معرکہِ حق: پاکستان کی طاقت اور قومی اتحاد کی عکاسی
منگل 28 اپریل 2026 17:34
(جاری ہے)
سابق سفیر منظور الحق نے اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ معرکہِ حق کے دوران قوم کا جذبہ تاریخی تھا۔
یہ دورانیہ قومی سطح پر ایک فیصلہ کن موڑ بن گیا جو نہ صرف فوجی برتری بلکہ ایک ایسے غیر متزلزل عزم اور قومی اتحاد کی عکاسی کرتا ہے جس نے علاقائی بالادستی کے بھارتی فریب کو مٹا کر ان کو آئینہ دیکھا دیا۔ انہوں نے کہا کہ قائداعظم کے اتحاد، ایمان اور تنظیم کے اصولوں کی تعمیل ہوئی۔ سیاستدان، سفارت کار، اساتذہ، طلباء، تاجر، کسان، مزدور اور دانشوروں سمیت زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد حکومت اور مسلح افواج کی حمایت میں کھڑے ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ معرکہِ حق کو نہ صرف بیرونی خطرات کے خلاف ایک اسٹریٹجک اور فوجی جواب کے طور پر یاد رکھا جاتا ہے بلکہ یہ قومی ہم آہنگی، مزاحمت اور تمام خطرات کے خلاف ملک کے وقار اور خودمختاری کے تحفظ کے دیرپا عزم کا ایک طاقتور مظاہرہ ہے۔ پاکستان نے زمین، فضا، سمندر کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی کی جنگ میں بھی دشمن کو شکست دی اور روایتی جنگ میں اپنی برتری ثابت کی۔ پاک فضائیہ نے انتہائی جدید رافیل سمیت متعدد بھارتی جنگی طیارے مار گرائے اور ہماری آرٹلری نے دشمن کی کمر توڑ دی۔ سابقہ فاٹا کے سیکرٹری امن و امان و دفاعی تجزیہ کار بریگیڈیئر (ر) محمود شاہ نے اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے سال 6 اور 7 مئی کو بھارت کے بلا اشتعال میزائل اور ڈرون حملوں پر پاکستان کا ردعمل بھرپور تھا جس نے نہ صرف دشمن کی بندوقیں بلکہ اس کے توپ خانے اور جنگی طیاروں کو بھی خاموش کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس کی حمایت یافتہ ہندوتوا حکومت نے پاکستانی عوام کو دہشت زدہ کرنے کی کوشش کی۔ بھارت کی 'را' نے پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش میں پہلگام میں فالس فلیگ آپریشن رچایا لیکن وہ اپنے ناپاک عزائم میں مکمل طور پر ناکام رہی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور آزاد کشمیر میں خواتین اور بچوں سمیت بے گناہ لوگوں کو شہید کرنے اور سویلین آبادی کے گھروں کو تباہ کرنے کے بعد فاشسٹ مودی حکومت نے بھارت میں اندرونی ناکامیوں اور علیحدگی پسند تحریکوں کے ساتھ ساتھ بھارت کے غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں اور ریاستی دہشت گردی کو چھپانے کی کوشش میں، جہاں لاکھوں کشمیریوں کو جعلی مقابلوں اور ماورائے عدالت قتل کیا گیا، عبادت گاہوں اور عوامی مقامات پر حملہ کرکے ہماری قوم کے وقار کو آزمانے کی کوشش کی۔بریگیڈیئر (ر) محمود شاہ نے کہا کہ معرکہِ حق کے نتائج ہلا دینے والے تھے۔ اس نے جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن بدل دیا، یہ ثابت کر دیا کہ پاکستان فیصلہ کن ضرب لگا سکتا ہے اور متعدد شعبوں میں جارحیت کو روک سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دشمن کے کسی بھی دباؤ کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا اور اپنے صبر و استقلال کو ناقابلِ تسخیر فولاد میں ڈھالنے کے بعد دفاعِ حق میں اٹھ کھڑا ہوا۔ 8 اور 9 مئی 2025 کو پاکستان کی جنگی مشینری حرکت میں آگئی۔پاکستان کی مسلح افواج نے زمین، سمندر، فضا اور سائبر سپیس میں ہم آہنگی پیدا کرتے ہوئے فیصلہ کن وار کی تیاری کی۔ منصوبے بنائے گئے، اہداف نشان زد کیے گئے اور قوم کارروائی کے آغاز کا انتظار کرنے لگی۔ انہوں نے کہا کہ معرکہِ حق نے سول ملٹری ہم آہنگی کی مثال پیش کی جس میں حکومت اور مسلح افواج نے کندھے سے کندھا ملا کر کام کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب مشرقی محاذ دہک رہا تھا، پاکستان نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بھارت کے حمایت یافتہ پراکسیز کا بھی خاتمہ کیا اور ثابت کیا کہ پاکستان غیر متزلزل عزم کے ساتھ متعدد محاذوں پر لڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ 10 مئی 2025 کی تاریخ قوم کی روح میں ہمیشہ کےلیے نقش ہو گئی ہے۔انتہائی درستگی کے ساتھ پاکستان نے آپریشن بنیان مرصوص شروع کیا اور برق رفتاری کے ساتھ بھارت میں اہداف کو نشانہ بنا کر فتح یاب ہوا۔ ایک ہی ناقابلِ تسخیر دن میں بھارتی فوجی تنصیبات کو خاموش کر دیا گیا۔صورت گڑھ، سرسا، سرینگر، جموں اور پٹھان کوٹ کے فضائی اڈے مفلوج ہو گئے، جبکہ بیاس اور نگروٹہ میں براہموس میزائل سائٹس کو تباہ کر دیا گیا۔ یہاں تک کہ آدم پور اور بھج میں موجود نام نہاد S-400 سسٹمز کو بھی ناکارہ بنا دیا گیا جس سے بھارت کی دفاعی ڈھال بے نقاب ہوگئی۔ قوم معرکہِ حق کی کامیابی کو بڑے فخر اور شکر گزاری کے ساتھ منا رہی ہے اور پاکستان کی مسلح افواج اور سیاسی قیادت کی تاریخی کامیابیوں کو سراہ رہی ہے۔ معرکہِ حق پاکستان کی دفاعی تاریخ کا ایک ایسا تاریخی باب ہے جسے ہمیشہ محض ایک فوجی مہم کے طور پر نہیں بلکہ پاکستان کی قوم اور سکیورٹی فورسز کے غیر متزلزل قومی جذبے اور پیشہ ورانہ طرزِ عمل کے اعلان کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ معرکہِ حق اس بات کا ثبوت ہے کہ جب آزمائش آتی ہے تو پاکستانی قوم اپنی سول اور عسکری قیادت کی حمایت میں اتحاد کے ساتھ اٹھتی ہے، نظم و ضبط کے ساتھ لڑتی ہے اور سچائی کے ساتھ غالب آتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ آپریشن بنیان مرصوص کوئی عام لڑائی نہیں تھی۔ پاکستان کے سائبر جنگجوؤں نے بھارتی فوجی نیٹ ورکس میں کامیابی کے ساتھ گھس کر انہیں درہم برہم کر دیا جس سے دشمن کی صفوں میں الجھن اور فالج کی کیفیت پیدا ہوگئی۔ یو اے ویز (UAVs) بے خوفی سے دشمن کی فضاؤں میں، یہاں تک کہ نئی دہلی کے اوپر بھی اڑے جو رسائی اور اعتماد کا ایک دلیرانہ مظاہرہ تھا۔معرکہِ حق صرف گولہ بارود کی جنگ نہیں تھی بلکہ یہ ذہانت، جدت، جنگی مہارت اور جرات کی عکاسی تھی۔ ان تمام دنوں میں قوم ایک ناقابلِ تسخیر قوت بن کر کھڑی رہی۔ نوجوانوں نے للکارا، میڈیا نے استقامت کی پکار بلند کی اور سیاسی قیادت نے مسلح افواج کے ساتھ آہنی اتحاد میں ہاتھ جوڑ لیے۔ اتحاد، ایمان اور تنظیم کا جذبہ محض کوئی نعرہ نہیں تھا یہ ایک زندہ قوت بن گیا اور لوگوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ دیا۔ سفارت کاری تیزی سے عمل میں آئی اور بین الاقوامی سطح پر جنگ بندی کےلیے کوششیں کی گئیں۔ پاکستان نے فیصلہ عمل کی صورت میں لکھا تھا کیونکہ خودمختاری کا دفاع کیا گیا، وقار محفوظ رہا اور جارحیت کو کچل دیا گیا۔ 12 مئی 2025 کو وزیراعظم محمد شہباز شریف نے 10 مئی کو یومِ معرکہِ حق قرار دیا جو قومی یادگار کا دن ہے۔ اسے ملک کے محافظوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے اور شہداء کی قربانیوں کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے جو ہر پاکستانی کی روح میں نقش ہے۔سب سے بڑھ کر معرکہِ حق ایک شاندار اخلاقی فتح تھی۔ اس نے دنیا کو یاد دلایا کہ پاکستان کی استقامت کسی مصلحت سے نہیں بلکہ غیر متزلزل یقین سے پیدا ہوتی ہے۔ اس نے ثابت کیا کہ خودمختاری مقدس ہے اور جب سچائی کا دفاع ہمت کے ساتھ کیا جائے تو وہ ایک ناقابلِ تسخیر قوت بن جاتی ہے۔ یہ فتح علاقائی ہونے سے بڑھ کر تھی یہ کئی معنوں میں روحانی، نفسیاتی اور ابدی بھی تھی۔ کراچی سے خیبر اور چترال سے گوادر تک قوم معرکہِ حق کو بڑے فخر اور شکر گزاری کے ساتھ مناتی ہے۔ 22 اپریل اور 10 مئی 2025 کے درمیان کے دن ہمیشہ محض ایک فوجی مہم کے طور پر نہیں بلکہ پاکستان کے غیر متزلزل جذبے کے اعلان کے طور پر یاد رکھے جائیں گے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جب آزمائش ہوتی ہے تو پاکستان اتحاد کے ساتھ اٹھتا ہے، نظم و ضبط کے ساتھ لڑتا ہے اور سچائی کے ساتھ غالب آتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ایک لڑائی سے بڑھ کر دنیا کےلیے ایک گرجدار پکار تھی جس نے دکھایا کہ پاکستان اپنی خودمختاری کے دفاع، اپنے لوگوں کی حفاظت اور سچائی کو برقرار رکھنے کےلیے تمام طاقت اور صلاحیتیں رکھتا ہے، چاہے قیمت کچھ بھی ہو اور چیلنجز کیسے ہی کیوں نہ ہوں۔ سول سوسائٹی، دانشور اور علاقائی لوگ معرکہِ حق کے شہداء کی رہائش گاہوں پر جا رہے ہیں اور انہیں خراجِ عقیدت پیش کر رہے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں شہداء کے درجات کی بلندی اور پاکستان کی تعمیر و ترقی اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعائیں مانگی جا رہی ہیں۔مزید اہم خبریں
-
پنچائت اور مصالحت ہمارے دینی و سماجی ورثے کا حصہ ہیں، اعظم نذیر تارڑ
-
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیرصدارت اجلاس، آئندہ ہفتوں کے دوران پاکستان کی طے شدہ اعلیٰ سطح کی سفارتی مصروفیات کا جائزہ لیا گیا
-
کسی سرکاری ملازم کو باقاعدہ اور قانونی انکوائری کے بغیر بڑی سزا نہیں دی جاسکتی‘ لاہور ہائیکورٹ
-
ایران میں غیر ملکیوں سے رابطہ عنقریب جرم قرار دیا جا سکتا ہے
-
ججز کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ عدالتی احکامات نافذ ہوں گے یا عدالتیں بند ہوں گی، سہیل آفریدی
-
عمران خان کا بلڈ پریشر 120/80 تھا، ماشاءاللہ فٹ ہیں، ڈاکٹر عظمیٰ خان
-
’اگر آپ نہ ہوتے تو آج میں زندہ نہ ہوتی‘، ٹرمپ کی قریبی معاون نیٹلی ہارپ
-
عمران خان کی بہن کو ہسپتال کے دوسرے کمرے میں بند کیا گیا، محمود اچکزئی کا الزام
-
بھارت میں گریجویٹس کو ملازمتیں کیوں نہیں مل رہیں؟
-
عمران خان کی حالت ٹھیک نہیں، ان کے ساتھ غیر انسانی سلوک ہورہا ہے، ڈاکٹر عظمیٰ خان کا انکشاف
-
دہشت گردی کے واقعات میں شہید ہونے والے معصوم شہریوں، بہادر اہلکاروں کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی،سپیکر قومی اسمبلی
-
عمران خان کو شفا کے بجائے پمز لے جایا گیا، ڈاکٹر عظمیٰ خان نے سارا احوال بتا دیا
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.