا ہے انسانی حقوق کے نام نہاد عالمی ادارے اور بین الاقوامی برادری خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے انہوں نے کہا کہ فلسطین میں انسانیت تڑپ رہی ہے اسرائیل کا ظلم حد سے بڑھ گیا ہے غزہ پر اسرائیلی فضائیہ کی بمباری اور زمینی فوجوں کی کاروائیاں اور جنگی جرائم کی انتہا کو پہنچ چکی ہے خون زخموں سیلولہان غزہ، بھوک، پیاس اور پناہ کی تلاش میں بھاگتے پھرتے معصوم بچے اور خواتین ان کو نظر نہیں آرہے ہیں نہتے فلسطینیوں کے درد اور تکلیف کی چیخ وپکار سننے والے نہیں ہے انہوں نے کہا کہ فلسطینوں کی نسل کشی پر عالمی برادری کب تک تماشای بن رہے ہیں فلسطین کو میلامیٹ کردیا ہے امریکہ اپنی پروردہ عالمی دہشت گرد اسرائیل کے ذریعے جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں انہوں نے کہا کہ عالم اسلام کے حکمران مسئلہ فلسطین پر دو ٹوک موقف اپنائے اور جاری بحران کی خاتمے کے لیے کردار ادا کرے علاوہ ازیں جمعیت نظریاتی کے رہنماوں نیپنچاب میں سیلابوں سے جانی ومالی نقصانات پرافسوس کااظھارکرتیہوئیکہاکہ حکومت مقامی آبادیوں پہچنے والے نقصانات کی ازالہ اوردیگرمزیدسے آبادیوں کومحفوظ بنانیکی اقدامات کریں۔