Live Updates

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی کا ٹیلی کام مقابلہ جاتی قواعد کو حتمی شکل دینے اور نیٹ ورک بندش کی تحقیقات کی ہدایت

جمعرات 30 اپریل 2026 23:53

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 30 اپریل2026ء) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن نے ٹیلی کام مقابلہ جاتی قواعد کو حتمی شکل دینے اور نیٹ ورک بندش کی تحقیقات کی ہدایت کی ہے۔جمعرات کوکمیٹی کا اجلاس چیئرپرسن سینیٹر پلوشہ محمد زئی خان کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں ضلع لکی مروت میں موبائل سروسز کی مبینہ بندش، ٹیلی کام مقابلہ جاتی قواعد پر پیشرفت، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا عدم تعاون، ایل ڈی آئی/ایل ایف ایف عدالتی مقدمات کی صورتحال، یوفون کی مالی کارکردگی اور بجلی کی بندش کے باعث نیٹ ورک کی خرابی سمیت اہم امور کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں سینیٹر ڈاکٹر افنان اللہ خان، سینیٹر پرویز رشید، سینیٹر سعدیہ عباسی اور سینیٹر سید کاظم علی شاہ نے شرکت کی، جبکہ سینیٹر شہادت اعوان اور سینیٹر عطاء الرحمن نے سوالات کے محرکین کے طور پر شرکت کی۔

(جاری ہے)

ٹیلی کام مقابلہ جاتی قواعد سے متعلق سوال پر کمیٹی کو بتایا گیا کہ مسودہ قواعد 2015 کی پالیسی کے مطابق اور کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان (CCP) سے مشاورت کے بعد تیار کئے گئے اور وزارت آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن کو ارسال کر دیے گئے ہیں، تاہم معاملہ تاحال زیر غور ہے۔

چیئرپرسن نے ان قواعد کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ہدایت کی کہ انہیں ایک ماہ کے اندر حتمی شکل دی جائے۔لکی مروت کی صورتحال پر بحث کرتے ہوئے سینیٹر عطاء الرحمن نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے اس مؤقف کو چیلنج کیا کہ سروسز معطل نہیں کی گئیں۔ کمیٹی نے ٹیلی کام ٹاورز سے ڈیزل، بیٹریوں اور سولر پینلز کی چوری جیسے مسائل کو بھی اجاگر کیا۔

پی ٹی اے نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ سات مقامات پر نیٹ ورک کی صورتحال بہتر ہوئی ہےتاہم لوڈشیڈنگ کے باعث مسائل برقرار ہیں۔ چیئرپرسن نے پی ٹی اے کو ہدایت کی کہ آپریٹرز کے ساتھ مل کر چوری کی روک تھام کو یقینی بنایا جائے اور ایک ذیلی کمیٹی کے قیام سے بھی آگاہ کیا گیا جو نیٹ ورک بندش، موٹر ویز پر بلائنڈ اسپاٹس اور ان کے حل کے لیے سفارشات پیش کرے گی۔

کمیٹی نے وزارت آئی ٹی کو ہدایت کی کہ ملک بھر میں ٹیلی کام انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے کے لیے پاکستان کے سیٹلائٹ نظام کو مزید وسعت دی جائے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ پی ٹی اے لائسنس کی شرائط پر عمل درآمد یقینی بنا رہی ہے تاکہ 95 فیصد ٹاورز کی دستیابی برقرار رکھی جا سکے۔ چیئرپرسن نے آپریٹرز کو سختی سے ان ہدایات پر عمل کرنے اور خصوصاً سندھ اور بلوچستان جیسے کم سہولیات والے علاقوں پر مشتمل تفصیلی رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی۔

سوشل میڈیا کے تعاون کے حوالے سے پی ٹی اے نے بتایا کہ ٹوئٹر/ایکس کی جانب سے ردعمل کی شرح صرف 27 فیصد ہے۔ کمیٹی نے مبینہ جانبدارانہ رویوں پر تشویش کا اظہار کیا اور ایسے واقعات کا حوالہ دیا جہاں مواد کو غیر یکساں طور پر ہٹایا یا برقرار رکھا گیا۔ چیئرپرسن نے اس مسئلے کے حل کے لیے مضبوط ریگولیٹری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔کمیٹی کو اسٹارلنک کی لائسنسنگ کی صورتحال پر بھی بریفنگ دی گئی، جس میں بتایا گیا کہ تاحال کوئی لائسنس جاری نہیں کیا گیا۔

ایل ڈی آئی/ایل ایف ایف لائسنس سے متعلق عدالتی مقدمات کے بارے میں بتایا گیا کہ ایسے تکنیکی نوعیت کے کیسز کے لیے ٹیلی کام ٹریبونلز قائم کیے جا رہے ہیں۔ چیئرپرسن نے اس عمل کو تیز کرنے کی ہدایت دی۔یوفون کی مالی کارکردگی کے حوالے سے کمیٹی کو بتایا گیا کہ ترقی کی رفتار سست ہونے کے باعث نقصانات ہوئے، تاہم حالیہ اسپیکٹرم اپ گریڈیشن میں سرمایہ کاری سے ان نقصانات میں نمایاں کمی آئی ہے۔

واضح کیا گیا کہ یوفون، پی ٹی سی ایل کے تحت ایک کارپوریٹ ادارے کے طور پر کام کرتی ہے اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) کے زیر نگرانی ہے، یہ براہ راست حکومتی ذمہ داری نہیں ہے۔ کمیٹی کو یوفون اور اتصالات کے درمیان 800 ملین ڈالر کے تنازع سے بھی آگاہ کیا گیا۔ چیئرپرسن نے ہدایت کی کہ اس معاملے پر غور کے لیے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کے ساتھ مشترکہ اجلاس منعقد کیا جائے۔
Live پیٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ سے متعلق تازہ ترین معلومات