بھارت عالمی عدالت کے فیصلے اور ورلڈ بینک کی ضمانت کے بعد یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو معطل نہیں کر سکتا، تجزیہ کار، ماہرین

بدھ 4 فروری 2026 21:40

پشاور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 04 فروری2026ء) سال 1947 میں برصغیر کی تقسیم کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کی تقسیم کا معاملہ ایک اہم مسئلے کے طور پر سامنے آیا۔ دونوں ممالک کے درمیان پانی کی تقسیم پر تنازعات بڑھے جس نے دوطرفہ کشیدگی کو ہوا دی اور دونوں ممالک کے درمیان مسلح تصادم ہوئے۔ ان تنازعات کے حل کی کوشش میں 1948 میں دونوں ممالک کے درمیان ایک عارضی معاہدہ ہوا تاہم اس کی کمزور نوعیت نے ایک جامع اور مستقل انتظام کی ضرورت پر زور دیا جس کے نتیجے میں بالآخر 1960 میں سندھ طاس معاہدہ تشکیل پایا۔

سندھ طاس معاہدے پر 19 ستمبر 1960 کو ورلڈ بینک کی سرپرستی میں دستخط ہوئے جو اس معاہدے کے ضامن کے طور پر بھی کام کرتا ہے۔ یہ معاہدہ سندھ بیسن سسٹم کے چھ دریاؤں کی تقسیم کو کنٹرول کرتا ہے جس کے تحت مشرقی دریا یعنی راوی، بیاس اور ستلج بھارت کو دئیے گئے جبکہ پاکستان کو مغربی دریاؤں بشمول سندھ، جہلم اور چناب پر حقوق دئیے گئے۔

(جاری ہے)

معاہدے کے تحت مستقل انڈس کمیشن بھی قائم کیا گیا جس میں دونوں ممالک کے نمائندے شامل ہیں۔

تنازعات کے حل کا ایک تفصیلی طریقہ کار وضع کیا گیا جس میں غیر جانبدار ماہرین اور بین الاقوامی ثالثی شامل ہے۔ یہ ڈھانچہ دونوں ریاستوں کے اس ارادے کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ اختلافات کو پرامن اور قانونی ذرائع سے حل کریں۔ بین الاقوامی قانون کے ماہر بیرسٹر نعمان محب کاکاخیل نے’’ اے پی پی ‘‘سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی دفعات اور بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کے تحت کوئی بھی ریاست یکطرفہ طور پر اس معاہدے کو معطل یا التوا میں نہیں رکھ سکتی۔

انہوں نے کہا کہ اس معاہدے پر عملدرآمد دونوں ممالک پر لازم ہے۔انہوں نے وضاحت کی کہ "لفظ 'التوا' (Abeyance) بین الاقوامی معاہدے کے قانون کے تحت تسلیم شدہ نہیں ہے۔ انہوں نے اسے ایک خود ساختہ اصطلاح قرار دیا، بھارت جانتا ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون کے کسی بھی قاعدے یا اصول کے تحت یکطرفہ طور پر معاہدے کو معطل، خلاف ورزی یا ختم نہیں کر سکتا۔

انہوں نے کہا کہ یہ اصول ویانا کنونشن آن دی لا آف ٹریٹیز میں درج ہیں، جو معاہدوں کی تشکیل، تشریح اور خاتمے کو کنٹرول کرتا ہے۔ ویانا کنونشن کے آرٹیکل 54 کے تحت ایک دوطرفہ معاہدہ صرف اس کی اپنی دفعات کے مطابق یا دونوں فریقوں کی باہمی رضامندی سے ہی ختم کیا جا سکتا ہے۔بیرسٹر نعمان محب کاکاخیل نے کہا کہ چونکہ سندھ طاس معاہدے میں خاتمے کی کوئی شق موجود نہیں ہے، اس لیے بھارت پاکستان کی رضامندی کے بغیر اس سے پیچھے نہیں ہٹ سکتا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ کوئی بھی یکطرفہ کارروائی سنگین سفارتی اور حفاظتی اثرات کا سبب بن سکتی ہے اور روایتی بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہوگی۔ جون 2025 میں ہیگ میں مستقل عدالتِ ثالثی نے فیصلہ دیا کہ بھارت یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو معطل یا التوا میں نہیں رکھ سکتا۔ عدالت نے تصدیق کی کہ معاہدہ نافذ العمل ہے اور اس کے لازمی تنازعات کے حل کے طریقہ کار میں رکاوٹ نہیں ڈالی جا سکتی۔

ورلڈ بینک نے بھی بطور دستخط کنندہ اور ضامن یہ موقف برقرار رکھا ہے کہ باہمی اتفاق کے بغیر معاہدے میں تبدیلی یا اسے معطل نہیں کیا جا سکتا۔ سابق سفیر منظور الحق نے سندھ طاس معاہدے کو ایک دوطرفہ معاہدے سے بڑھ کر قرار دیتے ہوئے اسے قومی سلامتی، معاشی بقا اور پاکستان کی زراعت کے لیے شہ رگ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مغربی دریا یعنی سندھ، جہلم اور چناب پاکستان کی زرعی پیداوار کے لیے ناگزیر ہیں جو غذائی تحفظ اور قومی معیشت کی بنیاد ہیں۔

معاہدے کو معطل یا تبدیل کرنے کی کوئی بھی یکطرفہ کوشش نہ صرف پاکستان کی زراعت کو نقصان پہنچائے گی بلکہ بین الاقوامی سفارت کاری میں ایک خطرناک مثال بھی قائم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ خاتمے کی شق کی عدم موجودگی بھارت کو یکطرفہ دستبرداری سے روکتی ہے اور یہ کہ معاہدے کا تنازعات کے حل کا فریم ورک پانی کے مسئلے پر تصادم کے بجائے بات چیت کو فروغ دیتا ہے۔

سابق سفیر منظور الحق نے خبردار کیا کہ پاکستان کے پانی کے بہاؤ میں رکاوٹ ڈالنے کی کوششوں کو اعلانِ جنگ تصور کیا جائے گا جس سے کسی بھی قسم کی کشیدگی کی ذمہ داری براہِ راست نئی دہلی پر ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے بلاجواز اقدامات نے پہلے ہی بھارت کے بین الاقوامی وقار کو نقصان پہنچایا ہے اور اقوام متحدہ اور ورلڈ بینک سمیت عالمی اداروں کے ساتھ اس کے تعلقات کو متاثر کر سکتے ہیں۔

پشاور یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے سابق چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر عدنان سرور خان نے معاہدے کی تاریخی اور قانونی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ تقسیم کے بعد پانی کے تنازعات کو حل کرنے کی فوری ضرورت کی وجہ سے سامنے آیا۔ انہوں نے کہا کہ ورلڈ بینک کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات ایک تاریخی معاہدے پر ختم ہوئے جو لاکھوں لوگوں کے لیے پانی کے تحفظ کو یقینی بنا رہا ہے اور اب بھی برقرار ہے. ماضی کے تنازعات کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر سرور نے کہا کہ بھارت نے 31 مارچ 1948 کو پاکستان کی طرف دریاؤں کا بہاؤ روک دیا تھا جس کے نتیجے میں احتجاج اور بین الاقوامی مداخلت ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ بعد کے مسائل بشمول سلال ڈیم سے متعلق مسائل معاہدے کے طریقہ کار کے ذریعے حل کیے گئے۔ انہوں نے سخت تشویش کا اظہار کیا کہ بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ کشمیر میں خاص طور پر مغربی دریاؤں پر نئے ڈیموں کے منصوبوں سے پاکستان کے پانی اور زرعی تحفظ کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ڈاکٹر سرور نے اس بات پر زور دیا کہ سندھ طاس معاہدہ پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کی منصفانہ تقسیم کےلیے سب سے قابلِ عمل فریم ورک ہے بشرطیکہ بھارت اپنے وعدوں کا احترام کرے۔

ماہرین نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ علاقائی تعاون کی ایک نایاب کامیابی ہے اور اسے سیاست کی نذر نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس معاہدے کی یکطرفہ معطلی کے جنوبی ایشیا سے باہر بھی دور رس خطرناک نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ ورلڈ بینک سمیت بین الاقوامی طاقتوں کو چاہیے کہ وہ بھارت پر ایسے غیر قانونی اقدام سے باز رہنے کےلیے دباؤ ڈالیں۔ ماہرین نے عالمی برادری، بالخصوص اقوام متحدہ اور ورلڈ بینک پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قانون کی پاسداری کو یقینی بنانے اور اربوں لوگوں کے پائیدار امن، استحکام اور خوشحالی کے فروغ میں فعال کردار ادا کریں۔