کراچی پریس کلب میں ‘ دختران کراچی’’ کے زیرِ اہتمام ‘‘کارو کاری: دفن کریں اس رسم کو’’ کے عنوان سے ایک اہم نشست

منگل 5 مئی 2026 18:03

کراچیؑ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 05 مئی2026ء) کراچی پریس کلب میں متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے پلیٹ فارم ‘‘دخترانِ کراچی’’ کے زیرِ اہتمام ‘‘کارو کاری: دفن کریں اس رسم کو’’ کے عنوان سے ایک اہم نشست منعقد ہوئی، جس کی صدارت سینئر مرکزی رہنما نسرین جلیل نے کی۔نشست کے منتظمین میں ایم این اے سبین غوری، ڈاکٹر عبید علی اور عامر صدیقی شامل تھے، جبکہ سینیٹ کی انسانی حقوق کمیٹی کی چیئرپرسن سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری، سینیٹر خالدہ اطیب اور سینیٹر عامر چشتی نے خصوصی شرکت کی۔

اس موقع پر ڈپٹی پارلیمانی لیڈر طٰہٰ احمد، اراکینِ اسمبلی آسیہ اسحاق، بلقیس مختار، سکندرہ خاتون اور کرن کاشف سمیت دیگر سیاسی و سماجی شخصیات بھی موجود تھیں۔اپنے خطاب میں نسرین جلیل نے کہا کہ کاروکاری کوئی روایت نہیں بلکہ انسانیت کا قتل ہے، اور پسماندہ جاگیردارانہ سوچ نے سندھ کو اندھیروں میں دھکیل دیا ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ دیہی علاقوں میں خواتین کو کاروکاری کے نام پر قتل کرنا جاگیردارانہ نظام کی بدترین شکل ہے۔

انہوں نے روبینہ چانڈیو کے کیس اور گزشتہ چار ماہ کے دوران سندھ میں 34 خواتین کے قتل پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ اس فرسودہ رسم کو ہمیشہ کے لیے ختم کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ حق پرست قیادت مظلوم خواتین کے ساتھ کھڑی ہے اور وڈیرہ شاہی نظام کے خلاف ایوان سے سڑکوں تک جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔مقررین نے بلوچستان میں ایک معصوم لڑکی کو زندہ درگور کرنے کے واقعے کی بھی شدید مذمت کی اور کہا کہ اکثر ایسے کیسز میں بااثر افراد کے باعث پولیس اور انتظامیہ مؤثر کارروائی نہیں کر پاتی اور کئی واقعات کی ایف آئی آر بھی درج نہیں ہوتی۔

نشست کے اختتام پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا گیا کہ کاروکاری جیسے جرائم کے خلاف فوری اور مؤثر قانون سازی کی جائے اور ملزمان کو کسی بھی سیاسی دباؤ سے بالاتر ہو کر گرفتار کیا جائے۔ شرکائ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ‘‘دخترانِ کراچی’’ کے پلیٹ فارم سے اس غیر انسانی رسم کے خاتمے تک مہم جاری رکھی جائے گی۔