قومی و صوبائی اسمبلیوں کی 13نشستوں پر ضمنی انتخابات کیلئے پولنگ کا عمل مکمل ،ووٹوں کی گنتی جاری

پولنگ کا عمل صبح 8بجے شروع ہو کر بغیر کسی وقفے کے شام 5 بجے تک جاری رہا، صبح کے وقت پولنگ کا عمل سست روی کا شکار رہا بعض مقامات پر امیدواروں کے حامیوں میں توں تکرار ،مجموعی طور پر ماحول پر امن رہا ،دھاندلی کے الزامات بھی لگائے جاتے رہے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات ،غیر حتمی غیر سرکاری نتائج سامنے آنے پر امیدوار وںکے حامیوں کے بھنگڑے

اتوار 23 نومبر 2025 20:55

�اہور/فیصل آباد/ساہیوال/ڈی جی خان/میانوالی /مظفر گڑھ /ہری پور ( این این آئی) قومی و صوبائی اسمبلیوں کی 13نشستوں پر ضمنی انتخابات کیلئے پولنگ کا عمل خوش اسلوبی سے مکمل ہو گیا ، پولنگ کا عمل صبح 8بجے شروع ہوا جو بغیر کسی وقفے کے شام 5 بجے تک جاری رہا، بعض مقامات پر امیدواروں کے حامیوں میں توں تکرار ہوئی تاہم مجموعی طور پر ماحول پر امن رہا ،تعطیل کی وجہ سے صبح کے اوقات میں ووٹنگ کی شرح کم رہی تاہم دوپہر کے بعد پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹرز کا رش دیکھنے میں آیا ،قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے کسی بھی نا خوشگوار واقعہ سے نمٹنے کے لئے سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے ،ضمنی انتخابات والے حلقوں میں غیر حتمی و غیرسرکاری نتائج آنے کا سلسلہ رات گئے تک جاری رہا ، ووٹوں کی گنتی کا عمل شروع ہونے کے بعد پولنگ اسٹیشنوں سے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج سامنے آنے پر امیدوار وںکے حامی ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑا ڈالتے رہے ۔

(جاری ہے)

تفصیلات کے مطابق پنجاب میں قومی اسمبلی کے 5، صوبائی اسمبلی کے 7اور خیبر پختوانخواہ میں قومی اسمبلی کے ایک حلقے میں ضمنی انتخابات کے لئے پولنگ ہوئی ،پولنگ کا عمل صبح 8بجے سے شام 5بجے تک بغیر وقفے کے جاری رہا ۔قومی اسمبلی کے 6حلقوں میں این اے 129لاہور،این اے 185ڈی جی خان ،این اے 143ساہیوال ،این اے 104فیصل آباد ،این اے 96فیصل آباد اور این اے 18ہری پور جبکہ صوبائی اسمبلی کے حلقوں میں پی پی 73سرگودھا، پی پی 115فیصل آباد، پی پی 116، پی پی 98، پی پی 87میانوالی، پی پی 269مظفر گڑھ اور پی پی 203ساہیوال پر امیدواروں کے چنائو کے لئے ووٹنگ ہوئی ۔

مجموعی طور پر تمام حلقوں میں ووٹنگ کا عمل بروقت شروع ہوا ، ووٹنگ کے دوران امیدواروں کے نامزد پولنگ ایجنٹس نے فرائض دئیے ، امیدواروں کی جانب سے پولنگ ایجنٹس اور متحرک سپورٹرز کے لئے پر تکلف ناشتے کا اہتمام کیا گیا ، سیاسی جماعتوں کے امیدواروں اور آزاد امیدواروں کو پولنگ اسٹیشنز سے فاصلے پر اپنے کیمپس لگانے کی اجازت دی گئی تھی جہاں سارا دن گہما رہمی رہی ، کیمپوں میں موجود سپورٹرز اور کارکنوںکی قیمے والے ،آلو والے نان ، بریانی اور قورمے سے تواضع کی گئی جبکہ چائے کا دور بھی بلا تعطل چلتا رہا ، حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے کیمپوں میں زیادہ گہما گہمی دیکھنے میں آئی ، ووٹ کاسٹ کرنے کے لئے آنے والے ووٹرز کیمپوں سے اپنے ووٹ کی پرچی بنوانے اورتلاشی کے بعد پولنگ اسٹیشن کے اندر داخل ہوتے رہے ،صبح پولنگ کا آغاز سست روی سے ہوا، بیشتر مقامات پر ووٹ ڈالنے والوں کی بہت کم تعداد پولنگ اسٹیشنز پہنچی تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پولنگ کی رفتار میں کچھ بہتری آئی اور ووٹر ز کی بڑی تعداد نے پولنگ اسٹیشنز پر پہنچنا شروع کیا جس کے باعث قطاریں لگنا شروع ہو گئیں۔

نجی ٹی وی کے مطابق جڑانوالہ میں این اے 96 میں ضمنی انتخاب کے دوران ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی سامنے آئی ہے، مختلف پولنگ اسٹیشنز پر ووٹرز کی ووٹ کاسٹ کرنے کی ویڈیوز منظر عام پر آتی رہیں۔موبائل فون سے ویڈیو بنانے پر صوبائی الیکشن کمشنر نے عملے کو ہدایت کی کہ پولنگ اسٹیشن پر تعینات سکیورٹی اہلکار کسی بھی ووٹر کو پولنگ اسٹیشن میں موبائل فون نہ لے جانے دیں،صوبائی حلقے پی پی 269 گورنمنٹ گرلز ہائی سکول کرم داد پولنگ اسٹیشن میں بدنظمی کا واقعہ سامنے آیا،پیپلز پارٹی کے امیدوار اور آزاد امیدوار کے حامی پولنگ اسٹیشن کے باہر جمع ہو گئے جہاں ان کی پولیس سے تلخ کلامی ہوئی،دونوں امیدواروں کے حامیوں نے ایک دوسرے پر دھاندلی کے الزامات لگائے، اس موقع پر پولیس اور ایلیٹ فورس کی نفری پہنچ گئی جس نے صورتحال پر قابو پایا، جھگڑے کی وجہ سے پولنگ کے عمل میں کچھ دیر کے لئے تعطل آیا تاہم بعد ازاں پولنگ کا عمل دوبارہ شروع ہو گیا۔

دیگر بعض حلقوں میں بھی امیدوار اور ان کے حامی ایک دوسرے پر دھاندلی کے الزامات عائد کرتے رہے ،لاہور کے حلقہ این اے 129 کے ضمنی الیکشن میں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدوار کے حامیوں نے الزام عائد کیا کہ نوناریاں چوک میں انتظامیہ نے ان کے انتخابی کیمپ اکھاڑ دئیے تاہم انتظامیہ کی جانب سے اس کی تردید کی گئی ۔وفاقی وزارت داخلہ کی جانب سے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی درخواست پر فوجی دستوں کی تعیناتی کی گئی،پاک آرمی اور سول آرمڈ فورسز کوبطور کوئیک رسپانس فورس تعینات رکھا گیا ،پاک آرمی اور سول آرمڈ فورسز آج پیر تک سکیورٹی کیلئے تعینات رہیں گی ،علاوہ ازیں پنجاب پولیس کی جانب سے ضمنی انتخابات کے لیے سکیورٹی پر 20ہزار سے زائد پولیس افسران و اہلکار تعینات رکھے گئے ،لاہور:پنجاب کے 12حلقوں میں انتخابات کے دوران مجموعی طورپر 2939پولنگ اسٹیشنزحساس قرار دیئے گئے،کیٹگری اے کے حساس پولنگ اسٹیشنز کی تعداد 441، بی کیٹگری کی1053اور سی کیٹگری کے 1445 پولنگ اسٹیشنز تھے۔

صوبائی الیکشن کمشنر لاہور میں ضمنی انتخابات کو مانیٹر کرنے کے لیے کنٹرول روم قائم کیا گیا، کنٹرول روم کوتمام ضمنی انتخابات کے اضلاع سے منسلک کیا گیا ، کنٹرول روم میں انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے کے اداروں کے نمائندگان بھی موجود رہے اور تمام شکایات کا ازالہ فوری طور پر ممکن بنایا جاتا رہا، صوبائی الیکشن کمشنر خود کنٹرول روم میں موجود رہ کر انتخابی عمل کی مانیٹرنگ کرتے رہے ۔

شام پانچ بجے پولنگ اسٹیشنز کے دروازے بند کر دئیے گئے اور صرف پولنگ اسٹیشنز کے اندر موجود ووٹرز کو حق رائے دہی کی اجازت دی گئی ، ووٹنگ کا عمل مکمل ہونے پر امیدواروں کے پولنگ ایجنٹس کی موجودگی میں ووٹنگ کا عمل شروع کر دیا گیا اور مختلف پولنگ اسٹیشنز سے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج آنے کا سلسلہ شروع ہو ا ، پولنگ اسٹیشنز پر رات گئے تک گنتی کا عمل جاری رہا۔